• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میٹرک امتحانات میں بدانتظامی، کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہوسکا

کراچی (سید محمد عسکری) کراچی کے میٹرک امتحانات میں مبینہ بدانتظامی، امتحانی مراکز کی غیر معمولی تبدیلیوں اور کرپشن کے الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد بھی حکومت سندھ تحقیقاتی کمیٹی کی اہم سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ کر سکی ہے، جس پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے امتحانی عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے ذمہ دار قرار دیے گئے متعدد افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی، معطلی اور بعض معاملات میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے رجوع کرنے کی سفارش کی تھی، تاہم تاحال متعلقہ افسران کے خلاف کوئی نمایاں کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ دوسری جانب محکمہ جامعات و بورڈز کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔حکومت سندھ نے رواں سال اپریل میں کراچی کے ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت ہونے والے میٹرک امتحانات میں بدانتظامی اور امتحانی مراکز کی تبدیلیوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ امتحانات کے آغاز کے بعد متعدد مراکز کی تبدیلی، داخلہ کارڈز کے اجرا میں تاخیر اور انتظامی کمزوریوں پر طلبہ، والدین اور نجی تعلیمی اداروں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امتحانات کے دوران بڑی تعداد میں امتحانی مراکز تبدیل کیے گئے، جس سے امتحانی نظام کی شفافیت اور ساکھ متاثر ہوئی۔ رپورٹ میں چیئرمین بورڈ غلام حسین سہو سمیت بعض اعلیٰ حکام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کی معطلی اور معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو بھیجنے کی سفارش کی گئی تھی۔ رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد چیئرمین بورڈ غلام حسین سہو نے استعفیٰ دے دیا تھا، جسے بعد ازاں حکومت سندھ نے منظور کرتے ہوئے انہیں ان کے اصل محکمے واپس بھیج دیا۔ ذرائع کے مطابق ان کا استعفیٰ معطلی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد دیا گیا تھا۔ اگرچہ حکومت سندھ نے امتحانی بے ضابطگیوں میں ملوث بعض ماتحت افسران کے خلاف ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے چند اہلکاروں کو معطل کیا تھا، تاہم تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے نشاندہی کیے گئے دیگر ذمہ دار افسران بدستور اپنے عہدوں پر کام کر رہے ہیں تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد نہ کیا گیا تو امتحانی نظام میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ رپورٹ کو عوامی سطح پر جاری کیا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔