اسلام آباد (طاہر خلیل، رانا غلام قادر) ایران، امریکا جنگ کے معاشی اثرات سے کمزور طبقات کو بچانے اور معاشرتی طور پر پسماندہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے پیر کو ایوان صدر میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔جس میں ملک کو درپیش معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجزکا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں صورتحال سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی پر اتفاق کیا گیا، 60فیصد سرکاری گاڑیاں فوری بند کرنے کی ہدایت کی، اجلاس میں صوبوں کی مخالفت پر اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا، تیل کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ پر آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی،دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خلیج بحران کے پٹرولیم مصنوعات پر اثر، پاکستان میں موجودہ ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا، اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں،مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،علاوہ ازیں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کرنیوالی کابینہ کمیٹی نےعالمی اتار چڑھاؤ کے باوجود پیٹرولیم ذخائر کومستحکم قرار دیا ہے،سپلائی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، علاو ہ ازیں ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم کی اہم ملاقات ہوئی جس میں قومی سلامتی ،مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیا ل اور خطے کی بدلتی صورتحال کا پاکستان پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو ایوان صدر میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف، وفاقی وزرا ، چاروں صوبوں کے وزائے اعلیٰ ، وزیر اعظم آزاد کشمیر ، ،قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں مہنگائی کے دباؤ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔ تیل و گیس کی سپلائی پر دباؤ کے باوجود ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز مسترد کر دی گئیں۔ کفایت شعاری پالیسی کے تحت سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی کی ہدایت کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وفاق کی جانب سے دو ہفتہ وار چھٹیوں ۔ہفتہ اور اتوار کو ملک گیر سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز پر غور ہوا تاکہ ملک میں تیل کی کھپت کو روکا جاسکے تاہم اس میں بعض شرکاء کی رائے تھی کہ سمارٹ لاک داؤن سے پیداواری سر گرمیاں متاثر ہوں گی اور برآمدات پر منفی اثر پڑیگا۔ صوبوں کی تجویز اسمارٹ لا ک ڈاؤن کی تجویز پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باجود ملک میں تیل کی کھپت میں 25فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ جس پر وزارت اطلاعات سے کہاگیا کہ بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے عوامی شعور کی آگاہی کیلئے منظم مہم چلائے تاکہ لوگ اپنا لائف سٹائل تبدیل کریں ۔صدر مملکت نے عوام کو پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کی ترغیب دینے کی ہدایت بھی دی۔ اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میںچاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کی جانب سے قیمتوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے، ضروری سامان کی دستیابی کو یقینی بنانے اور عوام پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کیلئے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، جس سے ایک مربوط قومی ردعمل کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں یقین دلایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں سے ایندھن کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی اور ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فی الحال ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے جس کے مستقبل کے لیے بھی انتظامات جاری ہیں۔نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی رسائی کے بارے میں آگاہ کیا، جس میں ترکی، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کے ساتھ ساتھ تنازع میں ملوث ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی حالیہ مصروفیات بھی شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بار بار مسترد کیا جا چکا ہے اور کفایت شعاری کے ذریعے بچائے گئے فنڈز کو عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم، اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر داخلہمحسن رضا نقوی، ; قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک، بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ امحمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی، نگراں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد ; وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، فیصل ممتاز راٹھور سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ دریں اثنا صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو یہاں ملاقات کی جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کی بھی موجود تھے۔