• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقبالؔ نے نظم لکھی ’’جبریل و ابلیس‘‘ ۔ جبرائیلؑ نے ایک دن اچانک ابلیس کو دیکھا، خوارو زبوں ۔ ہمدمِ دیرینہ سے بے اختیار انہوں نے یہ کہا:

ہر گھڑی افلاک پہ رہتی ہے تیری گفتگو

کیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفو

شیطان بولا: 

دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر

کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے ، میں کہ تو

گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے

قصہ ء آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو

پھر بے پناہ شیطانی تکبر کے ساتھ اس نے یہ کہا: 

خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا

میرے طوفاں یم بہ یم ، دریا بہ دریا، جو بہ جو

ابلیس کا مدعا دراصل یہی ہے کہ کوئی بھی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اقبال ؔ کے ان اشعارسے متاثر ہو کر اس گئے گزرے کالم نگار نے ایک تحریر لکھی ہے۔

کرہ ارض کو تخلیق ہوئے ساڑھے چار ارب سال گزر چکے تھے ۔ انسانوں کی آخری نسل مگر بدستور قتل و غارت میں مصروف تھی ۔ ایران، یوکرین، غزہ ،ہر کہیں فساد برپا تھا ۔قتل و غارت تو سبھی نے کی لیکن ہومو سیپین نے اس فن کو نکتہ ء عروج پہ پہنچا دیا تھا۔ انہی دنوں زمین کی طرف دیکھتے ہوئے ایک فرشتے نے تاسف سے کہا : انسان نے اس پہ بہت خون بہایا ۔ دوسروں نے تائید کی ۔ اچانک ابلیس کا ذکرہوا۔ نام لینے کی دیر تھی، شیطان وہاں آ ن حاضر ہوا۔ فرشتوں سے کہنے لگا: ایک قتل و غارت گر ، خاک کا ایک پتلا اور مسجودِ ملائک ؟؟؟ اس کی بات ہمدردی سے سنی گئی۔ آسمانوں پر ایک بحث چھڑگئی ۔الٰہیاتی نظام درہم برہم ہو نے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا،جب اچانک ملائیکہ کو خداکے حضور پیش ہونے کا حکم موصول ہوا۔ آسمان کا رنگ سرخ اور خدا غضب ناک تھا ۔ حکم ہوا:شیطان اپنا مقدمہ پیش کرے،انسان اپنا مقدمہ پیش کرے ۔ جب انسانوں کے نمائندے کے طور پر ایک ان پڑھ اور گناہگار بوڑھے خیر بخش کو پیش کیا گیا توشیطان نے قہقہہ لگایا ۔ بولا: میں نے تیرے اتنے پڑھے لکھے جد امجد کو جنت سے نکلوا دیا تھا …

اذن ملتے ہی شیطان آگے بڑھا اور چیختے ہوئے اپنا مقدمہ پیش کیا۔ تخلیق کا ایک ایک پل اسے یاد تھا۔ اس نے وہ لمحہ یاد کرایا، کرہ ء ارض پہ جب پہلا خلیہ پیداہوا ۔سمندری مخلوق، ریپٹائل، میمل، پرائمیٹ ، گریٹ ایپ ،مخلوق سے مخلوق نکلتی رہی۔ ہر ایک قاتل ! شیطان چیخا :  خوراک پہ قتل ،مادہ پہ قتل ، وسائل پہ قتل۔80 لاکھ سال پہلے جب پہلا انسان نما شخص پید اہوا تو قتل وغارت گری نے ایک نیا موڑ لیا۔ پیدائشی جھگڑالو!شیطان چیخ اٹھا۔ابلیس نے ہومو اریکٹس سمیت ہر انسان کی قتل و غارت پہ روشنی ڈالی لیکن جب وہ ہومو سیپین پہ پہنچا تو اس کی زبان جیسے آگ اگلنے لگی۔ہر گناہ کرنے والا ، ہم جنس پرست ، ایٹمی ہتھیاروں والا ۔یہ بنے گا خدا کا نائب ؟ ہونہہ!

شیطان نے مجہول خیر بخش کو ہکا بکا دیکھ کر قہقہہ لگایا۔ اس نے اپنی عبادت ، اپنے علم پہ روشنی ڈالی۔ آخر چیختے ہوئے بحث سمیٹی : تو ثابت ہوا کہ خون بہانے والا نہیں ، خلافت کا حق دار تو میں تھا۔اس نے اپنے سینے پہ ہاتھ مارا۔مخلوقات کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔فرشتوں نے دیکھا، خدابے حد غضب ناک ہو رہا تھا۔زمین کے سارے آتش فشاں پھٹنے کو تھے ۔

حکم ہوا:خیر بخش اپنا مقدمہ پیش کرے ۔ حیرت زدہ بوڑھا سوچتا رہا، لرزتا رہا۔ پھر بہتے ہوئے آنسوئوں کے درمیان بولا تو فقط یہ بولا:   سائیں غلطی تھی گئی اے۔شیطان کی چیخ نکل گئی۔روتے بلکتے خیر بخش نے پھر کہا:غلطی تھی گئی اے ۔اس کی لرزتی ہوئی آوازآسمانوں میں گونج اٹھی ۔مقدمہ پیش کرنے کی بجائے اس نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا۔ آخر آدمؑ کا بیٹا تھا۔باپ پر پوت ،پتا پر گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا!

یکایک آسمان جگمگا اٹھے ۔ خدا مسکرا رہا تھا۔ بس اتنی سی بات تھی۔شیطان بھاگا۔وہ خیر بخش کے کان میں چیخا : معافی نہیں ، مقدمہ ۔آمیں تجھے دلائل مہیا کروں ۔ اس نے جبلت کی خوفناکی بیان کی …یا للعجب، شیطان اب انسان کا وکیل بننا چاہتا تھا۔ اس کے بس میں ہوتا تو منصف بھی خود ہی بن جاتا۔بوڑھے خیر بخش نے آموختہ دہرایا: میڈا سائیں ، غلطی تھی گئی اے ۔ پھر اس نے رو کر کہا : میں اپنڑاں بہوں نقصان کر بیٹھا ہاں۔ فرشتے حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔

بہکا تو بہت بہکا ، سنبھلا تو ولی ٹہرا

اس چاک گریباں کا ہر رنگ نرالا تھا

فرشتوں کو یوں محسوس ہوا، جیسے ایک چھوٹا سا بچہ ماں کی ہدایت نظر انداز کر کے چوٹ لگوا بیٹھا ہو ۔اب زخم دکھاتے ڈر رہا ہو۔فرشتے آپس میں کہنے لگے :خیر بخش کے الفاظ کچھ سنے سنے لگتے ہیں ۔ ایک کہنے لگا: آدمؑ کو جب میں نے زمین پہ اتارا تھا تو یہی کچھ بول رہے تھے : اے ہمارے رب ہم نے خود پہ ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پہ رحم نہ کیا تو ہم نقصان اٹھانے والوںمیں ہو جائیں گے۔  بات وہی تھی:غلطی تھی گئی اے، نقصان کر بیٹھا ہاں !

شیطان کے پاس علم تھا ، عقل تھی ، عبادت تھی ۔آدم اور آدم زاد کے پاس فقط ایک فقرہ

قلندر جُز دو حرفِ لااِلہ کچھ بھی نہیں رکھتا

فقیہِ شہر قاروں ہے لُغَت ہائے حجازی کا

اچانک یونس ؑ کے وہ الفاظ سنائی دیے، جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے :تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو پاک ہے ،بے شک میں نے خود پہ ظلم کیا ۔پھر موسیٰ ؑ کی صدا بلند ہوئی :اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس تو مجھے معاف فرما۔پھرنوح ؑ کی پکار سنائی دی … الفاظ سب کے مختلف ، پیغام بس وہی ایک:غلطی تھی گئی اے، نقصان کر بیٹھا ہاں!

اک نقطے وچ گل مکدی اے۔اک نقطے وچ گل مکدی اے ۔

تے جے نئیں مکانی تے شیطان ورگوں ٹپدے پھرو!

تازہ ترین