ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ میں یوٹیوب پر عالمی اور سیاسی تجزیہ نگاری کرنا چاہتا ہوں، خبر بریک کرنا چاہتا ہوں،کوئی مشورہ دیں کہ تحقیقی مواد کیسے حاصل کروں۔پیارے بھائی پہلے تو مبارکباد قبول فرمائیں کہ آپ نے بروقت اور بہترین فیصلہ کیا ہے۔لیکن حیرت ہے یہ آپ تحقیق وغیرہ کے چکروں میں کیوں پڑ گئے۔عزت کمانی ہے یاڈالر؟ بسمہ اللہ کرکے چینل کا آغاز کریں اور ہر خبر کا الٹ ورژن پیش کرتے جائیں مثلاً اگر پتہ چلے کہ جنگ کے دوران میزائل چل رہے ہیں تو آپ کی خبر کا لیول اونچا ہونا چاہیے، آپ ایٹم بم چلوائیں۔ ساتھ’ایک انگریزی اخبارکے مطابق یا ایک امریکی تجزیہ نگار کے مطابق‘ بھی کہتے جائیں خبر کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔تجزیے میں کچھ ایسا ضرور کہیں جس میں کسی خاص مدت کا ذکر ہو۔مثلاً ’اگلے اڑتالیس گھنٹے اہم ہیں‘ اگلے مہینے کی پانچ تاریخ تک سب کچھ بدل جائے گاوغیرہ وغیرہ۔اگلا مرحلہ تھمب نیل کا ہے۔ تھمب ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی سکرول نہ کرسکے۔اس میں بھی کسی اور جگہ کی خبر میں دیسی ٹچ شامل کرکے سسپنس ڈال دیں۔مثلاً کسی دورافتادہ غیر اہم ملک کاوزیراعظم مرجائے تو موٹی سی سرخی جمائیں ’وزیراعظم انتقال کرگئے.. ... اناللہ وانا الیہ راجعون‘۔یقینا ًجولوگ کلک کرکے آپ کی خبر سنیں گے وہ نہایت ادب سے کچھ دشنام طرازی بھی کریں گے لیکن آپ نے بے مزا نہیں ہونا۔گالیاں آئیں گی تو آپ کی وڈیو کے کمنٹس بڑھیں گے، Reachکھلے گی، زیادہ ویوز آئیں گے، زیادہ ڈالر ملیں گے۔آخری بات....تجزیہ کرتے وقت کسی بھی بات کوفوراً بیان نہیں کرنا۔ ہردو منٹ بعد کہتے رہیں کہ ’وڈیو آخر تک دیکھئے گا کیونکہ آگے جو میں بتانے والا ہوں وہ سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے‘۔اختتام پر ہوش اڑانے والا جھوٹ تیار رکھیں لیکن یہ جھوٹ ایسا ہو کہ پکڑا نہ جاسکے مثلاً’ایک بہت بڑے ملک کے صدر نے خود کشی کی کوشش کی ہے، ان کی حالت بہت سیرئس ہے لیکن یہ خبر کسی کو نہیں بتائی جارہی۔‘ ویورزسمجھدار ہیں، نہیں پوچھیں گے کہ جب خبر کسی کو نہیں بتائی جارہی تو آپ کو گھر بیٹھے کیسے پتا چل گئی ہے بلکہ اس کے برعکس خبر پرصدق دل سے ایمان لائیں گے اوراپنی اپنی مرض کاملک اور صدر خود سے سوچ لیں گے۔
٭ ٭ ٭
آپ نے غور کیا ہے کچھ خطرناک تہوار یا رواج خودبخود ختم ہوگئے ہیں یا بہت کم ہوگئے ہیں۔ ’شبرات‘کو آتش بازی اور پٹاخے اب نہیں چلتے۔ پابندی تو پہلے بھی تھی لیکن لڑکے بالے گلی محلوں میں شوق پورا کرلیا کرتے تھے۔اسی طرح جھوٹ بولنے کا عالمی دن’اپریل فول‘ بھی لگ بھگ ختم ہوگیا ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دور تھا جب یکم اپریل سے پہلے لوگ ایک دوسرے کو احتیاطاً آگاہ کردیا کرتے تھے کہ کل کوئی انہونی خبر سنائے تو فوراً یقین مت کرلینا۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ پہلے صحافت ایک مقدس پیشہ کہلاتی تھی۔صحافی کو لگ بھگ جاسو س سمجھا جاتا تھا جو اندر کی خبر نکال کر لے آتا تھا۔ صحافی کیلئے ادیب ہونا ضروری تھا تاکہ وہ زبان و بیان کے تقاضوں سے واقف ہو۔ یہ تینوں چیزیں ایک مختلف اور زیادہ بھیانک شکل میں سامنے آئی ہیں۔آتش بازی اب آتش زدگی اور پٹاخے بم کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ایک دن کی ’شبرات‘ کے پٹاخے پورے سال کے دھماکوں میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
اپریل فول اب ہر سوشل میڈیا پر شفٹ ہوچکا ہے اور روزانہ دھڑلے سے منایا جاتاہے۔غلط بیانی اور جھوٹ کی یلغار کا یہ عالم ہے کہ ایک جھوٹ کی تحقیق میں پڑیں تو پانچ سو مزید جھوٹ اچھل کر سکرین پر آجاتے ہیں اورجب سے دھڑا دھڑ نیوز بیسڈیوٹیوب چینل بننے لگے ہیں صحافت مقدس پیشے سے صرف پیشہ بنتی جارہی ہے۔میں تو سوچتا ہوں کہ چودہ پندرہ سال کی تاریخ پرآج تک لوگوں کا اختلاف ہے جب نہ کیمرہ تھا، نہ موبائل، نہ اخبا ر، نہ ریڈیو، نہ ٹی وی۔ لیکن آج تو یہ سب کچھ ہے۔تو کیا آج کسی ایک واقعے پر سب لوگ متفق ہیں؟ ڈیڑھ سو بندے ایک ہی واقعے کو دیکھتے ہیں اور سب کی رائے اتنی مختلف ہوجاتی ہے کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ حقیقت کن خرافات میں کھو گئی ہے۔
٭ ٭ ٭
ایک ذہنی مریض نے ایمبولینس چرا لی.... باقی کی ساری خبر آپ نے سن ہی لی ہوگی۔ویوز کے بھوکے یوٹیوبر ز نے بھاگم بھاگ انٹرویو کیے، پاگل پاگل کی تکرار کی اور وڈیو اپ لوڈ کر دی۔ کچھ یوٹیوبرجب اس مسکین بزرگ سے بات کر رہے تھے تو پتا چلانا مشکل تھا کہ دونوں میں سے ذہنی مریض کون ہے۔
پاگل کا لفظ گالی ہے۔لوگوں کو اندازہ نہیں کہ جن کے گھر ذہنی مریض ہوتے ہیں وہ اس لفظ کو سن کر کس اذیت سے گزرتے ہیں۔ ہمارے ہاں سپیشل پرسن کا لفظ چند پڑھے لکھوں کو ہی آتاہے ورنہ جسمانی معذور کیلئے لولا، لنگڑا، اندھا، ٹنڈا جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور ذہنی مریضوں کیلئے ایک ہی لفظ’پاگل‘۔ آپ کبھی کسی فاؤنٹین ہاؤس جیسے ذہنی امراض کے ادارے میں جاکر دیکھئے آپ کو لگے گا کہ سلاخوں کے اندر قید یہاں کے سارے مریض تو نارمل ہیں۔ یہ معصوم سی باتیں کرتے نظرآتے ہیں۔ہنستے ہیں، گانے گاتے ہیں۔
یہ کسی کے خلاف سازشیں نہیں کرتے، ان کے اندر منافقت نہیں ہوتی، دونمبری نہیں کرتے۔سوتے ہیں کھاتے ہیں کھیلتے ہیں اور اسی میں خوش رہتے ہیں۔ اصل ذہنی مریض تو اس عمارت کی چار دیواری کے باہر ہیں جو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں، لاشوں کا کاروبار کرتے ہیں اور قبروں کو بھی نہیں بخشتے لیکن نارمل کہلاتے ہیں۔یہی نارمل لوگ کبھی مذہب اور کبھی زبان کے نام پر مغلظات اگلتے ہیں۔ان کی تقریریں سنیں تو آنکھیں سرخ، گلا پھولا ہوا اور آواز میں غراہٹ ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی یہ نارمل سمجھے جاتے ہیں۔اندروالے اچھے ہیں جو باہر والے خونخوار نارمل لوگوں سے بچنےکیلئےسلاخوں کے پیچھے رہتے ہیں۔اُن کی نظر سے دیکھیں تو سلاخوں میں تو ہم قید ہیں۔بس ذرا جگہ بہت کھلی ہے۔