2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد پیش آنے والے قانونی تنازعات کے پس منظر میں پاکستان ایک سلسلہ وار سیاسی اور سماجی ہلچل سے گزرا ہے، جسے ناقدین اور ریاستی ادارے قومی استحکام کے لیے نہایت نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔ اس تناظر میں 9 مئی 2023 کے واقعات ایک مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں عسکری قیادت نے ملکی تاریخ کا ’’یومِ سیاہ‘‘ قرار دیا۔ ان ہنگاموں کے دوران مظاہرین نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز اور لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کو نشانہ بنایا، جبکہ ان یادگاروں کی بھی بے حرمتی کی گئی جو ان شہداء کے نام سے منسوب تھیں جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں۔ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نذرِ آتش کرنے جیسے اقدامات کے بعد حکومت نے ان واقعات کو بغاوت کی کوشش قرار دیتے ہوئے آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کیے۔ لیکن بانی پاکستان تحریک انصاف کو یہ گمان تھا کہ ان کی پارٹی خصوصاً خیبر پختونخوا چیپٹر، اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ افغانستان سے درآمد کئے گئے دہشتگردوں کی معاونت سے انہیں جیل سے نکلوانے کی قدرت رکھتے ہیں لیکن نتائج اس کے برعکس ظاہر ہوئے اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی قیادت نے آنے والے خطرات کو بھانپتے ہوئے پارٹی کے معاملات سے پہلو تہی اختیار کرنا شروع کردی جس کے بعد پارٹی بڑی سرعت کے ساتھ دم توڑنے لگی اور بعض مقامات پارٹی کا نام و نشان تک مٹ گیا اور اس کا نام لیوا بھی کوئی نہیں رہا- یہ عمل کوئی خوش کن نہیں بلکہ سنجیدہ سیاستدانوں کے لئے عبرت کا علامت ہے کہ فرعونیت اور تکبر کے علاوہ جھوٹ کی بنیاد پر عوام کو زیادہ دیر تک بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا- اور ناقدین کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی برائیوں کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن ایسی کوئی خوبی نہیں جس پر قوم فخر کر سکے بلکہ ناقدین تو اس حد تک قرار دیتے ہیں کہ عمران خان کا ماضی سیاہ ابواب سے بھرا پڑا ہے تشدد ان کی سیاست کی بنیاد ہے- محض جسمانی تشدد ہی نہیں، بلکہ ریاست عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کو ایک سیاسی حربے کے طور پر اختیار کرنے کی روایت کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کی جڑیں 2014 کے دھرنے تک جاتی ہیں، جب انہوں نے عوام کو یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی روکنے کی ترغیب دی اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کو ہنڈی و حوالہ جیسے غیر قانونی ذرائع سے رقوم بھیجنے کا مشورہ دیا تاکہ ریاستی بینکاری نظام کو بائی پاس کیا جا سکے۔ یہ طرزِ بیان 2024 سے 2026 کے عرصے میں بھی برقرار رہا، جہاں مخصوص سیاسی مطالبات کی عدم تکمیل کی صورت میں ملک گیر نافرمانی کی تحریکوں کی دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ یہاں تک چند روزہ اقتدار کے دوران صلح جوئی کی سیاست کی بجائے نفرت، انتقام اور گالی کا کلچر متعارف کرایا، جلسوں میں سیاسی مخالفین، جنہیں جھوٹے مقدمات میں جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا تھا، ان کی قانونی سہولیات واپس لینے والا عمران خان آج انسانی حقوق کی بات کرتا ہے اور عدالتوں سے پرتعیش سہولتیں حاصل کرنے کے غیر قانونی عمل کو جائز قرار دے رہا ہے جبکہ عمران خان کے دور اقتدار میں کسی عدالت کو اپوزیشن کی بات سننے کی اجازت بھی نہیں تھی-تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں تحریک طالبان پاکستان کے ہزاروں جنگجوؤں کی دوبارہ آبادکاری کے حوالے سے بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ موجودہ حکام کے مطابق ان عناصر کو قبائلی علاقوں میں واپسی کی اجازت دینا شدت پسندوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کے مترادف تھا، جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی اور خیبر پختونخوا میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس داخلی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے، خصوصاً سائفر کیس کے حوالے سے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی سازش کے بیانیے نے پاکستان کے خفیہ سفارتی رموز کو متاثر کیا اور امریکہ کے ساتھ اہم تعلقات میں کشیدگی پیدا کی۔ریاست تحریک انصاف کی جانب سے بین الاقوامی لابنگ فرموں اور سوشل میڈیا مہمات کے استعمال کو بھی’’ڈیجیٹل دہشت گردی‘‘ قرار دیتی ہے، جس کا مقصد عوام اور مسلح افواج کے درمیان خلیج پیدا کرنا بتایا جاتا ہے۔ معاشی محاذ پر ناقدین کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے آخری دور میں آئی ایم ایف معاہدوں کی خلاف ورزی نے ملک کو دیوالیہ پن کے خطرے سے دوچار کیا۔ مختلف احتجاجی مارچز کے دوران عدلیہ اور عسکری قیادت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانا بھی ریاست کے نزدیک آئینی ستونوں کو کمزور کرنے اور پاکستان کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہےملک دشمنی میں اس حد تک آگے بڑھ جانا کہ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ کل کا قومی ہیرو آج بھارت اور اسرائیل سمیت دشمن ممالک کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے اور انہی کے دئیے ہوئے ایجنڈے کی تکمیل کر رہا ہے۔