ذرا سوچیں، جن لوگوں نے آپ کے دل کو گہرے زخم دیے…جنہوں نے آپ کی انا کو بار بار ٹھیس پہنچائی، آپ کی زندگی کو ایک چلتا ہوا عذاب بنا دیا، کیا انہیں معاف کیا جاسکتا ہے؟
معاف کرنا بظاہر آسان نہیں ہوتا۔ دل ضد کرتا ہے، روکتا بھی ہے اور تھکتا بھی ہے، جسے زخم بولتے ہیں، آنکھیں گواہی دیتی ہیں کہ تکلیف سچی تھی۔
مگر جب انسان اپنے سارے گلے شکوے، اپنے سارے زخم، اپنی پوری تلخی، اپنی تکلیف، اپنا غصہ، اپنی ٹوٹ پھوٹ سب کچھ اپنے رب کے حوالے کر دیتا ہے…اور خالص اللہ کی رضا کے لیے دل سے کہہ دیتا ہے:
’’اے رب! میں تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔۔۔‘‘
تب دل کے اندر ایک ایسا سکون اُترتا ہے، جو لفظوں میں قید ہی نہیں ہو سکتا، ایک ایسا نور، ایک ایسی ٹھنڈک، ایک ایسی راحت، جو انسان کو اندر سے ہلکا کر دیتی ہے۔ اور یہ بات میں صرف لفاظی کے طور پر نہیں، اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہی ہوں۔
مجھے بھی کئی سال لگے، خود کو سمجھانے میں، اپنے دل کو منانے میں، اور اُن لوگوں کو معاف کرنے میں جنہوں نے میری زندگی کو مشکل بنایا تھا۔ جن کے بارے میں میں نے سوچا تھا کہ مرتے دم تک معاف نہیں کروں گی ،مگر یقین جانیں، جس دن میں نے سچ میں معاف کر دیا، اللہ نے میرے دل میں ایسا سکون اتارا، جو آج تک کبھی محسوس نہیں ہوا تھا۔
وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ بن گیا۔ معافی دراصل دوسرے کو آزاد نہیں کرتی تو آپ کو آزاد کرتی ہے۔ دروازہ دوسروں کے لیے نہیں، آپ کے اپنے دل کے لیے کھلتا ہے، جس کے بعد اللہ وہ سکون عطا کرتا ہے، جو ساری دنیا بھی چاہے تو نہیں چھین سکتی۔ خود کو آزاد کریں، مسکرائیں، کھل کر جییں۔