سندھ کی دھرتی ہمیشہ سے اپنی تہذیب، تمدن، روایات، رواداری، امن پسندی اور محبت کے لیے پہچانی جاتی ہے۔ اس دھرتی پر بسنے والی عورت نہ صرف گھر کی بنیاد ہے، بلکہ معاشرتی اور ثقافتی ڈھانچے کی بھی روح ہے۔ سندھی عورت صدیوں سے قربانی، محبت، محنت، برداشت اور ایثار کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہ ایک ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں اپنی ذمہ داریاں نہایت خاموشی اور خلوص سے ادا کرتی آئی ہے۔
سندھی سماج کا شمار دنیا کے قدیم اور ثقافتی طور پر خوش حال معاشروں میں ہوتا ہے۔ اس سماج میں عورت کی حیثیت اور اہمیت کو مختلف ادوار میں مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے۔ اگر ہم سندھ کی قدیم تہذیب سے آغاز کریں تو ہمیں عورت کا کردار محض گھریلو زندگی تک محدود نہیں، بلکہ سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
سندھ کا معاشرہ روایات، رسم و رواج، صوفیانہ اقدار، زرعی طرز حیات اور قبائلی ڈھانچوں پر مشتمل ہے۔ ان تمام پہلوؤں میں عورت کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے۔ کبھی وہ ماں کی صورت میں تقدیس کا استعارہ بنی، کبھی بہن اور بیٹی کے روپ میں غیرت اور محبت کا نشان سمجھی گئی تو کبھی بیوی کے طور پر خاندان اور گھرانے کی بنیاد بنی۔
وادی مہران کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق اس تہذیب میں عورت کو نہ صرف گھر کی زینت، بلکہ پیداواری سرگرمیوں میں بھی شریک سمجھا جاتا تھا۔ مٹی کے برتن، مجسمے اور تصویریں اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عورت کی حیثیت کھیتوں میں محنت کرنے والی، دستکاری کرنے والی اور خاندان کے وجود کو قائم رکھنے والی شخصیت کے طور پر مسلم تھی۔
اسلام کی آمد کے بعد سندھ میں عورت کی حیثیت کو مزید تقدیس ملی۔ جب محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا تو اس وقت بھی عورت کو خاندان کی عزت کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اسلامی تعلیمات نے عورت کو وراثت، تعلیم سے نوازا۔ سندھ میں اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ عورت کے لیے احترام میں اضافہ ہوا۔
صوفیائے کرام کی تعلیمات میں عورت کو ایک اعلیٰ مقام حاصل رہا ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی شاعری میں عورت ایک مرکزی کردار کے طور پر ابھرتی ہے۔ ان کی شاعری میں ماروی، مومل، سورٹھ وغیرہ عورت کی جرات، صبر، محبت اور قربانی کے استعارے ہیں۔
سندھی معاشرے میں عورت کو خاندان کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ وہ گھر کی ذمے داریاں سنبھالنے، بچوں کی تربیت کرنے اور رشتوں کو جوڑنے والی ہستی ہے۔ دیہی علاقوں میں عورت کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہے۔ فصلوں کی کاشت سے لے کر کٹائی تک عورت کی محنت نظر آتی ہے۔ وہ مویشی پالتی ہے، دودھ دوہتی ہے، روایتی دستکاری میں حصہ لیتی اور گھریلو ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں بھی مددگار بنتی ہے۔
جدید دور میں سندھی عورت کی معیشت میں شمولیت ایک اہم تبدیلی ہے۔ اجرک، رتی، ٹوپی، کھیس، کشیدہ کاری اور دیگر دستکاریاں عورت کی معاشی پہچان ہیں۔ عالمی منڈی میں یہ مصنوعات سندھی ثقافت کی نمائندہ ہیں۔ این جی اوز اور حکومتی منصوبے دیہی عورت کی ہنرمندی کو معاشی فائدہ پہنچانے میں بڑی مدد دے رہے ہیں۔ شہری سندھی عورت نے بینکنگ، آئی ٹی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ آج کی سندھ عورت محض گھر تک محدود نہیں، بلکہ وہ اپنی محنت سے خاندان اورمعیشت کو سہارا دے رہی ہے۔
سندھی ادب میں عورت کا تصور نہایت بھرپور اور متنوع ہے۔ شاہ لطیف کی شاعری میں عورت کی وفاداری، جدوجہد اور قربانی کو امر کردیا گیا ہے۔ سسی پنوں کی داستان میں سسی کی جرات اور محبت کو دکھایا گیا ہے، جو اپنے محبوب کی تلاش میں صحراؤں اور جنگلوں کی خاک چھانتی ہے۔ ماروی اپنے وطن اور مٹی سے محبت کی علامت ہے جو بادشاہ کی قید کے باوجود اپنی دھرتی کو نہیں بھولتی۔
ان کرداروں نے سندھی عورت کی عظمت اور وقار کو بہت اجاگر کیا ہے۔ شاہ لطیف کے علاوہ سندھ کے صوفیائے کرام نے عورت کو روحانی سفر میں ایک خاص مقام دیا ہے۔ ان کے نزدیک عورت محض حیاتیاتی وجود نہیں، بلکہ روحانی ارتقا کی علامت ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں عورت کو روحانی تلاش، محبت اور صبر کا استعارہ بنایا ہے۔
ان کے نزدیک عورت وہ ہستی ہے جو قربانی دے کر انسانیت اور محبت کو قائم رکھتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھی صوفیانہ روایت میں عورت کو محض کمزور یا محدود نہیں، بلکہ ایک فعال اور جرات مند وجود کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح جدید سندھی شعر و ادب میں بھی عورت کی تعلیم، جدوجہد، سیاسی کردار اور سماجی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ادب میں عورت کا کردار نہایت نمایاں ہے۔ وہ شاعرہ، افسانہ نگار، ناول نگار اور محقق کے طور پر سامنے آئی ہے۔ وہ اپنے قلم سے نہ صرف عورت کے مسائل بیان کررہی ہے بلکہ سماج میں بیداری بھی پیدا کررہی ہے۔
فنون لطیفہ میں خواتین گلوکاری، مصوری، ڈرامہ تھیٹر اور فلم کے میدانوں میں نمایاں ہیں۔ یہ ترقی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جدید دور نے عورت کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ شعر و ادب کے علاوہ میڈیا کے انقلاب نے سندھی عورت کو اپنی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم دیا ہے۔
اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر خواتین صحافی، اینکر، رپورٹر کے طور پر بے حد سرگرم ہیں۔ سوشل میڈیا نے سندھی عورت کو اپنی رائے کے اظہار اور حقوق کے لیے مہم چلانے کا نیا ذریعہ دیا ہے۔ آج کی سندھی عورت نہ صرف اپنی کہانی خود لکھ رہی ہے، بلکہ اسے دنیا تک پہنچانے کے لیے جدید ذرائع استعمال کررہی ہے۔
سندھ کی سیاست میں عورت کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو تک عورتوں نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو دنیا کی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم بنیں، جو سندھ دھرتی کی بیٹی تھیں۔ آج بھی سندھ اسمبلی اور قومی سیاست میں کئی سندھی خواتین اپنی صلاحیتوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔
جدید دور میں تعلیم کو بنیادی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں جیسے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ میں عورت نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، سائنسدان، وکیل، ماہر معاشیات، صحافی اور بیورو کریٹ کے طور پر وہ ابھر رہی ہے، لیکن دیہی سندھ کی عورت ابھی بھی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہے۔ اسکولوں کی کمی، فرسودہ رسوم اور جلد شادی جیسے مسائل لڑکیوں کی تعلیم میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کے باوجود بھی دیہی عورت تعلیم کی خواہش رکھتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ رکاوٹیں ٹوٹ رہی ہیں۔
دیہی سندھ میں عورت کی زندگی مشکلات اور جدوجہد سے بھرپور ہے۔ وہ صبح سویرے اٹھتی ہے، گھر کے کام کاج کے ساتھ کھیتوں میں مردوں کے ساتھ کام کرتی ہے، مویشی سنبھالتی ہے اور بچوں کی تربیت بھی کرتی ہے، باوجود اس کے کہ وہ اتنی ذمہ داریاں اٹھاتی ہے، مگر اکثر اوقات اسے بنیادی حقوق جیسے تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں، دیہی عورت محنت اور قربانی کی علامت ہے، مگر سماج میں اس کی حیثیت کو وہ مقام نہیں دیا گیا، جس کی وہ حق دار ہے۔
غربت، ناخواندگی، صحت کی سہولتوں کی کمی، قبائلی نظام اور فرسودہ رسوم جیسے کاروکاری اور ونی آج بھی دیہی عورت کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم جدید دور میں این جی اوز، تعلیمی اداروں اور میڈیا نے سندھی عورت کو بیداری اور حقوق کے لیے جدوجہد کا حوصلہ دیا ہے۔ اس کے برعکس شہری سندھ میں سندھی عورت ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے اور اس کی حیثیت نسبتاً بہتر ہے۔
وہ تعلیم حاصل کرتی ہے، ملازمت کرتی ہے، کاروبار کرتی ہے، سیاست اور سماجی کاموں میں حصہ لیتی ہے۔ سندھ کے بڑے شہروں میں سندھی خواتین اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی اور وکیل کے طور پر نمایاں کردار ادا کررہی ہیں۔ شہری سندھ کی عورت نسبتاً زیادہ بااختیار ہے، مگر اسے بھی پدر شاہی رویوں اور سماجی دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔
صحت کے حوالے سے بھی انہیں کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ زچہ و بچہ کے مراکز کی سہولتیں دیہی سندھ میں ناکافی ہیں۔ جدید دور میں حکومت اور سماجی ادارے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مگر ابھی بھی بہت کام باقی ہے۔ شہری علاقوں میں صحت کی سہولیات تک زیادہ رسائی رکھتی ہے، لیکن دیہی علاقوں میں صورت حال مختلف ہے۔
دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں کے ساتھ سندھی سماج بھی ایک ارتقائی سفر سے گزر رہا ہے۔ جدید دور میں جہاں ٹیکنالوجی، تعلیم، معیشت اور سیاست کے نئے دروازے کھلے ہیں، وہاں عورت کی حیثیت بھی بدل کر سامنے آئی ہے۔ ماضی میں جس عورت کو صرف گھر کی چار دیواری تک محدود سمجھا جاتا تھا، آج وہ تعلیم یافتہ، باشعور، سیاسی طور پر فعال اور معاشی سرگرمیوں میں نمایاں ہے۔
مگر اس ترقی کے ساتھ ساتھ مسائل اور چیلنجز بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔ پھر بھی سندھی عورت نے ہمت نہیں ہاری، وہ تعلیم حاصل کررہی ہے، سماجی کاموں میں حصہ لے رہی ہے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کررہی ہے۔
سندھی سماج میں عورت کی اہمیت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے، بنیای سہولتیں فراہم کی جائیں اور پدر شاہی نظام کو بدلنے کی کوشش کی جائے، اگراسے اس کے جائز حقوق دیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
قدیم دور سے لے کر جدید دور تک سندھی عورت محبت، قربانی، جدوجہد اور وقار کی علامت رہی ہے۔ وہ ماں کے روپ میں نسلوں کی پرورش کرتی ہے، بہن اور بیٹی کے طور پر خاندان کو جوڑتی ہے، بیوی کے طور پر خاندان کی بنیاد بنتی ہے اور فرد کے طور پر سماج کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔
ادب، صوفیانہ روایت، سیاست، معیشت اور معاشرت کے ہر پہلو میں عورت کی موجودگی اور کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سندھی سماج کی اصل روح سندھی عورت کی قربانی، محبت اور ہمت سے عبارت ہے۔ مستقبل میں اگر اسے مزید تعلیم اور سہولیات فراہم کی جائیں، تو وہ پورے معاشرے کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرسکتی ہے۔
سندھی عورت جدید دور میں ایک نئی پہچان کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ وہ ماضی کی طرح صبر و قربانی کی علامت تو ہے ہی، لیکن ساتھ ہی تعلیم، شعور، فنون، معیشت اور سیاست کی فعال شریک بھی ہے۔ اگرچہ اسے کئی مسائل کا سامنا ہے، مگر وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑی ہے، وہ اپنی ثقافت کی وارث، اپنی شناخت کی محافظ اور مستقبل کی تعمیر کی معمار ہے۔