روبینہ یوسف
سورج کی ہر کرن اس وقت تک بصارت سے محروم ہے جب تک ہم اپنی بصیرت کی آنکھیں نہ کھولیں۔ نیا سال عورتوں کے لیے اپنے جلو میں کیا کیا فکر انگیز حکایات لے کر آیا ہے؟ صنفِ نازک کی شناخت اب صرف رشتوں کے تقدس اور اپنے احساسات و جذبات کی قربانی تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اسے خود ایک ایسا سورج بن کر اُبھرنا ہوگاہے جو ریگزارِ زار ہستی کے اندھیرے راستوں کو منور کر دے۔ برسوں پرانا ملگجا آئینہ بدلیں۔
اپنا چہرہ اور نگاہ نئے زاویے میں ڈھالیں۔ آپ کا رویہ آپ کی راہیں متعین کرتا ہے۔ آپ کا انتخاب آپ کی شخصیت کی پہچان بن جاتا ہے۔ اپنی تھکن کو کمزوری نہیں بلکہ شہزوری بنائیں۔ خاموشی کو ہار سے نہیں بلکہ جیت سے بدلیں۔ اپنی خواہشوں کو اپنا حق سمجھ کر انہیں پورا کرنے کے لیے ڈٹ جائیں ۔دوسروں کو خوش کرنے کے چکر میں اپنی روح کو گھائل مت کریں۔
یاد رکھیں !ایک پر اعتماد عورت نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اصل طاقت عہدے، عمر یا بزرگی میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے شعور، ارادے اور قابل تقلید عمل بہت ضروری ہے۔
آج کی طالبہ کل کی ذمہ دار گھریلو خاتون بنے گی تو وہ اپنے حاصل کردہ علم کو روشنی بنا کر تاریکیوں کے خلاف جہاد کر سکتی ہے۔ غلط رسوم ،تعصبات اور انسانیت کے لیے زہرِ قاتل ہر غلط روش کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ سائنسی، مذہبی، منطقی، معاشرتی اور نفسیاتی شعور کے ذریعے دوسروں کی سوچ بدل سکتی ہے۔ اس عمل سے کئی نسلوں کی سوچ بدلے گی۔
شرط صرف ایک ننھا سا دیا جلانے کی ہے۔ باقی کا کام سبک خرام ہواؤں کا ہے کہ وہ اس کے اُجالے کو کہاں کہاں تک لے جا سکتی ہیں۔ ایک طالبہ ایسی خاموشی کو توڑ سکتی ہے جو کہ مجرمانہ نوعیت کی ہوتی ہے۔ یہ بات بھی باعث دلچسپ ہے کہ عورت کو معاشرتی تبدیلیوں کے لیے سپورٹ کرنا مردوں کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بلا شبہ معاشرہ مرد اور عورت سے مل کر بنتا ہے تو جہاں بات طاقت اور اختیارات کی ہو وہاں حفاظت اور انصاف کی بھی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے۔
اگر با اختیار عناصر خاموش رہیں تو جبر و استحصال کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ طاقتور کی خاموشی نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ اصل مرد وہ نہیں جو عورت کے متعین کردہ اسلامی، معاشرتی اور سماجی حقوق چھین لے بلکہ مردانگی اسی میں ہے کہ وہ عورت کے زخموں کا مرہم بن کر اس کے خوابوں کو پورا کرنے میں اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ آج کا دور پرانے اور فرسودہ نظام کو روند کر آگے بڑھ رہا ہے۔
پڑھی لکھی باشعور لڑکی اپنے گھر سے انقلاب لا سکتی ہے۔ وہ اپنے بھائیوں کو عورت کے مقام و مرتبے سے آگاہ کر کے ان کی عزت کرنا سکھا سکتی ہے۔ خود کو رول ماڈل بنا کر ایک اچھی لڑکی کا تعارف کروانے پر بھی قادر ہوسکتی ہے۔ ایسی خواتین کی انگنت مثالیں ہیں جنہوں نے خود کو بدلا تو وقت بدل گیا۔ اپنی شخصیت کی تعمیر میں جدید تیکنیک کا استعمال کرتے ہوئے رنگ ،خوشبواور کہکشاؤں کو اپنی ذات میں دریافت کریں۔
ماضی کے تاریک اوراق پھاڑ کر نئے صحیفے رقم کریں، خود میں نئ صفات پیدا کریں جو ایک دیر پا اور مضبوط حال اور مستقبل دے سکے ۔زندگی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں، اپنے ذہن کو دوسروں کی سوچوں سے آزاد کریں، اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کی عادت ڈالیں، اپنی خوشی کا معیار خود طے کریں، علم و شعور سے خود کو آراستہ کریں، نئی کتابوں کا مطالعہ کریں کہ کتب بینی ذہنی کمزوری کو دورکرتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں دیکھا گیا ہے کہ، خواتین اپنی صحت سے لاپرواہی برتتی ہیں۔ یاد رکھیے کہ ایک صحت مند جسم کے لیے صحت مند دماغ ہونا ضروری ہے۔ ورزش، بھرپور نیند، متوازن غذا اور خوش رہنے کی عادت اپنانے سے صحت کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ ذہنی صحت کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
سوشل میڈیا کی چمک دمک نے بصارتوں کو دھندلا دیا ہے۔ خواتین رنگ برنگی ویڈیوز، ٹک ٹاکز اور مختلف ایپس پر آنے والی خرافات کا لاشعوری طور پر خود سے مقابلہ کرنے لگی ہیں، یہ بات بھول جاتی ہیں کہ ہر شخص کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ ہم اپنا مقابلہ کسی اور سے نہیں کر سکتے۔ منزلیں جدا جدا ہیں تو راستوں کی ڈگر بھی الگ ہے۔ کسی کی تقلید میں اپنا راستہ کھوٹا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ؟
زمانہ قدیم کے معاشروں میں ایسی بے شمار خواتین کے حالات ِزندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت نے اپنے نظریات،جدوجہد اور خود کو مٹا کر دوام حاصل کیا۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ عورت نے کہاں کہاں اور کس طرح خود کو نظر انداز کیا؟ زندگی میں ایسے بہت سے موڑ آتے ہیں جہاں وہ ہاری نہیں بلکہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گئی۔ وہ اپنے خوابوں سے بہت آسانی سے دستبردار ہو جاتی ہے صرف یہ کہہ کر کہ یہ میرا مقدر نہیں۔ وہ شاعرہ بننا چاہتی تھی مگر ہر روز اپنی ذمہ داریوں کو ایک مصرعۂ طرح میں ڈھال کر گھر کی بقا کے لیے غزلیں بنتی رہتی ہے۔
وہ بزنس کرنا چاہتی تھی، مگر حالات کے جبر اور معاشرتی نا ہمواریوں کے باعث استحصال کا شکار ہو کر ہار مان لی۔ وہ خود چاہے راضی ہو یانہ ہو ،مگر دوسروں کو ہمہ وقت راضی اور خوش رکھنے کی سعی کرتی ہے۔ اس نے خود اپنے خوابوں، امنگوں اور روح کے تقاضوں کو پابہ زنجیر کیا ہے ۔لیکن اب خود کو پا لینے کا وقت آگیا ہے۔ روزانہ صبح اٹھ کر خود سے پوچھیں کہ میری خوشی میری رضا کس کام میں ہے ؟کیا میں مجبور ہوں یا خود مختار؟ پوری ایمانداری سے جواب قبول کریں،یہی خودآگہی کا پہلا زینہ ہے۔
یہ طے ہے کہ عورت سب کی زندگی کی ترجیحات بدلنے پر قادر نہیں، مگر خود کو آخر میں رکھنے کی بجائے پہلے نمبر پر رکھے۔ یہ خود کو اعزاز دینا ہے۔ ہر ہاں سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچ ضرور لیں، بہت سے مقامات پر انکار باعث راحت ہوتا ہے۔ یہ سرکشی نہیں اپنی حدود کا تعین ہے۔ پزمردگی، یاسیت، درد اور نم آنکھیں روح کا احتجاج ہیں۔ اپنی سانسوں کی زبان سمجھیں ۔دوسروں کو سیراب کرنے کے چکر میں اپنی پیاس کو نظر انداز نہ کریں۔
ایک ڈائری ضروری بنائیں، جس میں اپنی پہچان کے لیے صرف اور صرف اپنی آواز لکھیں، اپنے فرائض نہیں بلکہ حقوق کی بھی لسٹ بنائیں۔ ہر روز خود کو نئے سرے سے دریافت کریں، خود کی تخلیق کریں۔ ایک وقت آئے گا جب آپ اپنے وجود میں ایک گمشدہ خزانے کو ڈھونڈ نکالیں گی۔ اس بات کا جائزہ لیں۔ الفاظ کو صفحے پر لکھیں کہ میں آج کس بات پر زیادہ تھکی ہوں؟
کس امر نے مجھے چڑچڑا بنایا ہے؟ اس کا جواب بھی فوراً مل جائے گا۔ حالت سکون میں بیٹھ کر گہری سانسیں لیں اپنے جسم کی ہر رگ سے مخاطب ہو کر کہیں کہ میں تمہیں نظر انداز کرنے پر تہِ دل سے معذرت خواہ ہوں۔ ماضی ایک ایسا تہہ خانہ یا قید خانہ ہے جہاں آپ کی گزشتہ کمزوریاں گل سڑ رہی ہیں، اس قید خانے کو بند کریں۔
لغزشوں کا تعفن آپ کو تر و تازہ نہیں ہونے دے رہا، خود کو معاف کریں، اس کے بعد ہر اس شخص کو کھلے اور صاف دل سے معاف کریں جس نے کبھی آپ کا دل دکھایا ہو یا آپ کے جیون کی خوشنما گھڑیوں کو برباد کر دیا ہو۔ ایسا کرنا اس کے نہیں بلکہ آپ کے اپنے مفاد میں ضروری ہے۔
قدرت نے اپنی ہر مخلوق میں تخلیقی جوہر رکھے ہیں، جمالیات اور فطرت کا گہرا ساتھ ہے۔ یہی جمالیات اپنی شخصیت اور گھر کا خاصہ بنا لیں۔ قدرت کے ساتھ جڑیں ۔ گھریلو جھگڑوں اور سیاست میں خود کو ضائع کرنے کی بجائے اپنی ذات کے نکھار پر توجہ دیں۔
آپ کی یہ روش قریبی رشتوں بالخصوص اولاد کو لامحالہ متاثر کرے گی۔ نیکی کا نور پھیلتا ہے صرف ایک ننھے چراغ سے تیرگی چھٹ جاتی ہے۔ آپ کی یہ کوششیں ایک نیا سورج تخلیق کرے گی، اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ تو کریں، آنے والا وقت آپ کا ہوگا۔