فائزہ مشتاق
ملک کی طرح ہمارا بھی نازک دور ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ زندگی مسائل اور خوشیوں کا مرکب لگتی ہے۔ نہ جانے کب ایک مسئلے سے نکلتے اور دوسرے کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ غالباً اس کا آغاز پہلی سانس لیتے ہی ہو جاتا ہے۔ مسائل اور مشکلات بچپن سے ہی ہم نوا ہوتے ہوئے، لنگوٹھیے یار کی مانند ساتھ چلتے ہیں۔ کم سنی کے بے فکری کے دور میں بھی رنگا رنگ فکریں ساتھ ہو تی ہیں۔
پسندیدہ کھلونے کا ٹوٹنا یا کھو جانا، اسکول یا محلے کے دوستوں کے ساتھ کھیلتے کھیلتے خفا ہو جانا، ذرا سی چوٹ پہ ماں کا پلو پکڑ لینا بھی اس دور کے کٹھن لمحات میں سے ایک ہے۔ زندگی کچھ اور سرکتی ہے۔ مسائل اور انسان کا ساتھ بھی دھیرے دھیرے مضبوطی کی جانب گامزن ہونے لگتا ہے، نوعیت ذرا مختلف ہو جاتی ہے۔
تعلیم کا بتدریج بڑھتا بوجھ، امتحانات در امتحانات، اپنے مقاصد کے لئے اساتذہ کی چاپلوسیاں اور اس کے نتیجے میں ان کی جانب سے ڈھائی گئی زیادتیاں، دروازے کی اوٹ سے ماں باپ کی لڑائیوں کا مشاہدہ ایسے عالمگیر مسائل، جن کا سامنا کچی عمر کے دور میں کم و بیش ہر کسی کو ہی ہوتا ہے۔ سفر کی رنگینیاں جاری و ساری رہتی ہیں کہ غم جاناں کا روگ لگ جاتا ہے۔
انتظار کی اذیت کا اندازہ تو وہی جان سکتا ہے جن پہ گزرتی ہے گویا زندگی کی گاڑی کسی ویرانے میں ٹھہر گئی ہو۔اچانک جھٹکے سے ہوش آتا ہے کہ سفر یہیں نہیں رکا بلکہ جیسے ہی شعور کے چند زینے مزید چڑھتے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسائل تو نظر ہی اب آئے ہیں، گزشتہ ادوار تو سنہری تھے جن کی ہم قدر ہی نہ کر سکے۔
والدین کی انتھک محنتوں اور کٹھنائیوں کا اندازہ جب ہونے لگتا ہے تو اپنا آپ ہی جیسے تمام مسائل کا واحد سہارا دکھائی دیتا ہے۔ مسائل کے نت نئے بوجھ اٹھائے اس عہد سے آگے بڑھتے ہیں کہ ہر چند یہ مشکلات زندگی سے رفو چکر ہو گئیں تو راوی چین ہی چین لکھے گا۔ ابھی ان حالات سے دامن چھڑانے کے قریب ہی ہوتے ہیں کہ شومئی قسمت آنکھ کھل جاتی ہے پتہ چلتا ہے کہ غم روزگار سے بڑھ کر بھی بھلا کوئی اور غم ہو سکتا ہے۔
ہم گویا ایک بار پھر غلط ثابت ہوتے ہیں اور زندگی ہمیں ایک اور کڑوا جام پلانے کو کمر بستہ ہوجاتی ہے۔باپ بڑا نہ بھیا، سب سے بڑا روپیہ کی اہمیت تمام غموں پہ بھاری ہو جاتی ہے۔ چار پیسے کمانے کے دھندے میں اپنا آپ جب ریگ مال کی طرح رگڑا جاتا ہے تو رات چھوڑئیے دن میں بھی تارے دکھائی دینے لگتے ہیں۔
مسائل اور الجھنیں زندگی کی علامت ہیں، یہی مسائل انسان کو مسلسل جدوجہد میں مصروف عمل رکھتے ہیں۔ انہی مشکلات کا سامنا اور سلجھن کی امید ہی زندگی کا اصل چکر گھماتی رہتی ہے اور ان کا حصول ہی تسکین کا باعث بنتا ہے۔ زندگی کی گاڑی خالی نہیں بلکہ ذمہ داریوں سے پر ہے۔ اگر آپ پہلوٹھی کی اولاد ہیں تو یہ ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہیں اور آپ کے شانے ہی ان کا بوجھ اٹھائے گھومتے ہیں۔
چھوٹے بہن بھائی کی تعلیم، بہنوں کا جہیز، والدین کی گرتی صحت کے مسائل گویا ایک طویل فہرست ایک کے بعد ایک سر اٹھائے رکھتی ہے۔ اگر آپ سے بڑے بھائی اور بہن بھلے وقتوں میں سبک دوش ہوگئے اور اپنے معاملات میں خوشحال ہیں تو اپ کی اس سے بڑی خوش قسمتی نہیں ہوسکتی اور اگر والدین کی جانب سے بھی بے فکری میسر ہے تو وارے نیارے ہیں۔ بجلی، گیس کے بلوں اور دیگر اہم اخراجات سے آزادی حاصل ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ان نعمتوں کی قدر کیجئے کہ یہ سکون ہر موڑ پر میسر نہیں آسکتا۔
سڑک کا اگلا موڑ نئی نا ہمواریوں سے مزین ملتا ہے، سفر کے اس راہ گزر پہ جب زندگی کا ساتھی آملتا ہے۔ بیوی یا شوہر کی زندگی میں قدم رنجہ فرمانے کے بعد سوچتے ہیں کہ شاید غموں اور مشکلوں کا دور قصہ پارینہ بن گیا، اب خوبصورت اور حسین لمحات کی ہوائیں ہی ہوائیں چلیں گی مگر نہ جی خیام خیالی پر ٹیکس تھوڑی ہی لگتا ہے خوب جی بھر کے کیجیے۔
اس مرحلے پر رشتوں میں توازن گویا سکون کی سب سے بہتر دوا معلوم ہوتی ہے۔ توقعات کا پلڑا جہاں ادھر سے ادھر ہوا تو آپ پھر سے ڈولنے لگتے ہیں۔ ناگوار باتیں، کشیدہ لمحات، رویوں کی تلخیاں، رشتوں کی ناانصیاں اور ان کی جدائیاں صبر آزما مراحل کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی گلشن میں پہلا پودا اُگتا ہے تو یکایک زندگی کی ڈگر کسی اور سمت چل پڑتی ہے۔ اس پودے کو تناور درخت بنانے میں نہ جانے کتنے ہی سرد گرم سہنے پڑتے ہیں اور" یہ وقت بھی گزر جائے گا"سوچتے سوچتے کتنی ہی دہائیاں گزر جاتی ہیں۔
ایک اہم مسئلہ جس کا سامنا ہر کسی کو نہیں ہوتا وہ ہے ذہنی اور جسمانی تھکاوٹیں۔ ان نادیدہ تھکاوٹوں کا ہر انسان کو الگ الگ طریقے سے پیش آئے ہیں اور کبھی یہ ایسے ناقابل تسخیر مسائل بن کر ابھرتے ہیں جن کے حل اتنے آسان نہیں ہوتے جتنے سمجھے جاتے ہیں۔
زندگی کا یہ حصہ اتنا سیاہ سفید نہیں ہوتا جتنا گمان کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کسی کے لیے یہ وقت دبے پاؤں گزر جاتا ہے تو کسی کی زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے، گویا ہر کسی کے حالات دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ اس لمحے ادراک ہوتا ہے کہ یہ ذہنی سکون دنیا کی کسی دولت کا نعم البدل نہیں، نہ ہی کسی عوض خریدی جا سکتی ہے ، پھر اس جنم کی بھول بھلیوں میں اچانک ہی بالوں میں سفیدی چمکنے لگتی ہے۔ گرتی صحت اشاروں اور کنائیوں میں اس بات کی تنبیہ کرتی نظر آتی ہے کہ جوانی پھر نہیں آنی۔
لیجئے،زندگی کی سب سے اہم دولت وہ نہیں جس کے پیچھے ہم نے ساری زندگی ہی کھپا دی۔ اصل دولت تو صحت ہے کہ جان ہے تو جہان ہے اور بروقت صحت پہ توجہ نہ دینے کے خمیازے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ وقت کی ستم ظریفی کہیے کہ اسی لمحے حاصل کردہ تمام مراعات اور آسائشیں بےوقعت لگنے لگتی ہیں کہ زندگی کے اصل متاع تو صحت تھی جسے ہم گنوا بیٹھے ، جس کے پاس صحت ہے اس کے پاس ہی سب کچھ ہے۔ سو ہم پھر سے تہی داماں۔
جب تک زندگی ہے مسائل ہیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہم الجھنوں سے مکمل بری الزماں ہوگئے۔ تلخ حقیقت یہ کہ زندگی کے آخری حصے میں ہم تجربات کی پوٹلی اٹھائے اپنے بچوں اور ان کے بچوں کے ساتھ بیٹھک کرتے اور گوش گزار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل حسن تو الجھنوں اور سلجھنوں میں ہی ہے مگر ادراک کافی تاخیر سے ہوا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے تئیں درست فیصلے اور ہر حال میں شکر گزاری ہی طوفانوں سے نبرد آزما ہونے کا واحد حل ہے۔ حالات کے جبر کو خود پہ مسلط نہ کیا جائے، نہ ہی ان کا قیدی بنا جائے۔ زندگی کے مصائب کا سامنا بڑے جگر سے کیجئے کہ مشکل کے ساتھ آسانی بھی خدا ضرور دیتا ہے۔ مثبت طرز فکر اور طرز زندگی ہی خدا کی ذات پہ کامل یقین کا نسخہ ہے۔ یہی خوشگوار زندگی اور لمحات کو کشید کرنے کا اصل فن بھی ہے۔