مضبوط عورت کسی بھی ادارے میں ہو، کسی بھی مقام پہ ہو، کسی بھی پوزیشن پر ہو۔ مردوں کے اس معاشرے میں اسے برداشت نہیں کیا جاتا۔ وہ گھر میں ہو یا گھر سے باہر، اس معاشرے میں اس کے خلاف اتنے محاذ کھڑے کیے جاتے ہیں کہ کسی طرح اُسے گھٹنوں کے بل گرا دیا جائے۔
اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ پیچھے ہٹ جائے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ مجبور عورت ہی دراصل مضبوط عورت بنتی ہے۔اس کے لیے عمر، رتبہ، حیثیت یا اسٹیٹس کی کوئی قید نہیں۔ وہ کہیں بھی کسی بھی روپ میں نظر آ سکتی ہے،وہ گھر کام کرنے والی ماسی بھی ہو سکتی ہے، جو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے یا اپنے نشئی شوہر کا علاج کروانے کے لیے دنیا کے دھکے برداشت کرتی ہے، وہ آ پ کو کسی فیکٹری ورکر کے روپ میں بھی ہوسکتی ہے جو اپنے بیمار والدین کا علاج کروانے کی کوشش میں یہ بیگار کر رہی ہوتی ہے، وہ کسی مال(شاپنگ)میں کسی پروڈکٹ کو بیچنے کے لیے سرخی غازہ تھوپے چہرے پر مسکراہٹ اور آ نکھوں میں اداسی لیے بھی نظر آ سکتی ہے، کسی ادارے میں کام کے انبار میں دبی اپنے گھر کو سپورٹ کرنے کی خاطر مردوں کی طنزیہ نظروں کا سامنا کرتی بھی نظر آ سکتی ہےاوروہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز معاشرے کو بدلنے کا عزم لیے بھی نظر آ سکتی ہے۔وہ کہیں بھی کسی بھی روپ میں ہو سکتی ہے۔
اول تو عورت کو مضبوطی دی نہیں جاتی اگر وہ کسی طرح اپنے آ پ کو اس قابل بنا لے کہ اس تک پہنچنا مشکل ہو جائے تو اس کے خلاف طرح طرح کی سازشیں، کہانیاں، تہمتیں اور گندی زبان استعمال کر کے اس کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،تا کہ وہ کسی طرح ہار مان لے۔
مغربی دنیا میں ایک مضبوط عورت ہونا کوئی انہونی بات نہیں لیکن ہمارے معاشرے میں مردیہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ کوئی عورت سر اٹھا کر جینا سیکھے۔ چھوٹی سی مثال سے ابتداء کرتے ہیں۔ گھر میں ایسی بہو جو زیادتی برداشت نہ کرے،غلط باتوں میں ساتھ نہ دے، جی حضوری نہ کرے یا جو شوہر کو غلط زبان یا ہاتھ کا استعمال نہ کرنے دے، وہ اچھی ہونے کے باوجود اچانک بری ہو جاتی ہے۔
سسرال والے اس سے خار کھانے لگتے ہیں، باتیں بننا شروع ہو جاتی ہیں یا اگر بہو نوکری کر رہی ہوتی ہے اورا س نے اپنی سہولت کے لیے گھر میں کام والی رکھی ہوتی ہے تو اس پر بھی سو اعتراضات اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ شوہر کو بھڑکایا جاتا ہے اس کی خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالی جاتی ہیں۔ کسی شعبے میں اگر کوئی عورت مردوں کو منہ نہیں لگائے اپنے کام سے کام رکھے، ہر ایک کو اس کی حد میں رکھے تو اس کے خلاف دفتری سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔
صحافت ہو یا سیاست اس میں اگر کوئی عورت بہترین کام کرے اپنا مقام بنائے تو سب سے پہلے توبازاری زبان اس کے خلاف استعمال کی جاتی ہے پھر اس کو توڑنے کے لیے کردار کشی کی جاتی ہے۔ یہ وہ آسان حربہ ہے جو ہر شعبے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ صحافت اور سیاست کا حوالہ خاص اس لیے دیا کہ اس میں عام طور پر اُس کا نام بن جاتا ہے، پھر اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ویسے تو ہر شعبے کا یہی حال ہے، کہیں بھی عورت کی برتری برداشت نہیں ہوتی۔چاہے، تعلیم کا شعبہ ہو، یا پولیس کا صحت کا ہو یا انجینئرنگ کا یا پھر میڈیا، ادب ہو یا ثقافت ،فضا میں ہو یا زمین پر ہر جگہ عورت رنگ بھرنے کے لیے تو برداشت ہے لیکن ایک مضبوط عورت قابل قبول نہیں، گھر میں ہی دیکھ لیں اگر کوئی بیوی نوکری کر رہی ہے، میاں سے زیادہ کما رہی ہے تو میاں کو اچانک احساس کمتری ہونے لگتا ہے، وہ اس کو جان بوجھ کر سب کے بیچ میں ذلیل کرنے کی کوشش کر کے اپنی مردانگی دکھانے کی کوشش کرتا ہے یا کسی دوسرے کی بیوی کا سن لیں کہ وہ اچھا کما رہی ہے یا اس کے سسرال والے بہت سپورٹ کرنے والے ہیں تو اپنی بیوی کو طعنے دے دے کر شرمندہ کرتے رہتے ہیں کہ تم کسی کام کی نہیں۔
اداروں کی بات کریں تو وہاں بھی خواتین اگر اچھی پوزیشن پر پہنچ جائیں تو کچھ ایسے لوگ ضرور موجود ہوتے ہیں جو ان کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں یا ان کے خلاف بیہودہ باتیں کرتے ہیں، کبھی ان کے لباس کو نشانہ بنایا جاتا ہے کبھی ان کی زبان کو اور کہیں ان کے مزاج کو۔ ایک اور چھوٹی سی مثال لے لیں آپ گاڑی میں جا رہے ہیں اگر آ گے والا ڈرائیور گاڑی آ ہستہ چلا رہا ہے یا کچھ غلطی کر بیٹھتا ہے تو آ پ کے میاں فوراً کہیں گے کہ یقیناً آ گے والی گاڑی عورت ڈرائیور کررہی ہوگی اسی لیے یہ حال ہے۔
عورتیں ایسی ہی گاڑی چلاتی ہیں، جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ عورتیں اب گاڑی کیا جہاز بھی چلا رہی ہیں ۔ ہم نے تو عورتیں بہت بہترین ڈرائیورز دیکھی ہیں۔لیکن ہمارے مردوں بلکہ مردوں کیا عورتوں کا بھی یہی حال ہے کہ اپنی ہی صنف سے حسد شروع ہو جاتا ہے اور مردوں کے ساتھ خود بھی عورت ذات کو ذلیل کرنے میں آ گے آ گے ہوتی ہیں۔
اس دور میں جبکہ دنیا میں عورتیں ہر شعبے میں کامیابی کے جھنڈے لہرا رہی ہیں سائنس ہو یا ادب وہ کہیں بھی مردوں سے پیچھے نہیں۔ ہمارے تو اپنے ملک میں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھی اعزاز موجود ہے ۔پھر بھی ہمارے معاشرے کی سوچ وہی دور جاہلیت والی ہے۔ ترکش ڈرامے دیکھ کر تو مردوں کو پتہ چل ہی گیا ہوگاہے کہ پہلے کی مسلمان خواتین کیسی بہادر ہوتی تھیں۔
میدان جنگ میں اپنے مردوں کے شانہ بہ شانہ دشمن کے چھکے بھی چھڑاتی تھیں اور اپنے گھر اور قبیلے کی حفاظت بھی کرتی تھیں۔ بچوں کی تربیت ہو یا خانہ داری ،ہر جگہ نمبر ون ہیں۔ سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو وہاں بھی ایسی صحابیات ملتی ہیں جنہوں نے جنگوں میں اپنے مردوں کا ساتھ دیا اور گھر بھی چلایا۔ لیکن آ ج کے مردوں سے نہ جانے کیوں یہ برداشت نہیں ہوتا کہ عورت سر اٹھا کر جیے۔
ہمارے ہاں بیوی آ ج بھی وہی عورت سمجھی جاتی ہے جو شوہر اور سسرال کے سامنے سر نہ اٹھائے اور ان کی جوتیاں سیدھی کرتی رہے۔ آج کی موجودہ نوجوان نسل جو ’’ جین ذی‘‘ کہلاتی ہے اس میں اس لحاظ سے کچھ بہتری نظر آ تی ہے۔ نوجوان لڑکے کافی حد تک وقت کے تقاضوں کو سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ اگر ہماری بیوی معاش کی ذمہ داری ہمارے ساتھ مل کر اٹھا رہی ہے تو ہمیں بھی ان کی زمہ داریوں میں کچھ ہاتھ بٹانا چاہیئے، ایسا کرنے میں انہیں شرم محسوس نہیں ہوتی۔
لیکن اگر وہ مشترکہ خاندانی نظام میں رہ رہے ہیں تو وہاں یہ ممکن نہیں، کیونکہ آس پاس کے لوگ اپنے طنز کے تیروں اور طعنوں کے نشتر سے یہ انڈر اسٹینڈنگ ہونے نہیں دیتے۔ ان میں یہ برداشت ہی نہیں ہوتی کہ بیٹا خود سےایک گلاس پانی بھی لے، ایسے میں اگر بہو نے اپنے میاں سے کوئی کام کہہ دیا تو وہ لتے لیے جاتے ہیں کہ اس کی سات نسلیں یاد رکھیں، اسی لیے اب لڑکیاں جوائنٹ فیملی میں رہنا پسند نہیں کرتیں اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔
2025 گزر گیا۔ نیا سال شروع ہوگیا اس نئے سال میں اپنے لڑکوں کو اپنے مردوں کو یہ تربیت دیں کہ وہ عورت کو عزت دینا سیکھیں، چاہے وہ ان کے گھر کی بھی ہو یا کسی دوسرے کے گھر کی، آپ کی بیٹی ہو یا کسی دوسرے کی۔ اُنہیں اتنا مضبوط بنائیں کہ کوئی ان پر ہاتھ نہ اٹھا سکے، ان پر تیزاب نہ پھینک سکے، آوازیں نہ کسے، ان کی راہ میں نہ آ سکے، ان کے کردار پر انگلی نہ اٹھا سکے، اپنی غلیظ نظر نہ ڈال سکے، ان کو جلا کر مار نہ سکے، ان کی عزت نفس کی دھجیاں نہ بکھیر سکے۔ اپنے بیٹوں کی تربیت کریں اس معاشرے کو عورت کے رہنے کے قابل بنائیں۔
اس معاشرے کو بیٹیوں کے قابل بنائیں تاکہ کل کو آ پ کی بیٹی بھی غیر محفوظ نہ ہو۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ، کوشش کریں کہ اس برس عورت کی زندگی سہل ہو… ذہنی و جسمانی تشدد سے نجات ملے، وہ اپنے قدموں پہ کھڑی ہو سکے، اپنے لیے زندگی کی راہ متعین کر سکے، اپنی زمین اور اپنا آسمان تلاش کر سکے۔
عورت کی مدد کریں۔ اگر عورت کو دیکھ کر مرد کے ہاتھ یا آنکھ بہکتی ہے تو اسے روکنے کی کوشش مرد کو کرنی ہوگی، ورنہ کہیں نہ کہیں اسے تاوان کسی اور صورت میں بھرنا ہو گا ،یہی کائنات کا اصول ہے۔