• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ ہے کہ، کسی کے گھر بغیر اطلاع دئیے، اچانک ’’آ ٹپکنا‘‘۔ کوئی کال نہیں، کوئی میسج نہیں، کوئی تصدیق نہیں، بس گھنٹی بجا دینا اور یہ توقع کرنا کہ آپ کو فوراً گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جائے گا، تازہ چائے ملے گی، اور بھرپور مہمان نوازی کی جائے گی۔

بظاہر تو یہ بے ضرر لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دوسرے شخص کے وقت اور ذہنی حالت سے شدید لاپرواہی ہے۔آپ کو کوئی اندازہ نہیں کہ اس دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے۔

ہو سکتا ہے گھر میں صفائی نہ ہو، کوئی بیمار ہو، بچے ایک بھرپور ’’جنگ کے میدان‘‘ کے بعد سوئے ہوں، میزبان تھکا ہوا ہو، پریشان ہو، یا کسی کے لیے بھی ’’سماجی طور پر پیش ہونے‘‘ کے موڈ میں نہ ہو، ہو سکتا ہے ان کا کوئی پروگرام ہو، کسی کام کی ڈیڈلائن ہو، کوئی میٹنگ ہو، فیملی ٹائم طے ہو، کسی دوسرے مہمان کا انتظار ہویا وہ سکون کے چند لمحے گزار رہے ہوں، مگر آپ کا یوں اچانک دورہ سب کچھ درہم برہم کر دیتا ہے!

حدود کا احترام کرنا کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی انسانی تہذیب ہے۔ ایک سادہ سا میسج، ایک چھوٹی سی کال کہ میں کل یا کچھ گھنٹوں بعد آؤں تو کیا آپ فارغ ہیں؟ پوچھنا مشکل نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔ صرف چند گھنٹوں کی اطلاع بھی لوگوں کو تیاری کا موقع دیتی ہے اور انہیں ہاں یا نہ کہنے کا اختیار دیتی ہے، تاکہ وہ دباؤ کے بجائے سکون سے آپ کی میزبانی کر سکیں۔

لہٰذا، یہ بات واضح ہو۔ بغیر بتائے اچانک آ جانا نہ تو اچھا لگتا ہے، نہ ہی یہ کوئی روایتی طریقہ ہے اور نہ ہی یہ محبت کا اظہار ہے، یہ سراسر بے احترامی ہے!

یہ اصول طے ہونا چاہیے۔ آپ اجازت کے بغیر کسی کے گھر نہیں پہنچتے۔ آپ پوچھتے ہیں، آپ تصدیق کرتے ہیں، اور پھر آپ ملاقات کے لیے جاتے ہیں، تاکہ آپ کی موجودگی ایک تکلیف نہیں بلکہ ایک خوشی کا احساس دلائے۔

نصف سے زیادہ سے مزید