آسیہ عمران
رمضان المبارک صرف روزہ اور تراویح کا نام نہیں بلکہ عقیدہ، عبادت، معاملات، معاش اور طرزِ زندگی کو درست کرنے کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے سے بھر پور استفادہ کے لیے عمل کی سطح پر تیاری کریں، تا کہ رمضان کے بابرکت دن اور قیمتی ترین لمحات محض گزر نہ جائیں بلکہ زندگی میں حقیقی تبدیلی کے پیامبر ہوں۔ دورۂ قر آن یا فہم القرآن میں شرکت کو یقینی بنائیں ،تا کہ قرآن سے تعلق فہم، تدبر اور عمل تک پہنچے۔
اسی طرح دعاؤں کی باقاعدہ ڈائری تیار کریں، جس میں اپنے، اپنی اولاد، امتِ مسلمہ، ملک و ملت اور پوری انسانیت کے لیے دعائیں تحریر ہوں، جنہیں دورانِ رمضان تسلسل سے مانگا جا سکے۔ آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ اگرچہ شر بڑھ رہا ہے، مگر یہی حالات اس بات کی علامت بھی ہیں کہ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ قریب ہے۔
اس لیے خود کو، اپنی اولاد اور متعلقین کو فکری، ایمانی اور اخلاقی لحاظ سے تیار کریں۔ فتنوں سے بچاؤ کی مسنون دعاؤں، نبوی طریقوں اور دینی رہنمائی حاصل کریں اور ان پر غور و فکر بھی کریں۔ رمضان میں زندگی کے ہر پہلو کا جائزہ لینا، محاسبہ کرنا اور تدبر کرنا ہے۔ ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کریں اور اذکار کا خود کو پابند بنائیں۔
ظاہری پاکی، باطنی پاکی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ خدمتِ خلق اور معاشرتی احساس صدقہ، خیرات اور تعاون کو معمول بنائیں۔ غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا احساس کریں۔ رشتہ داروں سے مل کر غلطیوں کی معافی، تلافی کر لیں۔
گھر میں ایک خصوصی اور پُرسکون جگہ متعین کریں جہاں رمضان میں آسانی سے تلاوت، نماز اور ذکر کیا جا سکے، تاکہ گھر کا ماحول بھی عبادت میں معاون بنے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ٹی وی کے غیر ضروری استعمال سے بچیں اور وقت کو قیمتی سمجھیں۔ حقوق العباد کا خیال، ملازمین اور خادموں پر کام کا بوجھ ہلکا کریں، ملاقاتوں اور دعوتوں کو محدود رکھیں۔
روحانی مضبوطی باجماعت نماز، تکبیرِ اولیٰ، کم نیند، قیلولہ، چھوٹی سورتوں کی یادداشت اور بچوں کی دینی تربیت کا اہتمام کریں۔ صحت اور ضبطِ نفس، آور اشیاء چھوڑنے یا کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں اور سادہ، متوازن غذا اپنائیں۔یہ بات خود کو بار بار یاد دلائیں کہ رمضان بامقصد گزارنا ہے، تاکہ آپ سے متعلقہ لوگ اور آپ کا اپنا شعور اس سبق کو رٹ لے۔
اس رمضان کو زندگی بدل دینے والا بنائیں واضح اور چھوٹے چھوٹے اہداف مقرر کریں جو اس رمضان کو پچھلے رمضانوں سے ممتاز کر دیں اور جو آپ کے نامۂ اعمال میں مستقل نیکی بن جائیں۔ زکوٰۃ، قرض اور دیگر مالی حقوق کی بروقت ادائیگی کا اہتمام کریں۔ ان تمام کوششوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اخلاص، پاکیزگی، قبولیت اور استقامت کی دعا مانگیں۔