میں پیدا لاڑکانہ میں ہوئی تین سال کی تھی تو حیدرآباد شفٹ ہوئے، لیکن دادا دادی کے پاس ہر سال عید، بقرعید پر جاتے تھے۔ رمضان کاآخری عشرہ بھی وہیں گزرتا۔ مجھے آج بھی یاد ہے، امی شعبان میں ہم بچوں کے نئے کپڑے سی کر تیار کر لیتیں، عید کے کپڑوں میں گوٹا کناری اور کڑھائی، گھر میں پہننے کے نئے جوڑے الگ کر کے ایک بکس میں جماتی جاتیں، یہ سب لاڑکانہ جانے کی تیاری ہوتی۔
رمضان کا چاند کے ہوتے ہی اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ آخری عشرہ ہم لاڑکانہ میں گزاریں گے۔ امی اور چچاجان تو مکمل روزے رکھتے لیکن ڈیڈی گنڈے دار رکھتے تھے۔ میں اور میری بہن بھی سحری میں اٹھ جاتے۔ مولوی صاحب کی آواز حضرات سحری کا وقت ختم ہونے والا ہے اٹھ جائیے اور پانچ پانچ منٹ پہ اعلان دہراتے۔
روزے کی پوری نیت ہوتی لیکن امی بارہ بجے سے پہلے بہانے سے پانی پلادیتیں اور سمجھاتیں کہ تم دونوں بہنوں کی روزہ کشائی ہوگی، سونے کے ٹیکے بنواؤں گی تب روزہ رکھنا۔ قرآن پڑھنے کا اہتمام ہوتا، خالہ پڑوسن قرآن پڑھاتیں، محلے میں افطاری بھی دینے جاتی اور مسجد تو ضرور جاتی تھی افطاری لے کر۔ہاں تو ہم بتارہے تھے، بچپن کا رمضان۔
اُس رات تو نیند ہی نہیں آتی جب صبح سویرے بولان میل میں بیٹھ کر لاڑکانہ روانہ ہوتے۔ اسٹیشن پر بڑے چچا لینے آتے اور ہم تانگے میں بیٹھ کر دادی کے گھر محسن منزل روانہ ہوجاتے۔ وہاں ہم سب کے پہنچنے پر عید کا سماں ہوتا، دادی کا گھر مہمانوں سے بھرا ہوتا، دونوں پھوپھیاں بچوں سمیت آجاتیں، ہم بچوں کی موج ہوجاتی۔ دادا ابا گھر میں نہیں ہوتے، پتہ چلتا وہ مسجد میں ’’اعتکاف ‘‘میں بیٹھے ہیں۔ پورا محلہ اس بات کو اعزاز سمجھتا اور ان کا خیال رکھتا۔
ہم دادا سے ملنے چچا اور کزنز کے ساتھ افطاری لیکر مسجد جاتے، وہ مسجد کے کونے میں چادروں سے حجرہ بناکر عبادت کررہے ہوتے، زرا سا پردہ کھسکا کر دادا کو سلام کرتے۔ لیکن وہ بات نہیں کرتے، بس سر پر ہاتھ رکھ دیتے۔ اکثر چچاؤں کے ساتھ مسجد میں افطاری کرتے، کیونکہ مسجد میں افطاری کرنا افضل سمجھا جاتا تھا۔ کوئی سندھی، مہاجر نہیں، چھوٹے بڑے کا فرق نہیں، ایک ہی صف میں سب روزہ افطار کرتے۔
مذہبی رواداری کا خوب مظاہرہ ہوتا۔ عید کا چاند نظر آتے ہی اعتکاف ختم ہوتا اور پورا محلہ دادا ابا کو ہاروں، پھولوں سے لاد دیتا اور بڑے چچا اپنے دوستوں کے ساتھ کندھے پر گھر لے کر آتے۔ سب آ کر دادا ابا سے ہاتھ ملاتے اور ہم فخر سے بتاتے ہمارے دادا اعتکاف میں بیٹھے تھے۔
ایک رمضان ایسا گزرا جب ہم اپنی روزہ کشائی کی تیاری کے ساتھ لاڑکانہ پہنچے۔ امی نے وعدے کے مطابق ٹیکے بنوائے تھے اور گلابی رنگ کے سوٹ، دوپٹے میں کرن لگی لیکن یہ خوشی دوبالا ہوگئی جب دادی اماں نے بتایا کہ میں نے پوتیوں کے بروکیڈ کے سوٹ بنوائے ہیں، وہی پہنیں گی۔
دادا کے مشورے سے انتیسواں روزہ رکھوایا گیا جب تک ڈیڈی بھی حیدرآباد سے پہنچ گئے تھے۔ ڈیڈی ہم بہنوں کے لال رنگ کے کوٹ تحفے میں سلوا کر لائے۔ یہ جنوری کا رمضان تھا، کڑاکے دار سردی تھی۔ سحری میں گھر میں چہل پہل تھی۔ پراٹھوں کی خوشبو، قیمہ، انڈے، حلوہ، سب ہی کچھ تو تھا۔ بڑے کمرے میں انگیٹھی کے ارد گرد بیٹھ کر سب کے ساتھ سحری کی، سب ایک ایک لقمہ ہمیں یعنی مجھے اور میری بہن کوکھلا رہے تھے۔
دادی اماں کو ہماری فکر تھی، سحری ختم ہونے سے پہلے کہا،پانی بھی پلاؤ بچیوں کو۔ ہمارا پھوپی کا بیٹا ڈرا رہا تھا کہ ،بہت پیاس لگے گی، کچھ کھانے کو نہیں ملے گا۔ دادا ابا نے روزے کی نیت کروائی اور دونوں چھوٹی پھوپھیوں کے حوالے کردیا کہ چوکیداری کرتی رہیں۔ سو کر اٹھے تو زیادہ محسوس نہیں ہوا۔ بڑے چچا تانگہ لے آئے سب بچوں کو لیکر پورا لاڑکانہ گھمایا۔ ہم گھر جانے کا کہتے تو ٹال جاتے آخر دوپہر ہوگئی، پھر دوبارہ سلادیا گیا۔ سوکر اٹھے تو گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔
گھر میں ہی افطاری بن رہی تھی، لال شربت بہت بڑے پتیلے میں بنا اور برف منگوا کر ڈالی گئی۔ بڑے ہال میں خواتین اور بیٹھک میں مردوں کا انتظام تھا۔ بلڈنگ پر رنگ برنگی مرچی لائیٹیں رشید چچا نے لگوائیں، سب بہت خوش تھے۔ نفیسہ پھوپی نے ہمیں تیار کیا، ہلکا میک اپ بھی کردیا، آنکھوں میں کاجل پھر ٹیکاسیٹ کیا۔ خوب خوش تھے لیکن پلیٹ میں کھجور دیکھ کر رہ نہ سکے مٹھی بھر کر جیب میں رکھ لیں، چھوٹی پھوپی نے پکڑ لیا، کہا افطار میں ملیں گی۔
دادا ابا ہم دونوں کو روزہ افطار کروانےمردانے میں لے گئے، اذان ہوتے ہی روزہ افطار کیا توجان میں جان آئی۔ ہم بہادری سے کہہ رہے تھے بالکل روزہ نہیں لگا۔ سب سے اہم نوٹوں کے ہار تھے جو ہم مستقل پہنے رہے۔ رات کو پورا خاندان اسٹوڈیو میں تصویر کھنچوانے گیا۔
اب بھی وہ یادگار گروپ دیکھتے ہیں تو ہر منظر نظروں میں گھوم جاتا ہے۔ پچپن کا رمضان تو مشینی ہوگیا ہے۔ چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی نظر آجاتا ہے کبھی ٹی وی کے اعلان پر خوش ہوجاتے ہیں۔ سحری میں اکا دُکا جگانے والا ڈھول بجاتا آتا ہے، وہ بھی آخر کے روزوں میں، ورنہ ٹی وی چینل زندہ باد۔ شکر ہے ہمارے علاقے میں روائتی سائرن بجتا ہے اور اذان کی آواز بھی آتی ہے۔
سسرال کی روایت ہم نے اور ہماری بہو نے بھی قائم رکھی ہے۔ روز مسجد میں افطار بھیجنا، پھر ایک دن سارے محلے میں افطار بانٹنا کوئی بھیجے نا بھیجے۔ ہر چیز بنی بنائی مل جاتی ہے، آن لائن بھی بہت سی چیزیں منگوا لی جاتی ہیں، لیکن پھر بھی رمضان سے پہلے سفید چنے، کالے چنے اور لوبیا اُبال کر پیکٹ بنا لیتے ہیں۔
سموسے، رول، پیٹیز بھی بنا کر فریز کر لیے، تاکہ افطاری میں تھکان نہ ہو اور عبادت کا وقت مل جائے۔ سوچتی ہوں، پتہ نہیں پہلے کیسے عورتیں گھر کے یہ سارے کام بھی کر لیتی تھیں اور ساتھ ساتھ عبادت، ختم القرآن بھی، شاید وقت بھاگ رہا ہے۔ اب بھی وقت ہے اس بھاگتے وقت کو پکڑ لیں اور اپنے حصے کی خوشیاں کشید کر لیں۔ اللہ پاک ہمیں رمضان المبارک کی رحمتوں، برکتوں سے مستفیض فرمائے آمین۔