اسلام آباد سے بھابی کا فون آیا،کہا بہت پریشان ہوں سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔ آپ کے بھائی چند دنوں سے کچھ بدلے بدلے سے ہیں۔ نا نظر اٹھا بات کرتے ہیں اور نا ہی کسی بات کا طریقے سے جواب دیتے ہیں، بس ہاں ہوں میں جواب دے رہے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بھی ہنسنا کھیلنا ختم، تم تو جانتی ہو وہ کتنے زندہ دل خوش مزاج ہیں۔ ان کے آفس سے آتے ہی ہمارا گھر کھیل کا میدان بن جاتا ہے، مگر نجانے کیا ہو گیا، تم بات کرو نا اپنے بھائی سے، پوچھوان سے کیا مسئلہ ہے؟
فرصت پا کر بھائی کو فون کیا، پوچھا کوئی مسئلہ کوئی پریشانی ہے، کیا بھابی سے کوئی بات ہوئی ہے …؟ نہیں نہیں تو،پھر عجیب لہجے میں کہا، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ، اسمبلی سے نیا قانون منظور ہو گیا ہے۔اب بیوی کو گھورنا جرم بن گیا ہے، گھورا تو سزا ملے گی ،میری تمہاری طرح چھوٹی چھوٹی آنکھیں تو ہیں نہیں۔میں تو نظر اٹھا کر بھی دیکھوں تو سامنے والے کو گھورنا لگ سکتا ہے،ایسے میں کیا کروں ؟ارے بھائی آپ بھی نا؟
بھائی سے بات کر کے سوچاکہ، واقعی نظر بھر کر دیکھنے اور گھورنے میں بس تھوڑا ہی تو فرق ہے۔ یعنی اب نظر بھر کر دیکھنا محال اور پھر نظر بھر کر دیکھنے والا کیا ثبوت پیش کرے گا،گھور تو ہر گز نہیں رہا تھا،مگر شنوائی۔ ؟
بہرحال خواتین کو مبارک کہ بیوی بچوں کے سماجی تحفظ کے مشترکہ اجلاس ڈومیسٹک وائلس پریونیشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2026ء منظور کر لیا گیا جس کا اطلاق وفاقی دارالحکومت میں ہوگا، جہاں بیوی کو گھورنا، دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی دینا، معاشی تشدد اور خرچہ روکنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ بیوی بچوں یا گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد کو گالی دینا بھی قابل سزا جرم قرار، بیوی بچوں کا تعاقب کرنا بھی جرم قرار۔
بیوی بچوں یا گھر میں موجود دیگر افراد کی دیکھ بھال اور کفالت میں غفلت برتنا بھی جرم ہوگا درخواست دائر ہونےکے 7 روز کے اندر سماعت اور 90 دن میں لازمی فیصلہ سنانا ہوگا۔ سنگین نوعیت کے کیسز میں ملزم کو جی پی ایس ٹریکر پہنادیا جائےگا۔
کم از کم 6 ماہ قید اور زیادہ سے زیادہ3 سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ قانون کے مطابق گھریلو تشدد سے مراد جسمانی جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی بدسلوکی ہے، جس سے متاثرہ شخص میں خوف پیدا ہو یا جسمانی، نفسیاتی نقصان ہو۔
اس قانون کے متعلق کہاجارہا ہے کہ اس کے ذریعے شوہروں کو ایک حد اور دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ جب تک معاشرے کا مجموعی رویہ اور ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی اس وقت تک اس قانون کےاثرات نظر نہیں آئیں گے اور قانون کی تشریح ونفاذ میں احتیاط نا برتی گئی تو اس کا غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے۔
ازدواجی زندگی کے معمولی اختلافات، وقتی ناراضگی اور سخت لہجے کو بغیر شواہد کے تشدد قراردینا نا انصافی ہوسکتی ہے، کیونکہ اس سے ناصرف خاندانی نظام متاثر ہوسکتاہے، بلکہ بے گناہ افراد کو قانونی پیچیدگیوں اور ذہنی اذیت کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ہر نظر ہر خاموشی یا سخت لہجے کو مجرمانہ نیت سے جوڑ دینا بھی نا انصافی ہوگا۔
صوبائی سطح کے قوانین تو پہلے بھی موجود ہیں، جیسے:
٭پنجاب پروٹیکشن آف وومن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016
٭سندھ ڈومسٹک وائلنس ایکٹ 2013
٭ بلوچستان ڈومسٹک وائلنس ایکٹ وومن 2014
٭ خیبرپختونخواہ ڈومسٹک وائلنس اگینٹ وومن 2021
یہ تمام قوانین گھریلو تشدد کے خلاف عورت کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، جس میں جسمانی نفسیاتی اور معاشی تشدد سمیت گھریلو ذیادتی کے معاملات شامل ہیں۔ ان قوانین کا کتنا اطلاق ہوتا ہے سوال تو یہ ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے عورت کو بڑا مرتبہ دیا۔
اسے اپنی تخلیق کو دنیا میں لانے کا ذریعہ بنایا اور اسے ماں کے عظیم منصب پر فائز کردیا۔ نبی کریمؐ نے عورتوں کو آبگینہ قرار دیا اور فرمایا کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورت کے ساتھ حسن سلوک کو ایمان کی علامت قرار دیا۔
وطن عزیز پر نظر ڈالیں تو اس وقت پاکستان عورتوں کیلئے تیسرا خطرناک ملک ہے۔ یہاں سالانہ قریباً5000 عورتیں تشدد سے ماردی جاتی ہیں،47 فیصد عورتیں گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔
پاکستان میں عورتوں پر گھریلو تشدد ایک سنگین سماجی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ اس میں جسمانی، جنسی، نفسیاتی معاشی اور سماجی تشدد شامل ہے،جس کا تعلق عورتوں کے گھریلو اور خاندانی ماحول سے ہوتا ہے، ایک سروے کے مطابق قریباً 90فی صد عورتیں اپنی زندگی میں کسی نا کسی شکل میں گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔
سیکڑوں واقعات پر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور بہت سے واقعات تو گھروں کی اونچی دیواروں کے پیچھے ہی چھپ جاتے ہیں، کوئی آواز کوئی سسکی کوئی چیخ باہر نہیں آتی۔
پھر بات وہی کہ قوانین تو موجود ہیں مگر ان کا اطلاق کیوں کر ہو اور عملدرآمد کیسے ہو۔
٭ بہت سے کیسز یا شکایات پولیس خود سرچ ہی نہیں کرتی۔
٭بہت سی خواتین سماجی دباؤ خاندانی پابندیوں اور محدود رسائی اور وسائل کی وجہ سے انصاف حاصل نہیں کرپاتی ہیں۔
٭ بہت سے خاندان گھریلو تشدد کو نجی معاملہ سمجھتے ہیں۔
٭ بہت سی خواتین معاشی انحصار اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے شکایت کا حوصلہ نہیں کر پاتی ہیں۔
بدلنا ہے تو اسے بدلو، نظام بے کشی بدلو
وگرنا جام و مینا کے بدل جانے سے کیا ہوگا
سماجی رویوں کے لئے قوانین نہیں بنائے جاسکتے ان کے لئے تعلیم اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ غلط روایات کے خلاف تحریک کی ضرورت ہوتی ہے،تاکہ ذہن سازی ہوسکے، جس میں عورتیں بڑا حصہ ڈال سکتی ہیں۔ اپنے بچوں کی احسن تربیت کے ذریعے صنفی امتیاز نا ہو،کوئی کمتر یا برتر نا ہو۔ بیٹوں کو اپنی بیویوں سے اچھا سلوک کرنے کی ترغیب اور تربیت ہو۔
حقیقت تو یہ ہے کہ، مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنا سیکھنا ہوگی، دونوں کو خود احتسابی سکھنا ہوگی۔ انہیں چاہئےکہ وہ اپنی ذاتی تربیت اور رویوں پر غور کریں اور خود کو سدھارنے کی کوشش کریں اذدواجی زندگی اور خاندانی نظام کی اہمیت اور خوبصورتی کو سمجھیں۔ ایک دوسرے کی توقیر کو پہچانیں… اللہ نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔
عام طریقوں کے بعد بھی رشتہ نا چل پائے تو قرآن کے بتائے طریقے کے مطابق فیصلہ کریں۔ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ 2026 میں بظاہر سزا مرد کو دی جارہی ہے مگر درحقیقت اس سے متاثر عورت اور بچے بھی ہوں گے، شوہر کو سدھار نے کیلئے کوئی عقلمند عورت تین سال جیل میں نہیں ڈلوائے گی، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس طرح مسئلہ مزید بڑھ جائے گا۔
سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر شوہر کو تین سال قید ہوجاتی ہےاور عورت معاشی طور پر خود مختار نہیں ہے تو تین سال اس عورت کے اور ان کے بچوں کے اخراجات کون پورے کرے گا، حکومت، عورت کے ماں باپ یا پھر بھائی؟ کیونکہ سسرال والوں نے تو پلٹ کر دیکھنا بھی نہیں ہے۔
تین سال جیل بھگتنے کے بعد کیا وہ شخص اس عورت کو اپنے گھر میں رکھے گا یا واقعی طلاق دے کر فارغ کردے گا۔ یعنی طلاق کی شرح بھی بڑھ سکتی ہے۔ دوسری جانب مرد شادی سے بھی متنفر ہوسکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیشہ مرد ہی غلط نہیں ہوتا کبھی کبھی عورتیں بھی غلط ہوتی ہیں،یوں دونوں کو نقصان اُٹھانا پڑسکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں عدالتیں، پولیس اور سماج کیا ان مسائل کو سنبھال لیں گے…؟
قانون کے ذریعے بدلنے کے بجائے خود ہی خود کو بدل ڈالو اور بکھرتے ہوئے خاندانی نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کرو۔