روبینہ یوسف
عید روح کو اُجالے بخشنے والا تہوار ہے۔ چاند کا روپہلا، پہلا پہلا عکس جب آسمان پر کھلکھلاتا ہے تو رات کی سیاہ چادر نگینوں کی طرح جھلملا اٹھتی ہے۔ چاندنی کا عکس ہر دل کی دہلیز پر اترنے لگتا ہے۔ رمضان کے تقدس کے ہالے میں لپٹے دن، رات، عید کی صبح، پاکیزگی سے مزید نکھر جاتے ہیں۔
روزے کی سختیوں اور تراویح کی مشقتوں کے بعد یہ انمول انعام کی صورت مسلمانوں کو تر و تازہ کر دیتا ہے۔ سحری کی خمار آلود آنکھوں میں یہ دن روشنی بن کر چمکتا ہے۔ چوڑیوں کی کھنک، مہندی کے پیراہن سے سجے ہاتھ پاؤں ،عطر کی مہک، بچوں کی شوخی اور لڑکیوں بالیوں کے چنچل پن سے یہ روزِ عید مسکرانے لگتا ہے۔
عید گاہ کی طرف بڑھتے قدم خالقِ کائنات کی مدح سرائی سے سرشار ہوتے ہیں۔ میٹھے پکوان رشتوں کو بھی مٹھاس عطا کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوشی جب تک تقسیم نہ ہو، ادھوری رہتی ہے۔ دلوں کی بند تجوری کھولنے کی یہ چابی ہے۔ سکون، احساس اور طمانیت میں لپٹا عید کا سورج بے مروّتی، نا اتفاقی اور سرد مہری کو نگل جاتا ہے۔
بزرگوں کی دعاؤں سے یہ دن تکمیل پاتا ہے۔ عیدی کے لیے پھیلائے گئے ننھے ہاتھ شراکت داری کا احساس سکھائےہیں۔ عید کی اصل روح یہ ہے کہ وہ ہمیں خود سے ملواتی ہے۔ زندگی کے جھمیلوں میں ہم نہ جانے کب، کس وقت اور کہاں خود سے بچھڑ جاتے ہیں۔ یہ روزِ سعید ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔
کیا ہمارے دل میں کسی کے لیے رنجش و کینہ تو نہیں؟ کیا ہماری دعائیں صرف اپنی ذات کے لیے خود غرضی کے کڑوے پودے کو پھلنے پھولنے کا موقع تو نہیں دے رہیں؟ اگر ایسا ہوا تو اس وجود پر، اس آنگن پر عید نے گویا قدم دھرے ہی نہیں۔ وقت کا پرندہ اڑ جائے گا اور اگلی عید نصیب ہو یا نہ ہو یہ کس کو پتہ؟؟ شام ڈھلنے پر بھی عید ہمارے دلوں میں آگہی اور خود احتسابی کا ایک چراغ جلا جاتی ہے۔
ممنونیت، احترام اور تقدسِ انسانیت کا چراغ اگر ہم سال بھر جلائے رکھیں تو ہر دن عید ہو سکتا ہے۔ حساسیت کا مسلسل سفر ہے۔ یہ ہمیں باور کراتی ہے کہ حقیقی زیور دلوں کی وسعت ہے، جب تک ہم بانٹتے رہیں گے، درگذر کرتے رہیں گے، دوسروں کی مسکراہٹوں کا سامان کرتے رہیں گے، اس وقت تک عید کا پیغام اپنی معنویت کو نہیں کھو سکے گا۔
یہ محض ایک تہوار کا نام نہیں بلکہ انسانی جبلّت میں موجود اجتماعیت کی پیاس بجھنے کا ایک فطری ذریعہ ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے انسان جب مسلسل مادی دوڑ اور انفرادی مصروفیات میں جکڑا رہتا ہے، اس کی روح جمود کا شکار ہو تی رہتی ہے۔ یہ تہوار ایک ایسے تھراپی سیشن کے طور پر اُبھرتا ہے جہاں سماجی ہم آہنگی کے تحت فرد کی تنہائی مٹ جاتی ہے۔
جب مختلف طبقات کے لوگ ایک ہی صف میں سجدہ ریز ہوتے ہیں تو انا کی دیواریں مسمار اور باہمی کدورتیں دھل جاتی ہیں۔ اگر عید کے فلسفے پر غور کیا جائے تو یہ تزکیۂ نفس کے ایک طویل مرحلے کا منطقی انجام ہے۔ رمضان المبارک کی ریاضت، ضبط نفس اور خواہشات پر پہرا بٹھانے کے بعد عید الفطر دراصل اس روحانی فتح کا جشن ہے۔
یہ خوشی مادی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ یہ اطمینانِ قلب کا نام ہے۔ اس تناظر میں عید الفطر ایک انعام ہے جو انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ مشقت کے بعد راحت کا وعدہ برحق ہے۔ جدید دور کی ٹیکنالوجی نے جہاں فاصلے سمیٹے ہیں وہاں دلوں کے درمیان ایک مصنوعی پردہ بھی حائل کر دیا ہے۔ عید کے موقع پر وہ گرم جوشی اب مفقود ہوتی جا رہی ہے، جو کبھی گلے ملنے اور دستک دینے میں پنہاں تھی۔
عید مبارک کے میکانیکی فارورڈڈ پیغاما ت انسانی لمس کی جگہ لے چکے ہیں۔ عید کے حقیقی جوہر یعنی ملاقات کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گئی ہے ۔عید جہاں خوشی کا پیغام لاتی ہے وہیں سفید پوش گھرانوں کے لیے کڑا امتحان بھی لے کر آتی ہے۔
عید کی چمک دمک ان کی محرومیوں کو مزید نمایاں کر دیتی ہے۔ ایک حساس معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ ان محروم طبقات کی خوشیوں کا ضامن بنے۔ اس تہوار کا اصل حسن لذیذ پکوانوں میں نہیں بلکہ اس احساس میں ہے کہ کوئی غریب بھی اس دن حسرت زدہ نہ رہے۔
یہ تہوار محض 24 گھنٹوں پر محیط ایک دن نہیں بلکہ وقت کی لہروں پر ایک ایسا روحانی ٹھہراؤ ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل کا سنگم ہوتا ہے۔ ماضی کی صورت میں یہ ہمارے آباءو اجدادکی روایات اور بچپن کی خوشبوؤں کو زندہ کرتا ہے۔ حال کی صورت میں یہ ہمیں لمحۂ موجود کی مسرتوں میں جینا سکھاتا ہے اور مستقبل کے حوالے سے یہ بڑے اجر اور یومِ جزا کی اُمید کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
یہ فلسفہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ وقت صرف گزرنے کا نام نہیں بلکہ ہر گذرتا لمحہ روح کی بالیدگی کا ایک موقع ہے۔ اسلامی تناظر میں عید الفطر اللّہ اور اس کے بندے کے درمیان ایک روحانی معاہدے کی تکمیل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بندہ ایک ماہ تک اپنی خواہشاتِ نفس کو خالق کے حکم پر قربان کرتا ہے اور عید اس قربانی کے صلے میں رب کریم کی طرف سے عطا کردہ اعزاز ہے۔
یہ خوشی اس لیے ارفع ہے کہ اس کا منبع مادی اشیاء نہیں بلکہ اللّہ کی جانب سے دی گئی توفیق اور قبولیتِ عمل کی نوید ہے۔ یہ ایک ایسا میثاق ہے جو ہر سال بندے کے ایمان کو تر و تازہ کرتا ہے۔ عید پر زیبِ تن کیا جانے والا نیا لباس اور گھروں کی تزئین و آرائش اسلامی جمالیات کی عکاسی کرتی ہے۔ عید کا حسن اس سادگی میں ہے جو نفاست سے آراستہ ہو۔ جہاں انسان اپنے ظاہر کو بھی باطن کی طرح اُجلا رکھنے کی سعی کرتا ہے۔
برسوں کی رنجشیں، خاندانی کج ادائیاں اور انا کے جھوٹے حصار ایک معانقے کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں۔ صلۂ رحمی کا یہ عمل سوشل سرجری بن کر رشتوں کی پیوند کاری کرتا ہے۔ چاند کی روایت محض ایک کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ انسانی جذبوں کے مد و جذر کا ایک حیاتیاتی میلہ ہے۔ یہ مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح کائنات کی ایک چھوٹی سی تبدیلی یعنی ہلال کا نمودار ہونا پوری دنیا کے اربوں انسانوں کے جذبات، دسترخوان اور رویّوں کو اکثر بدل دینے کی طاقت رکھتی ہے۔
وطن سے دور بسنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے عید اسکرینوں پر سمٹ آئی ہے۔ ویڈیو کالز کے ذریعے منائی جانے والی عیدیں ڈیجیٹل نوسٹلجیا پیدا کرتی ہیں جہاں انسان جسمانی طور پر کہیں اور ذہنی طور پر کہیں اور ہوتا ہے ۔عید کو ایک ایسی روحانی تجربہ گاہ تصور کیا جا سکتا ہے جہاں انسانی رویّوں کی جانچ ہوتی ہے۔ ایثار، ہمدردی، غصّے پر قابو اور دوسروں کو معاف کر دینے جیسے اوصاف جو رمضان میں سیکھے گئے، ان کا پہلا عملی امتحان عید کے دن ہوتا ہے۔
یہ دن واضح کرتا ہے کہ ہم نے تربیت کے اس مرحلے سے کیا سیکھا اور ہم عملی زندگی میں ان اخلاقی اقدار کو کس حد تک برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ دن ہمیں اپنے تاریخی ورثے سے جوڑنے کا ایک ذریعہ ہے جب ہم وہ روایات دہراتے ہیں جو صدیوں پہلے ہمارے اسلاف نے اپنائی تھیں تو ہم دراصل تاریخ کے ساتھ ایک مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ عمل ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم تنہا نہیں ہیں بلکہ ایک عظیم الشان تاریخی تسلسل کا حصہ ہیں۔ اس دن کا ہر گذرتا لمحہ ہمیں ماضی کی عظمت اور مستقبل کی ذمہ داریوں سے روشناس کراتا ہے۔ یہ تہوار کسی بھی ملک کے قومی تشخص اور تعمیرِ وطن میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب کسی ملک کے شہری ایک ساتھ عید ملتے ہیں تو ان کے درمیان ایک مشترکہ قومی مفاد اور اجتماعی مقصد جنم لیتا ہے۔
یہ تہوار عوام کے دلوں میں اپنے وطن کی مٹی، اپنی روایات اور اپنی زمین سے جڑی ہوئی خوشبوؤں کے لیے تڑپ پیدا کرتا ہے جو بالآخر حب الوطنی کے جذبے کو جلا بخشتا ہے۔ عید کی صبح نماز سے قبل اور بعد میں چھائی ہوئی ایک مخصوص قسم کی سنجیدگی اور خاموشی روح کے تاروں کو چھیڑتی ہے۔ یہ خاموشی شور و غل کا متضاد نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں انسان اپنے اندر کے شور کو دبا کر کائناتی سکون سے جڑ جاتا ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں کلام ختم ہو جاتا ہے اور صرف احساس باقی رہ جاتا ہے۔عید کی تیاریوں میں خواتین کا کردار محض کچن یا آرائش تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک نسوانی وجدان ہے جو گھر کی فضا میں اپنائیت اور محبت کا روغن بھرتا ہے۔ اس عید پر بھی ہمیشہ کی طرح خوشیاں بانٹنے کا اہتمام کیجئے۔