روبینہ یوسف
چمنستان زندگی کا پھول صرف اور صرف عورت ہے۔ اس ضمن میں اُس پر کچھ فرائض بھی عائد ہوتے ہیں۔ مثلاً رمضان میں خود سے ملاقات کرے۔ سحری افطاری کے درمیان اپنی روح کی پکار سنے۔ رمضان صرف دسترخوان کی تیاری کا نام نہ ہو، دل کے چراغ جلانے کا سبب بنے۔
یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ خواتین اس ماہ مبارک میں روحانی تعمیر کی اصل معمار بن کر سامنے آتی ہیں۔ سحری کی پرنور ساعتوں میں تلاوت قرآن، دروس قرآن اور تراویح کی تیاری کے ذریعے گھر کی فضا کو رمضان سے منسلک مہک سے معطر کر دیتی ہیں۔
ان کی باطنی صلاحیتیں بھی نکھر کر سامنے آتی ہیں، کیوں کہ حالت روزہ میں گھر کے کام کاج، عبادت کا شیڈول، بزرگوں کی خدمت بے مثال جذباتی استقامت کا مظہر ہوتی ہیں۔ ہر نوالے میں خلوص نیت اور ہر گھونٹ میں سیرابی کا خوش کن احساس ہوتا ہے۔ ہر فرد کو اپنے بچپن کا رمضان ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ نورانی صبح اور تقدس میں لپٹی راتوں کی ساعتیں روح کو گرما دیتی ہیں۔ اس مہینے میں روح پرور اجتماعی عبادت کی جاتی ہے۔
آن لائن فہمِ قرآن، اصلاحی مجالس دورہ قرآن اور ویبینارز کے ذریعے خواتین کی مذہبی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔ ضرورت مندوں محتاجوں اور مساکین میں اشیائے ضروریہ کی تقسیم زیادہ تر خواتین ہی کرتی ہیں۔ ان کا یہ احسن عمل آنے والی نسلوں کے لیے حسنات کا بیج بن جاتا ہے۔ ان کے بچوں میں غرباء کے لیے ہمدردی، اپنائیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
ایک اور خوبی ان کی اس ماہ مقدس میں کھل کر سامنے آتی ہے اور وہ ہے بہترین مالی منتظمہ کا کردار ادا کرنا۔ گھروں کی غیر مرئی معیشت کو اپنے تدبر سے بہتر بنانااور احسن طریقے سے رمضان اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا بھی کروانا بھی، یہ صرف ایک عورت ہی کر سکتی ہے۔ اپنی محنت سے بنائے بجٹ کے اندر رہتے ہوئے انواع و اقسام کی نعمتوں سے دسترخوان سجا دینا، روحانی طور پر سیر ہونے کا باعث بنتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل یلغار کے دور میں مقررہ وقت پر دسترخوان کی سجاوٹ اور سب کا مل بیٹھنا قربت اور تعلقات کے حسن کا سبب ہے، بے شک یہ خواتین کی ہی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق میں جلوہ فگن مسلم خواتین اولیاء، محدثات اور عابدات کے رمضان کے معمولات، مجاہدات اور روحانی مشقیں بچوں کے علم میں لائی جائیں تو بچوں کے لیے یہ قابل تقلید عمل ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ماہ مقدس کی خصوصی ساعتوں میں خلوص سے کی جانے والی عبادات غم و محرومیوں اور جذباتی کچوکوں کو زائل کرتی ہیں گویا یہ زخموں کی رفو گری کا مہینہ ہے۔ ماہ مقدس کے تیس دن اور ان ایام کا ہر گھنٹہ اور ہر لمحہ بہترین موٹیویشنل استاد بن جاتا ہے۔
رمضان میں رسمی اور غیر رسمی روابط کے ذریعے کبھی افطار پارٹیوں کی صورت اور کبھی اجتماعی دعائیہ تقریبات کے ذریعے، خواتین دینی شعور کے تبادلے کا مؤثر ذریعہ بن جاتی ہیں۔ یہ تقریبات جذباتی معاونت کی تشکیل کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
بچوں کو اعلٰی اخلاقی اقدار پر مشتمل معاشرے کی تزئین نو کا موقع ملتا ہے۔ ثقافتی یادداشت کا ورثہ عورت ہی اپنے بچوں میں منتقل کرتی ہے ۔نئی نسل کی مائیں اپنے گھروں میں رمضان المبارک کی دعاؤں کا چارٹ بنا کر دیوار پر لٹکا دیتی ہیں۔ آہستہ آہستہ ذہنی طور پر بچوں کو روزے کی عادت کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
رمضان اور حدیثوں کے پوسٹرز لگائے جاتے ہیں۔ رات کی تنہائیوں میں اپنے خالق حقیقی سے تعلق کو کیسے ہمیشگی بخشی جائے؟ اس کا ادراک بھی انہی مقدس گھڑیوں میں ہوتا ہے۔ الغرض یہ تمام پہلو خواتین کے رمضان کو صرف فرض یا نفلی عبادات تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے روحانی، معاشرتی سماجی اور سب سے بڑھ کر ذاتی جہات کی راہیں متعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ رمضان کریم میں گھریلو فضا روحانی کائنات کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
تلاوت کی مدھر گونج، دعاؤں کی سرگوشیاں، بچوں کا تبسم، برتنوں کی کانوں کو بھلی لگنے والی کھنک۔ یہ سب مل کر ایک ایسی روحانی سمفنی تشکیل دیتے ہیں، جس کی خاموش مگر شاہکار موسیقار خاتون خانہ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بہت سے گھرانوں میں عورت کو صرف کام کرنے کی مشین سمجھا جاتا ہے۔ اس کے لگے بندھے معمولات جو کہ رمضان کریم میں دگنے ہو جاتے ہیں، ایسی قربانیاں ہیں جنہیں کبھی ثواب یا احسان مندی کے ترازو میں تولا ہی نہیں جاتا۔
خواتین کی عبادت افراد خانہ کی ضروریات کی تکمیل میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔کسی اور کو نظر آئے یا نہ آئے مگر مالک حقیقی سب جانتا ہے۔ وہ کسی کی قربانیوں، دعاؤں اور احساسات کو رد نہیں کرتا۔ یہ خالق اور تخلیق کے درمیان ایک خاموش معاہدہ ہوتا ہے۔ عبادات ہمیں مالک حقیقی کے قریب لاتی ہیں۔