ان گھروں میں جہاں آج بھی سال کے آغاز پر رنگ برنگی تصاویر یا دیدہ زیب خطاطی پر مشتمل کلینڈر دیواروں پر آویزاں کیے جاتے ہیں۔ نئے سال کے ساتھ نئے کلینڈر سج گئے ہوں گے۔ کیلنڈر کے صفحات پلٹتے ہوئے نہ جانے کیسے کیسے خیال و خواب کے دریچے کھلتے بند ہوتے ہیں۔ کسی مہینے کے ساتھ ہماری روپہلی یادیں وابستہ ہوتی ہیں تو کسی ماہ کو دیکھتے ہوئے تلخ و ترش کہانیاں گرداب بن کر یادوں میں آ بستی ہیں۔ لیکن اگر دیکھیں تو یہ زندگی کا حصہ ہیں۔
گزشتہ عشروں میں کتنے ہی کیلنڈروں کا سفر ہم نے طے کیا۔ ان سے گھروں، دفتروں، اسکول اور ہسپتالوں میں دیواریں اور میزیں سجائیں، کبھی دل، ذہن اور انگلیوں پر گزرتی تاریخوں کا حساب رکھا تو کبھی بدلتے موسموں کا، نہ رکھا تو زندگی کے سود و زیاں کا حساب کتاب۔ 2025 بھی نہ جانے کتنے ارمان و آرزوؤں کو جمع تفریق کرتے، ترتیب وتدوین کی مشقت اٹھاتے مٹھی سے پھسل گیا۔ اگر آپ نے حساب کتاب کیا اور کچھ حاصل ہوا تو یہ آپ کی کامیابی ہے لیکن مٹھی خالی رہی تو سمجھیں یہ سال بھی کچھ حاصل کیے بغیر تمام ہوا۔
چلیں جو گرز گیا، سو گزر کیا۔ ابھی سال کی ابتدا ہے، کیوں نا اپنے اہداف سیٹ کریں۔ وقت کے بےرحم سمندر سے اپنے لیے کچھ قیمتی موتی ڈھونڈ لیں۔ چلیں تو پھر مل کر یہ کام کرتے ہیں۔ سب سے پہلے تو دل و دماغ سے منفی سوچیں، منفی خیالات نکال دیں جن کے اثرات آپ کی ذہنی، فکری، جسمانی صحت، جذباتی و روحانی کیفیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مثبت کی طرف پیش قدمی اگرچہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اپنی غلطیوں کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش بھی شخصیت کو سنوارنے کی طرف مثبت قدم ہے۔ لوگوں کے طنز و ترش جملے، استہزاء کلمات سے آپ کے قدم ڈگمگاجاتے ہیں، کہنے والے تو کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن سننے والے سن کر آگے نہیں بڑھ پاتے بلکہ ٹھٹک کر وہیں ٹھہر جاتے ہیں یا پھر الٹے قدموں چل پڑتے ہیں۔
الفاظ سے زخمی کرنے والے زندگی میں بہت ملیں گے لیکن جیسے وہ آگے بڑھتے ہیں اسی طرح آپ بھی آگے بڑھیں یہاں تک کہ ان کو بھی پیچھے چھوڑ دیں۔ کانوں سے سننے والی بات اگر بھلی ہے تو خوب، ورنہ یاد رکھیں وہ دل و دماغ میں بسانے والی نہیں، نہ ہی اس کو لے کر آنے والا کل خراب کرنے کی ضرورت ہے ۔بس یہ سوچ لیں کہ ان کے پاس کہنے کو جب کچھ نہ رہا۔
بلا وجہ کی توقعات آپ ہی کے راستے طویل کرتی ہیں، لہٰذا جو پتھر آپ کے راستے کو دشوار بنانے کے لیے پھینکے جائیں ان ہی پتھروں سے اپنی بنیاد مضبوط کریں۔ حقیقت سے نظریں چرانا عقلمندوں کا شیوا نہیں۔ یہاں بھی ایک کوشش کریں اور زندگی کو زندگی کی طرح لیں، گرچہ وہ کم ہی ملے گا، جس کی خواہش ہم رکھتے ہیں۔
ہم اکثر و بیشتر دوسروں کے بدلنے کا انتظار کرتے ہیں کہ پہلے وہ بدل جائیں پھر ہم اپنے آپ کو بدل لیں گے لیکن یہ انتظار، انتظار ہی رہتا ہے۔ لہٰذا سمجھداری اسی میں ہے کہ پہلی کرن آپ ہی بن جائیں۔ کیا پتاہمارے بدلنے سے دوسرے کو ترغیب مل جائے۔ لہٰذا ہم ہی باغ کے خوشبو دار پھول بن جائیں۔ تتلیاں اور پنچھی ہرے بھرے گلستانوں میں آہی جاتے ہیں۔
بحیثیت خاتون خانہ اندرونی و بیرونی معاملات و حالات سے بہتر طریقے سے نمٹنا اور اس کے ساتھ اپنی ذات کو بھی سلجھائے رکھنا کٹھن ہے لیکن اس ہدف کو بھی پورا کرنا ہے۔ دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھنا دل گردے کا کام ہے، اس کا آغاز بھی ساتھ ساتھ کیجئے۔ آپ کو خود اپنی کمزوریاں نظر آنی شروع ہو جائیں گی۔ یہ ایک ایسی تھراپی ہے جو شخصیت کو نہ صرف سنوارنے میں مدد دے گی بلکہ عاجزی و انکساری کے وصف بھی پیدا کرے گی۔
صورت و سیرت میں یکتا ہونا بھی ہمارا ہدف ہونا چاہیے۔ توازن و اعتدال بھی شخصیت کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کر تا ہے۔ گلدان میں تازہ پھول ہی اچھے لگتے ہیں۔ باسی اور مرجھائے ہوئے پھولوں کی جگہ تو وہ کونا ہے۔ جہاں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرکے ڈالا جاتا ہے۔ دل سے ماضی کا وہ سارا کچرا سمیٹیں اور دور پھینک آئیں۔
اگر خوش رنگ جذبے زندگی میں نہ ہوں تو زندگی بے معنی اور بد رنگ ہو جاتی ہے۔ صحت مند مصروفیت تازگی اور فرحت بخشتی ہے۔ مشغولیت آپ کو اگر ایک طرف تھکاتی ہے تو دوسری طرف تازہ دم بھی رکھتی ہے۔ آج وقت کے ساتھ مختلف مراکز کھل چکے ہیں۔ نہیں توآن لائن ایک دنیا آباد بھی ہے اور آزاد بھی۔ اپنی دلچسپی کے مطابق کوئی مصروفیت ڈھونڈیں، خود کودن کے دو گھنٹے بھی دے سکیں تو بہت ہے۔
نیک لوگوں کی صحبت بھی کمال درجہ رکھتی ہے۔ علمی لوگوں کی لیاقت و صلاحیت سے فیضیاب ہوں۔ کہتے ہیں انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے، پھولوں کے ساتھ رہیں گے تو خوشبو آپ کے وجود سے بھی آئے گی۔ یہ تو چند گول تھے اگرچہ سہل نہیں لیکن کوشش کر کے انھیں اپنی زندگی میں داخل کرنے کی سعی تو کریں ۔ تو پھر آئیے،سال کے پہلے ماہ پہلی سیڑھی پر پیر جماتے ہیں۔