• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں چھے سال کی تھی۔ جب مجھے ایک بوڑھے دکاندار کی نظروں سے گھن آنے لگی، کیوں کہ اس کے اندر کا گند اُسکے چہرے سے جھلکتا تھا۔ نو سال کی تھی، جب ابا نے سمجھایا، اکیلے باہر مت جانا۔ باہر برے لوگ ہوتے ہیں۔ گیارہ سال کی تھی، جب خاندان سے مرد حضرات کے سامنے آنے سے جھجھک محسوس ہونے لگی۔ پندرہ سال کی عمر میں باقاعدہ پردہ کرتی تھی، سر سے پاؤں تک ، تو لوگ گھور گھور کر دیکھتے تھے۔

بیس سال کی ہوئی تو اکثریت کی باتیں ذو معنی اور انداز بےباک محسوس ہوا۔اکیس سال کی عمر میں مجھے ایک سہیلی نے کہا، اُسے کسی لڑکے نے چھیڑا ہے، تو میں نے کہا تم کپڑے ہی ایسے پہنتی ہو۔ مجھے تو آج تک کسی نے نہیں چھیڑا۔تئیس سال کی عمر میں، برقعے میں تھی۔ 

سڑک پہ بس کا انتظار کررہی تھی کہ ایک بوڑھے سیکیورٹی گارڈ نے فقرہ کس دیا اور میں شل رہ گئی۔ تنہا نہیں تھی، میرا بھائی اور بہن سڑک پہ ذرا فاصلے پہ تھے، ہراساں کرنے والا جوان نہیں تھا، بوڑھا تھا۔

گلی کاعام آدمی نہیں، حکومت کی طرف سے تعینات محافظ تھا۔ اُس وقت مجھے اپنی سہیلی یاد آئی، جسے میں نے زعم میں کہا تھا ، تم کپڑے ہی ایسے پہنتی ہو ، مجھے تو آج تک کسی نے نہیں چھیڑا۔ خدا نے میرا کہا، میرے منہ پہ مار دیا ۔ میرے گھر والے بہت یقین کرتے ہیں مجھ پہ، میں بھائی کو بتاتی، وہ منہ توڑ دیتا اُس کا۔ میں خود چیخ پڑتی اُس پہ۔ مجھ سے کچھ بولا ہی نہیں گیا، سوائے بھیگی آواز میں یہ کہنے کے کہ میرا بھائی سامنے کھڑا ہے ، میں اسے بتاؤں گی ۔اور وہ منہ کھجاتا ہوا دور ہو گیا۔ 

ہم سے کہا جاتا ہے کہ ایسے موضوعات پہ بات نہ کریں تو بہتر ہے ۔ خاموش رہیں تو مناسب ہے ۔کوئی لڑکی بتائے گی کہ اُسے بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے تو اُس کارشتہ کیسے طے ہو گا یا کوئی عورت اظہار کرے، اُس کا شوہر اُسے مارتا پیٹتا ہے تو اس کا گھر کیسے بسے گا گھر بسانے کے لیے اتنا تو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ کسی کی بیٹی کے پاؤں ڈگمگا جائیں تو پورا گاؤں اُس کے سر کی چادر کیوں نہ کھینچے۔ بیٹیوں سے غلطیاں نہیں ، گناہ ہوتے ہیں۔ ناقابل معافی گناہ۔

گناہوں کی سزا ہوتی ہے اور سزا پہ فوری عمل در آمد ہونا چاہئے۔

کون لڑکی ہے جو یہاں صاف آواز میں پُر اعتماد ہو کر یہ کہہ سکے، اُسے ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

پردہ دار لڑکی، بے پردہ لڑکی، اچھے کردار کی لڑکی، بُرے کردار کی لڑکی،جوان لڑکی، چھوٹی بچی، یا پھر بوڑھی، کوئی ایک کوئی ایک جو کہہ سکے ، نہ ستائی جائے۔

کسی نے لحاظ کر لیا کہ مکمل مناسب کپڑوں میں ہے، کسی نے خیال کر لیا کہ مر چکی ہے۔ اب کفن اور قبر کی بے حرمتی نہ ہو۔

ہمیں دبے لفظوں میں مائیں بتاتی تھیں، دھیان ہی نہ دیا کرو ایسے لفنگوں پہ۔ نظر ہی نہ اٹھایا کرو ۔ کسی لڑکی پہ کوئی الزام لگ جاتا تو منع کرتی تھیں کہ اُسکے ساتھ بیٹھا ہی نہ کرو۔ 

ہم نے بیٹوں کو کب بتایا تھا کہ نظریں نیچی رکھنا۔ ہم نے بیٹوں کو کب سکھایا تھا کہ بازار میں نکلے ہو تو تمہیں پرمٹ نہیں مل گیا کہ گندی نظروں سے دیکھو، ہونٹوں پہ زبان پھیرو، فقرہ کسو اور حریصانہ انداز میں ٹکرانے کی کوشش کرو۔

اگر پردے میں نہیں ہے تو اُس کا مطلب یہ نہیں کہ تمہاری جائیداد ہے ، جو سفید کرو، سیاہ کرو ۔ میں یہ سب کیوں لکھ رہی ہوں ۔ مجھے یہ سب نہیں لکھنا چاہئیے۔ اتنی کھلی باتیں کرنا بیٹیوں کو زیب نہیں دیتا ۔ ممکن ہو تو اپنی ماؤں کے پلو سے لپٹی رہیں۔ یہ مشکل ہو تو ، پھر نصیحت سنیں۔

بیٹیاں چپ رہیں۔ (منقول)

نصف سے زیادہ سے مزید