• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رُکّو انور

رات بارہ بجے کے اندھیرے میں جب ریل گاڑی۔ سیٹی کی ایک چیخ کے ساتھ رُکتی تو ہم بچے جو نیند میں ڈول رہے ہوتے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسٹیشن کو دیکھنے لگتے اور خُوشی سے چیختے لاڑکانہ آگیا۔ دن بھر کا انتظار ختم ہوتا ، اسٹیشن پر دادا ابّا ، بڑے چچا، رشید چچا اور چچا جان سب آئے ہوتے ۔ سلام دُعا کے بعد سامان نکالا جاتا۔

تانگے میں بیٹھ کر داد اکے گھر پہنچتے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی ایک رونق لگی ہوتی۔ دادی امّاں، نفیسہ پھوپھی، نعیمہ پھوپھی خُوب پیار کرتیں۔ چھوٹی پھوپھی، بڑی پھوپھی اپنے بچوں کے ساتھ موجود ہوتیں۔ محبتّوں کی پھوار میں کوئی پانی پوچھتا، کوئی کھانا، پھر باتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ 

ہم بچے اپنے کزنز کے ساتھ لکڑی کے بنے ہوئے مخصوص زینے سے اوپر دوسری منزل کے صحن کا چکّر لگا کر دس مرتبہ اترتے چڑھتے، پھر سامنے لمبی سی گلی سے گذر کر بڑی پھوپھی کے گھر پہنچ جاتے، اِسی میں سحری کی تیاری شروع ہوجاتی ، ہم بھی پھینی دودھ جلیبی اور آملیٹ کھا کر سحری کرلیتے۔ عصر کے وقت افطاری کی تیاری اور روزہ کھلنے کا انتظار۔ 

روزہ کھولتے ہے ہی سب اوپر والے صحن سے چاند کی ڈُھنڈائی شروع کردیتے، پھوپھیوں میں سے جس کو نظر آیا اس نے نعرہ لگا د یا اورسب بچے دوڑے دوڑے نیچے پہنچتے۔ وہاں سے رشید چچا، بڑے چچا، چچا جان شور مچاتے ہوئے اندر آتے کہ چاند ہوگیا ۔سب کے چہرے کِھلے ہوتے۔

چاند کی مبارک دی جارہی ہوتی ۔نفیسہ پھوپھی مہندی گھولتیں، امّی، دادی امّاں باورچی خانہ سنبھالتیں۔ بادام پستے کٹ رہے ہوتے، سویّاں پکانے کی تیاری شروع ہو جاتی، نمکین کا بھی انتظام ہورہا ہوتا۔

کمروں کے ساتھ ایک بڑا سا ہال جسے اب لاؤنج کہا جاتا ہے، اس میں دادی امّاں ایک طرف بڑی سی رسّی لگواتیں اور سب کے نئے کپڑے جو استری ہوکر آتے ، لٹکائے جاتے۔ اُن کے نیچے جوتے رکھے جاتے ۔ پھوپھیو کے ساتھ امّی مہندی لگانے بیٹھ جاتیں۔ ایک ہاتھ میں گولا اور دوسرے ہاتھ کو آدھا مُڑوا کر مہندی کا لوندا سا رکھ دیتیں اور کہہ دیتیں کہ ’’اب مُٹّھی مت کھولنا“ صبح مچھلی کانٹا بناہوگا۔ سب سو جاؤ کل عید ہے۔ 

ہم بچے جلدی سے سو جاتے۔ صبح ایک آواز پر اُٹھ جاتے۔ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ کر مہندی دھو کر مچھلی تلاش کی جاتی اور بہت کوفت ہوتی کہ مچھلی تو کوئی نہیں ایک سفید سی ہتھیلی کو مچھلی نما کو مچھلی کہا جارہا ہے۔

پھوپھی سے پوچھتے تو کہتیں یہی تو مچھلی ہے اب جلدی سے نئے کپڑے پہن کر تیار ہوجاؤ۔ عیدی بھی تو لینی ہے۔ سب خواتین بھی تیار ہوکر مردوں کا انتظار کرتیں کہ کب نماز پڑھ کر آئیں گے، سب آتے اور عید مبارک کہتے پھر عیدیاں دی جاتیں۔ 

ایک سیشن فوٹو شُوٹ کا بھی ہوتا، ڈیڈی جان کو تصویر کھینچنے کا بہت شوق تھا۔ دوپہر کا کھانا بڑی پھوپھی کے یہاں اور شام کا کھانا چھوٹی پھوپھی کے ہاں وہ بھی صبح میکے سلام کرنے اور عید ملنے آجاتیں اور پھر ہم سب ان کے گھر چلے جاتے، سارا دن کھانا پینا، ہم بچّے اپنا انجوائے کررہے ہوتے، بڑوں میں ملاقاتیں، ہنسی مذاق، بات چیت چہروں پر مُسکُراہٹیں، دلوں میں محبتّیں۔ غرض عید کا دن گذر جاتا۔

نصف سے زیادہ سے مزید