والدین کو چاہیے کہ بچپن سے ہی اپنے بیٹوں کو سکھائیں کہ طاقت آواز بلند کرنے یا غصہ دکھانے میں نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو رکھنے میں ہے۔ انہیں سکھائیں کہ مردانگی اس میں نہیں کہ وہ کسی کو خوفزدہ کریں، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو محفوظ محسوس کرائیں۔
نرمی کمزوری نہیں، بلکہ سمجھداری ہے۔ غصہ جیت نہیں، بلکہ نقصان ہے۔ محبت کنٹرول نہیں، بلکہ احترام ہے۔ انہیں سکھائیں کہ اگر وہ واقعی طاقتور بننا چاہتے ہیں، تو اپنے غصے پر قابو پانا سیکھیں، اپنے رویے میں رحم پیدا کریں۔
کسی عورت کا سکون، اس کی عزت یا اس کے خواب کسی کھیل یا انا کا حصہ نہیں۔ عورت کوئی جیتنے کی چیز نہیں، بلکہ سمجھنے، احترام اور محبت کے لیے ہے۔ ایک اچھا شوہر یا بھائی یا بیٹا بننے کے لیے انہیں کسی کو دبانے کی ضرورت نہیں، بلکہ خود کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
انہیں یہ احساس دلائیں کہ ﷲ کے نزدیک اصل مرد وہ ہے جو اپنی ماں کے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں بدل دے، اپنی بیوی کے دل کو امن دےاور اپنی بہن کے لیے تحفظ کا احساس بنے، بغیر کسی خوف، تذلیل یا احسان کے۔ انہیں بتائیں کہ رحم، انصاف اور عزت یہی مردانگی کی اصل پہچان ہیں۔ نہ دولت، نہ غصہ، نہ برتری اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ سکھائیں کہ عورت کو عزت دینے والا مرد کبھی کمزور نہیں ہوتا۔