پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمتوں کے بالترتیب تقریباً چار سو ساٹھ اور پانچ سو اکیس روپے تک جاپہنچنے کا فوری نتیجہ ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ساٹھ فی صد اضافے کے اعلان کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد اشیائے خور و نوش سمیت تمام ضروریات زندگی کی مہنگائی کا سیلاب یقینی ہے جو غریب اور متوسط طبقوں کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کو ناقابل تصور حد تک مشکل بنادے گا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ایران سے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ریکارڈ اضافوں کے بعد اس کے پاس پاکستان میں بھی قیمتیں اس حد تک بڑھانےکے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا اگرچہ اس کے نتیجے میں عام آدمی کی مشکلات بہت بڑھ جائیں گی۔ تاہم ہماری معیشت آٹھ دہائیوں میں بھی منصفانہ ٹیکس سسٹم رائج کرنے میں جس قدر ناکام ہے،فی الحقیقت وہ اس صورت حال کا اصل سبب ہے۔بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار کے ذریعے قومی خزانہ عام آدمی پر بھاری بوجھ ڈال کر بھرا جارہا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ خود حکومتی دستاویزات کے مطابق ملک میں غربت کی شرح گزشتہ 11 برسوں کی بلند ترین سطح یعنی 29 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔ صرف صوبہ پنجاب میں غربت کی شرح 16.5 فی صد سے بڑھ کر 23.3 فی صد ہوگئی ہے اگرچہ صوبائی حکومت عوامی فلاح کے منصوبوں اور ترقیاتی کاموں میں ملک کے دوسرے صوبوں سے بہت آگے نظر آتی ہے تاہم بے روزگاری کی شرح بھی پچھلے دو عشروں میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ پاکستان کا رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ(جولائی تا مارچ) میں تجارتی خسارہ 22.65فیصد اضافے سے بڑھ کر 27 ارب 80کروڑ ڈالر ہوگیا جبکہ برآمدات میں بھی کمی ہوئی ہے، جولائی تا مارچ کے 9ماہ میں پاکستان کی 22ارب73کروڑ ڈالر کی برآمدات اور 50ارب 53کروڑ ڈالر کی درآمد ات ہوئیں، مجموعی طور پر پاکستان کی برآمدات میں 8فیصد کمی اور درآمدات میں 6.64فیصد اضافہ ہواہے۔مالیاتی خسارہ بھی کم و بیش 6.17ریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جو خام قومی پیداوارکا تقریباً 5.38 فی صد بنتا ہے۔ وفاقی حکومت مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیوکو 610 ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ایف بی آر جولائی سے مارچ تک تقریباً 9.3کھرب روپے کے محصولات جمع کر سکا، جو کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے مقررہ ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔اس دوران محصولات میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا، جو سالانہ ہدف حاصل کرنےکیلئے درکار رفتار کا تقریباً نصف ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے باعث جاری جنگ حالات کی مزید ابتری کو تیزی سے بڑھا رہی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں براہ راست انکم ٹیکس کی لازمی وصولی کے بعد بالواسطہ ٹیکسوں کی ضرورت بہت ہی کم پڑتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ایک غریب مزدور اور ایک ارب پتی سرمایہ دار، سب تمام ضروریات زندگی پر یکساں طور پر اٹھارہ فی صد جنرل سیلز ٹیکس دینے کے پابند ہیں۔پٹرول ، ڈیزل اورمٹی کے تیل کی قیمتوں میں بھاری بالواسطہ ٹیکس شامل ہیں جن کا بیشتر حصہ عام آدمی کی قلیل آمدنی سے وصول کیا جاتا ہے۔ صرف پٹرول کی موجودہ قیمت میں محض لیوی ہی ایک سو اکسٹھ روپے ہے جبکہ دیگر ٹیکس اس کے علاوہ ہیں۔ بجلی کے بلوں میں جنرل سیلز ٹیکس، الیکٹریسٹی ڈیوٹی، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس اور فنانسنگ کاسٹ شامل کرکے عام آدمی کی زندگی دوبھر کردی گئی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ٹیکس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ زیادہ آمدنی والے طبقے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جائے جس کا طریقہ ہر اس شخص سے انکم ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانا ہے جس پر ٹیکس عائد ہوتا ہے مگر پاکستان میں اس کے برعکس صورتِ حال نظر آتی ہے۔ ہمارے مروجہ معاشی نظام میں انکم ٹیکس کا بڑا حصہ تنخواہ دار طبقے سے وصول کیا جاتا ہے جبکہ زمیندار، جاگیر دار، تاجر، ڈاکٹر، وکیل اور بہت سے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد دستاویزی نظام رائج نہ کیے جانے کی وجہ سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ ان سب کو ٹیکس دہندگان میں شامل کرلیا جائے تو ایک طرف اٹھارہ فی صد جی ایس ٹی اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ختم کرکے ضروریات زندگی کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے اور دوسری طرف تنخواہ دار طبقے کو انکم ٹیکس کی مسلسل بلند ہوتی شرحوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔
ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ شرق اوسط کی صورت حال جہاں فی الوقت ہمارے لیے مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے وہیں خلیجی ریاستوں میں سرمایہ کاری کے لیے حالات کا ناسازگار ہونا پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑھنے کے خوش آئند امکانات کو روشن کررہا ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے وسیع تر مشاورت کے ذریعے مؤثر پالیسیوں کی تشکیل جلد ازجلد کی جانی چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دوست ممالک اوربیرون ملک پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کے بہتر سے بہتر مواقع مہیا کیے جائیں ۔ نئی صنعتوں کے قیام کیلئے سرکاری سرخ فیتے سے آزاد ہرممکن سہولت فراہم کی جائے۔سرمایہ کاروں کیلئے تمام مطلوبہ اور جائز ضروری تحفظات کو یقینی بنایا جائے ۔ پاکستان کو آج اللہ کے فضل، شاندار دفاعی صلاحیت اور ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی اعلیٰ سفارت کاری سے عالمی سطح پر جو نمایاں اور اہم مقام اور دنیا کے بیشتر ملکوں کا اعتماد حاصل ہے، اسے پاکستان کو دنیا کی ایک ممتاز معاشی قوت بنانے کیلئے پوری مہارت اور خوش تدبیری سے استعمال کیا گیا تو ان شاء اللّٰہ وطن عزیز اقوام عالم میں مستقل بنیادوں پر عزت و سرفرازی کے نمایاں مقام پر فائز ہوگا۔