• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گھرمیں نوبت فاقوں تک آجائے تو سب کے رویوں میں غصہ اور بے چینی در آتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ مالی مشکلات کی وجہ کیا ہے اس کے باجود وہ یہ سننے کو تیار نہیں ہوتے کہ کھانا کیوں نہیں بنا، بجلی کیوں نہیں آرہی۔یہ سارا غصہ گھر کے سربراہ پر اترتاہے کہ وہ کیوں نہیں کچھ کررہا۔ریاست بھی گھر کے سربراہ کی طرح ہوتی ہے لہٰذا جنگ کی تمام تر صورتحال کو جانتے ہوئے بھی عوام پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر سیخ پا ہیں۔اِس وقت صورتحال یہ ہے کہ پنجاب اور اسلام آبادمیں پبلک ٹرانسپورٹ فری کردی گئی ہے۔اس سے کچھ ریلیف تو ملا ہے لیکن دو مسئلے مزیدپیدا ہوگئے ہیں۔ایک توپبلک ٹرانسپورٹ ہر روٹ پر دستیاب نہیں۔ لوگوں کو مین روڈ سے اُتر کر بھی آگے جانا ہوتاہے۔ دوسرے یکدم پبلک ٹرانسپورٹ پر رش بڑ ھ گیا ہے۔ایسے میں کیا کرنا چاہیے؟ مختلف رائے سامنے آرہی ہیں۔جب پٹرول کی قیمت ساڑھے چار سو سے نہیں بڑھی تھی تب اسکول اور کالجز بند تھے اوراب جبکہ قوت خرید ناقابل برداشت ہوگئی ہے تو تعلیمی ادارے کھول دیے گئے ہیں۔ایک رائے تو یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی بجائے دو ہفتے کیلئے کوروناٹائپ کا لاک ڈاؤن لگا دیا جائے۔دوسری رائے ہے کہ چند ایمرجنسی سروسز کے علاوہ سب کیلئے پٹرول پمپس بند کردیے جائیں اور تیسری رائے یہ ہے کہ پٹرول کی راشننگ کی جائے۔ تینوں ہی بڑے مشکل کام ہیں کیونکہ ان اقدات کے نتیجے میں مزید مشکلات جنم لیں گی۔ امن اور جنگ میں یہی فرق ہے۔ جنگ ہوتی ہے تو وہ لوگ بھی لپیٹ میں آتے ہیں جو براہ راست جنگ کا حصہ نہیں ہوتے۔ جذباتی نعرے مارنے والوں کو احساس ہوگیا ہوگا کہ اگر یہ جنگ ہمارے ہاں بھی قدم رنجہ فرما چکی ہوتی تو کیا ہوتا۔جذباتی لوگوں کو ایسی جنگ پسند ہے جس میں بم اور گولے تو چل رہے ہوں لیکن اُن کی زندگی کے دیگرمعاملات میں کوئی فرق نہ پڑے۔

٭ ٭ ٭

میں نے زندگی میں کئی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو بدترین صورتحال میں بھی ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں۔میرا خیال تھا کہ یہ لوگ مشکلات کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیتے، ہمت اور عزم کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں، نامساعد حالات سے لڑنا جانتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن نہیں۔ اب پتا چلا ہے کہ اس کے علاوہ اِن کے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں ہوتا۔غصہ اپنی انتہا سے نکل جائے تو ہنسی میں تبدیل ہوجاتاہے۔اسی لیے تمام تر خوفناک حالات کے باوجود سوشل میڈیا میمز سے بھرا ہو اہے۔نفسیاتی طور پر لوگوں کے بظاہر خوش نظر آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں احساس ہے کہ اِس مشکل میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔اجتماعیت خوف، شرمندگی اور احساس کمتری کو بہت حد تک کم کردیتی ہے۔مثلاًجن لوگوں کے پاس گاڑیاں ہیں ان میں سے چند لاکھ بھی سائیکلیں لے کر سڑک پر نکل آئے تو سب کی جھجک ختم ہوجائے گی، پھر کسی کو سائیکل چلاتے ہوئے شرمندگی محسوس نہیں ہوگی۔ مغربی ممالک کے بولڈ ’ساحل سمندر‘ بھی اس کی بہترین مثال ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ خوف کا بار بار تذکرہ بھی نئے خوف کو جنم دیتاہے لیکن خوف کا تذکرہ نہ کرنا بھی مسئلے سے نکلنے کا حل نہیں۔کچھ مسائل نہ ہمارے پیدا کردہ ہوتے ہیں نہ ہمارے پاس ان کا حل ہوتاہے۔انہیں بس برداشت کیا جاسکتاہے۔ پوری دنیا خوفناک صورتحال سےدوچار ہے اور اِس سے نکلنے کا حل ایک ہی ’جنگلی بھینسے‘کے پاس ہے لیکن مصیبت ہے کہ اُس کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟توایسے میں کیا کیا جائے؟؟ میر اخیال ہے تھوڑا بہت ہنس لینا چاہیے، کچھ تو ٹینشن ریلیز ہو۔

٭ ٭ ٭

عام بندہ کوئی غلطی کرے تو اس کی باز پرس کی جاسکتی ہے، سزا دی جاسکتی ہے لیکن اے آئی کوئی بونگی مار دے تو کوئی حل نہیں۔ اس کیلئے کوئی حوالات نہیں، کوئی جیل نہیں۔امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں ایک بزرگ خاتون ’اینجلا لپس‘ جو کہ دادی بھی ہیں اپنے گھرمیں پوتے پوتیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھیں کہ اچانک پولیس نے اُن کے گھر پر دھاوا بول دیا اور فوری طورپر گرفتار کرلیا۔ دادی گھبرا گئیں اور وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ انہوں نے ریاست’شمالی ڈکوٹا‘ کے ایک بینک کے ساتھ فراڈ کیا تھا۔ دادی چیختی رہ گئیں کہ میں تو کبھی اس جگہ گئی ہی نہیں لیکن پولیس اُنہیں ہتھکڑیاں لگا کر لے گئی۔دادی نے تین ماہ جیل میں گزارے اور اس دوران تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اے آئی نے غلط ’چہرہ شناسی‘ کا ارتکاب کیا ہے۔دادی کے چہرے کے نقوش کسی فراڈیے کی شکل سے میچ کرگئے جسکی وجہ سے اے آئی نے پولیس کو بتایا کہ یہ اماں جی بہت بڑی فراڈن ہیں۔ پولیس نے اے آئی کو سیلوٹ کیا اور دادی کے گھر چھاپا پڑ گیا۔ صورتحال واضح ہونے پرایک این جی او کی مدد سے دادی کو رہائی تو مل گئی لیکن جب وہ گھر واپس پہنچیں تو گھر کی قسطیں نہ دینے کی وجہ سے گھر بھی بینک نے ضبط کرلیا تھا اورپالتو جانور بھی موجود نہیں تھے تاہم دادی خوش تھیں کہ جان چھوٹی۔ اِس کے بعد انہوں نے قسم کھا لی کہ کبھی مرکربھی ’شمالی ڈکوٹا‘ نہیں جائیں گی۔ اے آئی پر زیادہ انحصار کرنے والے خبردار رہیں کہ یہ موصوفہ کبھی کبھی ایسی گمراہ کن معلومات دیتی ہیں کہ سارا معاملہ الٹ پڑ سکتاہے۔اے آئی کی بے پناہ محبت میں مبتلا کچھ لوگوں کو عادت ہے کہ وہ اپنی کسی بیماری کے علاج کیلئے میڈیسن بھی اے آئی سے ہی تجویز کرواتے ہیں۔اے آئی بھی شہزادی ہے، پہلے منہ بنا کر خبردار کرتی ہے کہ خود سے کوئی میڈیسن نہیں کھانی چاہیے، پھر تھوڑا سا پچکارنے پر میڈیسن بتا بھی دیتی ہے۔میں خود بھی کبھی کبھی اے آئی سے مشورہ لیتا رہتا ہوں۔پچھلے دنوں میرے سر میں سخت درد تھا۔تجرباتی طور پراے آئی سے پوچھا مجھے کہ کیا کرنا چاہیے؟ جواب آیا’فوراً بیگم سے معافی مانگ لینی چاہیے۔شدیدحیرت ہوئی کہ اے آئی اب گھریلو معاملات کا بھی علم رکھنے لگی ہے۔

تازہ ترین