• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ ہنس پڑااور اس نے کہا: تم اس عجیب لڑکےکی تلاوت کا قصہ سننا چاہتے ہوجو " منہ جلے " کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ یہ عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی میں خوفناک تصادم کی داستان ہے ۔یہ سفید جھوٹ ہے کہ عشقِ مجازی میں ٹھوکریں کھانے والے بالآخر عشقِ حقیقی بھی پا لیتے ہیں  ۔ بنانے والوں نے توہیر کا مزار بھی بنا ڈالا ۔ خدا مگر بونس میں کبھی نہیں ملتا۔

"منہ جلا " چھوٹا سا تھا،جب گھر میں آگ لگی ۔ ماں باپ جل مرے ۔بچہ بچ توگیا لیکن چہرہ جل گیا۔ آدھے چہرے کی جلد غائب تھی ۔ نیچے دانت اور ہڈیاں صاف نظر آتے۔دیکھنے والے کانپ اٹھتے ۔ بڑا ہوا تو مدرسے داخل کرایا گیا۔ایک خاموش روح۔ اکثر وہ مذاق کا نشانہ بنتا۔ تلاوت میں بظاہرگوارا سی آواز کا مالک تھا۔ کبھی کسی کو شک ہی نہ ہوا کہ جلے ہوئے چہرے کے اوپر کاسہ ء سر میںایک سپر کمپیوٹر نصب ہے ۔سینکڑوں آوازوں کا ڈیٹا اکھٹا ہو رہا تھا۔ اندر ہی اندرایک سپر آواز تیار ہو رہی تھی ۔

ایک دن لڑکاجب سبق سنانے لگاتو اچانک ایک بدلی ہوئی آوازجلے ہوئے منہ سے نکلی ۔ سینکڑوں تلاوت کرتی آوازوں کو اس نے پچھاڑ کے رکھ دیا۔ خاموشی طاری ہو گئی ۔ ترشی ہوئی ، قدرے چیختی اور درد میں گندھی ہوئی صدا آسمان کی طرف بلند ہوئی ۔ بے یقینی سے سب اس کی طرف مڑے۔ اس نے ایک بار پھر تلاوت کی آواز اٹھائی ، پھر گرائی، پھر دو دفعہ اٹھاکے گرائی۔ پھر اس نے جو آواز اٹھائی تو گرنے ہی نہ دی۔

سماعتوں پہ دیوانہ پن طاری ہوا۔یکدم سب چیخ اٹھے۔خود منہ جلے کا استاد اس کے سامنے جھک گیا۔یکا یک لڑکا استادِ زمانہ بن گیا ۔ منہ جلے نے محض حفظ ہی نہ کیا تھا بلکہ قرآن تواس کا عشق تھا۔اسے تلاوت کی جیسے بھوک لگا کرتی ۔ ہر آیت سے اسے ایک مختلف خوشبو آتی ۔ وہ قرآن سے باتیں کیا کرتا۔جب کوئی سوال تنگ کرتا، وہ قرآن کھولتا۔ جس آیت پہ پہلی نظر پڑتی ، اس میں اسے جواب مل جاتا۔ ایک دن اپنی محرومیوں پر جب وہ بہت اداس تھا، قرآن کھولا۔پہلی آیت بولی : اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔وہ ہنس پڑا۔

نوجوان اب فارغ التحصیل تھا ۔یہاں آکراس داستان میں عشقِ مجازی داخل ہوا۔ ایک دن انٹرنیٹ پر کسی اجنبی لڑکی کا پیغام موصول ہوا: آپ اپنے خاندان کے بچوں کو آن لائن قرآن پڑھانا چاہیں تومجھ سے رابطہ کیجیے ۔ حجاب میں لپٹا ہوا انتہائی حسین چہرہ ۔وہ دیکھتا رہ گیا۔ شیطان نے اس کے کان میں پھونک ماری ۔ بولا:جب میں بچہ تھا تو قرآن نہیں پڑھ سکا۔اب پڑھا دیجیےمگر آن لائن نہیں۔

وہ قرآن پڑھاتی ۔یہ آہستہ آہستہ پڑھتا رہتا۔ ایک دن جب پڑھا چکی تو یکایک نوجوان نے آواز اٹھائی۔ وہ ششدر رہ گئی ۔ ایسی آواز ؟ وہ کھڑے ہو کر چیخی ۔ اس نے کہا : میں تمہیں مقابلہ ء حسن قرات میں لے جائوں گی ۔تم سے کون جیت سکتاہے۔منہ جلے کو پتہ ہی نہیں چلا۔ یکایک دنیا کے لیے دین کا سودا ہو گیا۔شہواتِ دنیا اثر دکھا رہی تھیں۔ زندگی میں پہلی بار تلاوت سے جی اچاٹ تھا۔ منہ جلا اب ایک دوراہے پہ کھڑا تھا۔ ایک طرف دولت، شہرت اور عورت تھی ، دوسری طرف خدا ۔اچھی آواز کا استعمال یا عورت سے شرعی رشتہ منع نہیں تھا ۔ منہ جلا مگر ہوس کا شکار ہو گیا۔سوچنے لگا: خدا تو مل ہی گیا ، دنیا بھی چکھ لیں ۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک دن بازار میں  آوازاٹھانے لگاکہ داد پائے۔ پتہ ہی نہیں چلا،کب خدا ناراض ہو کرچلا گیا۔

یہ آخری دن کا واقعہ ہے ۔استانی بولی : اپنی پسند یدہ آیت سنائو ۔ پسندیدہ ؟ منہ جلا ہنس پڑا :میں تو وہی آیت پڑھتا ہوں ، جس پہ پہلی نظر پڑے ۔ اسی میں خدا کی طرف سے مجھے اشارہ ملتا ہے ۔ بڑے بھرم سے منہ جلے نے قرآن کھولا ۔پہلی آیت دیکھی توزور کا چکر آیا" اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال سنائو جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں ۔پھر وہ ان سے صاف نکل گیا ۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا ۔سو وہ گمراہوں میں شامل ہوا۔ ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا ۔سو اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ اگر بوجھ لادو تب بھی زبان لٹکائے یا چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے (الاعراف 175،176)منہ جلے کا دل دہل گیا: میں کتا ہوں ؟سگِ دنیا؟

شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر

سگِ زمانہ ہیں، ہم کیا ہماری ہجرت کیا

ابلیس نے منہ جلے کی شیطانی خواہشات کے گرد نور کا جھوٹا ہالہ قائم کر دیا تھا۔ خد اجا چکا تھا۔ ا س کی اپنی آواز ہی اس کی دشمن تھی ۔

میری بُکّل دے وچ چور نی میری بُکّل دے وچ چور

وہ باہر بھاگا۔ گلی میں نکل کرپوری قوت سے چیخا ، جیسے آواز کو گلے سے نکال پھینکنا چاہتا ہو۔ سامنے دکان پہ تیزاب کی بوتل نظر آئی۔ اس نے ڈھکن کھولا ۔ تیزاب پیا اور اسے گلے میں روک لیا۔آواز قتل ہو گئی۔آخری بارمجھے وہ ایک ویرانے میں ملا۔ میں نے کہا:بہت دور سے آیا ہوں، تلاوت سننے ۔ وہ ہنس پڑا ۔ بھاری اوربھدی آواز میں بولا: تیزاب نے قصہ تمام کر دیا۔ پھر اس نے جیسے خود کلامی کی :اب کوئی انسان نہیں سنے گا۔ فجر کا وقت تھا۔میں نے دیکھا، منہ جلا کچھ مضطرب ہے ۔ کہنے لگا: بس اب تم جائو ۔ مجھے دال میں کالا محسوس ہوا۔قرآن میں لکھا ہے : بے شک فجر کے وقت قرآن کا پڑھنا پیش کیا جاتا ہے ۔سورۃ الاسرا 78 ۔ میں کچھ دور جا کر چھپ گیا۔ اچانک ایک درد میں گندھی ، ہیرے کی طرح ترشی ہوئی آوازبلند ہوئی ۔ میرا دل زور سے دھڑکا ۔ وہ آواز اٹھا رہا تھا ۔ تیزاب نے صرف وقتی نقصان کیا تھا۔ہجر نے آواز کادرد کئی گنا بڑھا دیا تھا۔

شبان ہجراں دراز چوں زلف روز وصلت چو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

میں نے دیکھا،مبہوت پرندے تلاوت سن رہے تھے ۔خدا کو پانے کیلئے اس نے اپنی آواز انسانوں سے چھپا لی تھی ۔

میں خاموشی سے لوٹ آیا۔

تازہ ترین