امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف اشتعال انگیز بیان پر عالمی سطح پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ انکی دھمکی کو نسل کشی کا انتباہ قرار دے دیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آج رات ایران کی پوری تہذیب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔‘
ٹرمپ کے اس بیان کو تجزیہ کار اور بین الاقوامی امور کے ماہرین و سیاسی شخصیات نے کھلی نسل کشی کی دھمکی قرار دیا۔
عرب میڈیا کے ایک صحافی جاوید حسن نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نوبیل انعام کا امیدوار ٹرمپ شخص نسل کشی کا دیوانہ ہے، اسے فوراً قابو کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا بیان انتباہ کم اور پاگل پن زیادہ لگتا ہے۔ یہ دفاعی نہیں بلکہ پاگل پن ہے۔
نامور برطانوی صحافی پیرس مورگن نے بیان کو براہِ راست ایرانی عوام کی نسل کشی کا اعتراف قرار دیا اور کہا کہ یہ کھلا جنگی جرم ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیان کو پاگل پن بھی قرار دیا۔
کانگریس کی سابق رکن مارجوری ٹیلر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ پر ایک بم بھی نہیں گرا اور ہم ایک تہذیب کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ سراسر شیطانی عمل اور پاگل پن ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ دھمکی ناصرف ایران بلکہ دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔