ایک لڑکے نے اپنے باپ کو آواز دی’ابا اِدھر آ‘۔ ماں نے بچے کو ڈانٹاکہ باپ کو عزت سے بلاتے ہیں۔بچے نے دوبارہ آواز لگائی’ابا عزت سے اِدھرآجا‘۔ جاویدغامدی صاحب سے کسی نے سوال کیا کہ آج کل کے بچے بدتمیز ہورہے ہیں اس کا کیا حل ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ بچے کو صرف اُردو سکھا دیں باقی مسائل کافی حد تک خودبخود حل ہوجائیں گے۔ میں بھی یہی سمجھتاہوں کہ ہم نے بچوں کو اردو سے دور کرکے انگریزی سے بھی دور کر دیا ہے۔کبھی نوٹ کیجئے گا کہ جو بچے اُردو اچھی لکھ پڑھ لیتے ہیں وہ انگریزی بھی پورے اہتمام سے قومے اور فل اسٹاپ کے ساتھ لکھتے ہیں۔دنیا کی کوئی بھی زبان جب قواعد و ضوابط کے ساتھ بولی جاتی ہے تو وہ خود بخود تہذیب کے دائرے میں ڈھل جاتی ہے۔جن لوگوں نے اُردو الف اور اُردو ب کے پیپرز دیے ہوئے ہیں وہ آج بھی غالبؔ، اقبا لؔ اور میر ؔکے معروف اشعار سے واقف ہیں۔انکے سامنے اُردو کا کوئی لفظ غلط لکھا جائے تو یہ فوراً پہچان لیتے ہیں۔یہ کسی حد تک اُردو گردانوں سے بھی واقف ہیں، محاوروں کا استعمال بھی کرسکتے ہیں اورمناسب حد تک الفاظ متضاد کے بارے میں بھی جانتے ہیں۔انہی لوگوں نے انگریزی اے اور انگریزی بی کے پیپرز بھی دیے ہوئے ہیں سو اِنہیں Tenses اورڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ کابھی خیال رہتا ہے۔اِن کی اکثریت بے شک تھوڑی انگریزی جانتی ہے لیکن اسپیلنگ کے بارے میں بڑی محتاط ہے۔اس کی نسبت وہ بچے جو اُردوسے 20فیصد بھی واقفیت نہیں رکھتے وہ چونکہ انگریزی ماحول میں رہتے ہیں اس لیے اسپوکن انگلش میں ماہر تو ہوجاتے ہیں لیکن انگلش لٹریچر سے بھی عام طورپر ناواقف ہی رہتے ہیں۔یہ جنریشن نہیں جانتی کہ ’آجاؤ‘ اور ’آجائیں‘ کی اخلاقیات میں کیا فرق ہے۔عام اُردو جو کسی دور میں میٹرک تک پڑھائی جاتی تھی اُس کا بھی بیڑاغرق ہورہاہے۔’خبردار‘ اب ’کھبردار‘ میں بدلتا جارہاہیے۔اب تواُردواسپیکنگ لوگوں میں بھی ایسے الفاظ عام سننے کو ملتے ہیں کہ’میں نے یہ کام خود کرا ہے‘۔ہمارے دور میں ایسا جملہ بولنے پر ماسٹر صاحب گردن سے دبوچ لیتے تھے۔
٭ ٭ ٭
آپ کبھی اپنے گھر میں کام کرنے والی ماسی یا کسی ملازم سے پوچھئے گا۔پتا چلے گا کہ اس کا بچہ بھی محلے کے کسی دو مرلے کے گھر میں قائم پرائیویٹ اسکول میں پڑھ رہاہے۔ سرکاری اسکولوں میں بچے داخل کروانے کو لوگ پتا نہیں کیوں برا سمجھنے لگے ہیں۔پتا نہیں کیوں انہیں لگتاہے کہ پرائیویٹ اسکول میں پڑھ کر ہی بچہ نیوٹن بن سکتاہے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے ڈربے نما اسکولوں میں بچوں کا ویژن ہی نہیں وسیع ہوپاتا۔سرکاری اسکولوں میں وسیع و عریض گراؤنڈ ہوتاہے، کشادہ عمارت ہوتی ہے جنہیں دیکھ کر ہی وسعت کا احساس ہوتاہے۔یہاں کی فیس نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اسکے باوجود والدین کے دماغ میں یہ کیڑا کلبلاتا رہتاہے کہ سرکاری اسکولوں کی پڑھائی اچھی نہیں ہوتی۔ حکومت کوئی بھی ہو سرکاری اسکول ہردورمیں بہترین رہے ہیں جہاں بہرحال استاد کی تھوڑی بہت عزت اور رعب آج بھی برقرار ہے۔آج جتنے بھی اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے والے لوگ ہیں یہ سب سرکاری اسکولوں کے پڑھے ہوئے ہیں۔ہم سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کا مذاق تواڑاتے ہیں کہ انہیں لباس پہننے کا سلیقہ نہیں ہوتا، اچھی انگلش نہیں آتی وغیرہ۔ لیکن حضوروالا! یہی کنگ میکر ہیں۔یہ وہی پڑھاتے ہیں جو ہمارے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں بلکہ شائد ان سے بہتر پڑھاتے ہیں۔ ہمیں لگتاہے کہ ہمارا بچہ جونہی کسی پرائیویٹ اسکول میں داخل ہوگا خودبخود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوجائے گا لیکن ایسا ہوتا نہیں۔تعلیم ذاتی ہنر ہے، جس میں یہ شوق موجودہے وہ یہ ہنر سرکاری اسکول میں بھی سیکھ جاتاہے۔آج کےسرکاری اسکول میں بہت جدت آچکی ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ فزیکل ایکسرسائز کے جتنے مواقع سرکاری اسکولوں میں ہیں پرائیوٹ اسکولوں میں خال خال نظر آتے ہیں۔حیرت انگیز طو رپر والدین اسکول کی حد تک پرائیویٹ اداروں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر یہ تناسب مختلف ہوجاتاہے اور سرکاری اداروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ شائد اس کی وجہ بجٹ بھی ہو لیکن یہ بجٹ اسکول کی سطح پر بھی کم کرنا چاہئے۔
٭ ٭ ٭
ایک دور تھا جب والدین بچے کو رسالے، ناول، ڈائجسٹ وغیرہ پڑھنے سے منع کیا کرتے تھے کہ اِس سے تعلیم کا حرج ہوتاہے۔لڑکپن میں جب کوئی ادبی سرگرمیوں کی طرف آتا تھا تو سینئر شاعر ادیب بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ غیر معیاری ادب پڑھنے کی بجائے اعلیٰ ادب پڑھنا چاہیے۔ اب یہ حالت ہوگئی ہے کہ بچے اعلیٰ ادب تو درکنار ’مینا ناز‘کی کہانیاں بھی پڑھنے پر آمادہ نہیں۔ وہ ساری جنریشن جو’عمران سیریز، انسپکٹر جمشید سیریز، چلوسک ملوسک، چھن چھنگلو، عمروعیار، سامری جادوگر، ٹارزن، عنبرناگ ماریاا وروہی وہانوی‘ پڑھ کر جوان ہوئی تھی انہی میں سے وہ نکلے جنہوں نے خود بھی ایسی کہانیوں سے آغاز کیا اور پھر خالص ادب کی مختلف جہتوں میں اپنامقام بنایا۔مطالعے کی عادت عموماًاسی قسم کی چیزیں پڑھ کر پروان چڑھتی ہے۔جنہوں نے ایسے شعر پڑھے کہ ’مالی نے پھول توڑا بلبل کو دِکھا دِکھاکر‘ بعد میں انہی میں سے بہترین شاعر کے طور پر آگے آئے۔ابتدا آخری سیڑھی سے نہیں پہلی سیڑھی سے ہوتی ہے۔جنہوں نے پہلی سیڑھی پر پاؤں رکھ کر اوپر کا سفر شروع کیا اُن کی اکثریت آج نمایاں مقام پر کھڑی ہے۔آج کا بچہ اس لیے بھی سولہ سال کی عمر میں ٹینشن اورانزائٹی کا شکار ہے کہ اسے کوئی افسانہ، کوئی شعر، کوئی کتاب، کوئی تاریخ، کوئی ناول متاثر نہیں کرتا۔اس کی ترجیح گیجٹس ہیں، وہ گیجٹ جو زندگی میں آسانی پیدا کرکے دماغ میں ٹینشن پیدا کردے۔آج اگر کوئی بچہ کہانیوں والی کتاب پڑھتا نظر آجائے توشائد والدین اُسے ڈانٹنے کی بجائے محلے میں مٹھائیاں تقسیم کرنے نکل پڑیں۔