2 اپریل کو سپرہائی وے نوری آباد سے ملنے والی لاش کی شناخت ہوگئی، مقتول کو تشدد کے بعد گولیاں مار کر قتل کیا گیا، چہرہ تیزاب سے جلایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کی شناخت رینٹ اے کار کے مالک عثمان کے نام سے ہوئی ہے، جسے تشدد کے بعد گولیاں مار کر قتل کیا گیا، چہرہ تیزاب سے جلایا گیا۔
عثمان 29 مارچ کو شیرپاؤ کالونی میں گھر سے بکنگ پر جانے کیلئے نکلا، 29 مارچ کو عثمان نے رات 3 بجے والدہ سے آخری بار فون پر بات کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول عثمان نے خفیہ شادی کر رکھی تھی، بیوی بچے بھی غائب ہیں، قتل کا مقدمہ 31 مارچ کو قائد آباد تھانے میں درج کیا گیا۔
مقتول کے زیر استعمال گاڑی کا اب تک سراغ نہیں ملا، ملزمان کی تلاش جاری ہے۔