انسانی زندگی کا قیامِ وجُود اور بقا پانی کا مرہونِ منت ہے۔ اگر پانی نہ ہو تو دُنیا کا سارا نظام ختم ہو جائے اور کچھ بھی باقی نہ بچے۔ پانی کی اہمیت اور قدرومنزلت کا اندازہ لگانے کیلئے ربِ کریم کے احکامات پر غور کیجئے۔ سورۃالانبیاء اور سورۃالنور میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ہر جاندار شے کو پانی سے بنایا ۔ آج کے دَور کی جدید سائنس اور ماہرین بیالوجی اِس حقیقت پر مُتفق ہیں کہ تمام اور ہر طرح کے Living Cells میں Cytoplasm موجود ہے جسکی بنیاد 80 فیصد پانی ہے۔ بِلاشُبہ پانی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے اپنی خاص نعمتوں میں شمار کیا ہے مگر افسوس کہ ہم اِس نعمت کی اہمیت سے غافل ہیں۔ا ِس غفلت ہی کا نتیجہ ہے کہ پانی کا بے دریغ استعمال اور ضیاع ہمارا قومی مزاج ، روّیہ اور طور طریقہ بن چکا ہے۔ ہمارا وطنِ عزیز پانی کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ پانی کی صورتحال بے حد سنگین ہے مگر ہم اِس سے بڑی حد تک لا علم اور غافل ہیں۔ The United Nations University Institute for Water, Enviornment and Health کی جنوری 2026 کی ایک رپورٹ میں دُنیا میں پانی کی تشویشنا ک صورتحال کو Water Bankruptcy کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اِس رپورٹ میں دُنیا بھر میں صاف پانی کے آمدہ مسائل، وجوہات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ پاکستان کو درپیش صاف پانی کے سنگین مسائل کے متعلق یونیسف، ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر عالمی اداروں کی وقتاََ فوقتاََ جاری کردہ رپورٹس خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں 1960 کی دہائی کے لگ بھگ صاف پانی 5000 کیوبک میٹرفی کس موجود تھا جو اَب کم ہو کر تقریباََ 660 کیوبک میٹررہ گیا ہے۔ ہماری محض 36فیصد آبادی کو بمشکل صاف پانی دستیاب ہے اور 64 فیصدآبادی اِس نعمت سے محروم ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ہاں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی شرح صرف 1فیصد ہے جو دُنیا بھر میں کم ترین ہے۔ پانی کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں موسمی تبدیلیوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ کلائمیٹ رِسک انڈیکس کے مطابق دنیا کے ایسے ممالک جو موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے کئی خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں اُنکی فہرست میں پاکستان کا15 واں نمبر ہے۔ ہم محض صرف 30 دن تک کا پانی محفو ظ کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو عالمی اعتبار سے انتہائی کم صلاحیت ہے۔ ہم تقریباََ 12 ٹریلین گیلن پانی سالانہ ضائع کر رہے ہیں ۔ ہمارے تین بڑے پانی کے ذخائر تربیلا، منگلا اور چشمہ میں مجموعی طور پر13.316 ملین ایکڑفٹ (MAF) پانی کی گنجائش ہے۔ ہم اپنے بہتے دریائوں سے تقریباََ 8فیصد سالانہ پانی محفوظ کر پاتے ہیں جبکہ عالمی شرح 40 فیصد ہے۔ پچھلے ماہ دُنیا میں یونائیٹڈ نیشنز کے زیرِ اہتمام ورلڈ واٹر ڈے منایا گیا ۔ اِس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ صاف پانی بنیا دی انسانی حق ہے۔ انہوں نے اہم جاری منصوبوں نئی گاج ڈیم Naulong Dam, گریٹر کراچی واٹر سپلائی اسکیم،چنیوٹ ڈیم، کچھی کینال اور چشمہ رائٹ بینک کینال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے مُلک میں پانی کے مسائل حل کرنے میں ممدد و معاون ثابت ہونگے۔ اِسی طرح چند روز قبل اسلام آباد میں WWF-Pakistan اور (PCRWR) کے باہمی اشتراک سے ایک کانفرنس بھی منعقد ہوئی ہے جس میں صاف پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچائو کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ ہمارے ہاں ایک جانب صاف پانی کی کمی کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف پانی کا ضیاع بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہمارا نہری نظام بھی اَب اتنا موثر نہیں رہا اِس نظام کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پانی کی کمی ، غیر مُنصفانہ تقسیم اور چوری وغیرہ وہ مسائل ہیں جن کاحل ضروری ہے ۔یہاں اگر بارشیں نہ ہوں تو خشک سالی اور اگر زیادہ ہو جائیں تو سیلا ب آجاتا ہے۔ ہمارے ہاں زمین سے پانی نکال کر استعمال کرنے کی شرح خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے جسکی وجہ سے زیرِ زمین پانی کا لیول سینکڑوں فٹ نیچے جا چکا ہے۔ پہلے وقتوں میں دیہات میں صرف ایک مشترکہ کنواں ہوتا تھا ۔ تمام لوگ اُسی سے اپنی ضرورت پوری کرتے تھے اور شہروں میں واٹر سپلائی ہوا کرتی تھی۔ مگر اَب ہر گھر ، ہر پلازے ، مارکیٹ اور دکانوں کے اپنے اپنے الگ بورنگ سسٹم ہیں۔ مشین لگاکر بے دریغ پانی نکالا او ر بے دھڑک استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں گنے اور چاول کی فصل کو پانی کا بہت بڑا ذخیرہ درکار ہوتا ہے۔اسلئےزراعت کے شعبے میں دوطرح کی اصلاحات فی الفور کرنا ضروری ہے ایک جانب اجناس کی ایسی اقسام لگائی جائیں جنہیں کم سے کم پانی درکار ہو اور دوسری جانب Drip Irrigation کو سختی کے ساتھ نافذالعمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کی بھرپور بچت ہو سکے۔ بے ہنگم تعمیرات ، مکانات پلازوں اور سڑکوں کی بھرمار سے کچی زمین کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے بھی بارش کا پانی زیرِ زمین جانے کی بجائے ضائع ہو رہا ہے۔ خوش آئند خبر یہ ہے کہ اسلام آباد میں CDA نے Rooftop Rainwater Harvesting System کو نافذ کر دیا ہے۔ بِلا شبہ یہ نظام ایک انقلاب برپاکر سکتا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ اِسطرح کے نظام کو مُلک بھر میں نافذ کر دیا جائے۔ پانی کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے اور آنے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پُوری قوم کو اور ہر فرد کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے اسکول کالج کے نصاب میں ضروری مضامین اور مواد شامل کیا جانا چاہئے اور یونیورسٹی لیول پر بڑے پیمانے پر جدید ریسرچ کا اہتمام کیا جانا چاہئے تاکہ آنے والی نسلیں صورتحال کا مقابلہ کر سکیں۔