• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاکھوں زندگیاں اور عالمی معیشت اسلام آباد مذاکرات میں پیش رفت سے جُڑی ہے

فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی 

پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں اور عالمی معیشت کا مستقبل پاکستان کے دارالحکومت میں ہونے والی کسی بھی پیش رفت سے جڑا ہے۔

ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی تباہ کن جنگ کے بعد امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات نے اگرچہ پھولوں سے لدے اور خوشبوؤں میں بسے شہر اقتدار کی سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں کو سنسان کر رکھا ہے، تاہم دنیا کی معیشت کا مستقبل اور خطے میں لاکھوں زندگیوں کی حفاظت، سیکیورٹی حصار میں گھرے اس شہر سے جڑی ہے۔

دنیا بھر کی نظریں یہاں آج ہونے والے امریکا، ایران مذاکرات پر جمی ہیں اور خواہش ایک ہی ہے کہ امن معاہدہ ہو جائے۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایران نے 10 نکات پیش کیے ہیں۔ ان میں آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو تسلیم کروانا، جنگی نقصانات کا ازالہ، اور تمام پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے، اس کے علاوہ ایران کا جوہری افزودگی کا حق تسلیم کرنا بھی شامل ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی جانب سے اسلام آباد مذاکرات کے لیے 15 نکاتی منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں اہم نکات یہ ہیں کہ آبنائے ہرمز مکمل کھولی جائے، ایران یہاں سے گزنے والے بحری جہازوں سے کسی قسم کا ٹیکس وصول نہ کرے، یورینیم کی افزادگی روکے اور افزودہ یورینیم محفوظ ہاتھوں میں چلی جائے تا کہ ایران ایٹم بم نہ بنا سکے، اس حوالے سے سخت بین الاقوامی معائنوں کو بھی قبول کرے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر مسلسل بمباری مذاکرات کو متاثر کر سکتی ہے، پاکستان اور ایران کے مطابق لبنان جنگ بندی معاہدے میں شامل ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل اسے جنگ بندی کا حصہ قرار نہیں دے رہے۔

جب سے امریکا، اسرائیل اور ایران میں جنگ بندی ہوئی ہے، ایران کے عوام تو خوش ہیں ہی، مگر امریکی عوام کی بھی خواہش ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو، تا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔ 

بین الاقوامی خبریں سے مزید