سیاست میں ڈنڈی مارنا عام سی بات بنتی جارہی ہے۔اگر ہمارا لیڈر ماضی میں کہتا تھا کہ فلاں چیز ٹھیک ہے تو اسے بھول جانا چاہیے البتہ مخالف لیڈراگر اسی چیز کو آج ٹھیک کہہ رہا ہے تو اس کی ڈٹ کے ٹرولنگ کرنی چاہیے۔ میں نے ساری زندگی پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر ہر لیڈر کے منہ سے یہی سنا ہے کہ پٹرول پیچھے سے مہنگا مل رہا ہو تو ہم سستا کیسے دے سکتے ہیں۔لیکن اپوزیشن میں آتے ہی یہ زبان بدل جاتی ہے ۔سوشل میڈیا پر یہ سوال بار بار اٹھایا جارہا ہے کہ جب آبنائے ہرمز ہمارے جہازوں کیلئے کھلی ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیوں بڑھائی گئیں۔گویا قیمتوں کا انحصارصرف آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ہوتا ہے۔ آئیے سادہ طریقے سے اسے سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں پانچ بڑی ریفائنریز ہیں جن سے بمشکل ملکی ضروریات کا لگ بھگ تیس فیصد تک پورا ہوپاتاہے۔
باقی ستر فیصد باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ باہرسے آنے والا تیل بین الاقوامی ریٹ پر ملتاہے اوریہ ریٹ ڈالرز میں ہوتاہے۔ اگر ملکی کرنسی پر ڈالر اثر انداز ہے تو لامحالہ اس کا اثر صرف تیل پر ہی نہیں ہر چیز پر پڑتاہے۔اِس بین الاقوامی ریٹ پر کوئی ’آبنائے ہرمز‘ اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ یہ سمندری راستہ اگر مکمل بند ہو تو تیل بے شک مہنگا ہو، آہی نہیں سکتا۔ لاہورسے اسلام آباد جانا ہو تو راستے کھلے ہونے سے بس کے کرائے میں کوئی فرق پڑتا ہے؟۔
حکومت کوئی بھی ہو طریقہ کار یہی فالو کرنا پڑے گا۔حالیہ بحران میں پہلا بہتر فیصلہ یہ ہوا چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر 80روپے کا ریلیف دیا گیا، دوسرے یہ کہ پنجاب میں ایک ماہ کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ فری کردی گئی۔ یہ پورے ملک میں ہونی چاہیے اور مستقل ہونی چاہیے تاکہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہونے والا رش کم ہوسکے۔ تیسرے یہ کہ مال بردار گاڑیوں،اشیائے ضروریہ لے جانے والے ٹرکوں اورمسافرگاڑیوں کوبہ لحاظ ترتیب سترہزار، اسی ہزار اور ایک لاکھ کی سبسڈی اناؤنس کی گئی۔ریلوے کی اکانومی کلاس کے کرائے بھی نہیں بڑھائے گئے۔سرکاری افسروں کے پٹرول کا خرچ پہلے ہی آدھا کیا جاچکا ہے۔اس صورتحال میں یہی سب سے بہترین آپشن تھا تاہم مستقبل میں تیل کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں اگر آئل ریفائنریز کی تعداد بڑھ جائے یا ان کی استعداد کار کو مزید بڑھایا جائے۔یہ پچاس فیصد تک بھی ملکی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں تو تیل کی قیمتوں میں واضح کمی آجائے گی۔
٭ ٭ ٭
آئل کرائسس سے گزرنے کے بعد دُنیا میں الیکٹرک وہیکلز کی مانگ اور زیادہ بڑھ جائے گی۔سب کو مزید سمجھ آگئی ہے کہ متبادل ایندھن کتنا ضروری ہے۔ ضرورت ایجاد کی ماں بھی ہے اور باپ بھی۔دنیا کو بجلی کی طلب کا مسئلہ ہوا تو سولر وجود میں آگیا۔ پٹرول کی جگہ بجلی سے چلنے والی سواریاں آرہی ہیں۔ایل پی جی کا مسئلہ البتہ اب بھی برقرار ہے حالانکہ بجلی پر چلنے والے چولہے بھی دستیاب ہیں لیکن بجلی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ بہرحال کوئی نہ کوئی مرد عاقل اس کا حل بھی نکال لے گا۔ملک میں کوئی بھی بحرانی صورتحال پیدا ہو، ایک دم سے مفروضوں کی بہار آجاتی ہے۔ ایک شور یہ بھی سنائی دیا کہ حکومت نے یو اے ای کا قرضہ واپس کرنےکیلئے پٹرول کی قیمتیں بڑھائیں۔ فیس بک اور واٹس ایپ کی پوسٹوں سے حقیقت کا بیانیہ بنانا ہمارا بہترین مشغلہ ہے۔ جوخبر ہماری خواہشوں اور مزاج کے مطابق ہو اُسے کاؤنٹر چیک کرنا بھی ہم اپنی توہین سمجھتے ہیں۔حکومت کوئی بھی ہو عوام کو پرسکون رکھنا چاہتی ہے کہ اسی میں اُس کی بقا ہے لیکن بعض اوقات حالات ایسی نہج پر آجاتے ہیں کہ نیند صرف عوام کی نہیں حکومت کی بھی اُڑ جاتی ہے۔پٹرول کی قیمتیں 12روپےکم ہونے کے باوجوداب بھی بہت زیادہ ہیں، ہر بندہ پریشان ہے لیکن حل کسی اور کے پاس ہے۔ہوسکتا ہے یہ کالم شائع ہونے تک ’امریکہ والی سرکار‘ دُنیا پر رحم کھاچکی ہو ورنہ اُسکے خبط کا خمیازہ اربوں انسانوں کو بھگتنا پڑے گا۔
٭ ٭ ٭
ایک دلچسپ چکر ملاحظہ فرمائیے۔ ہر بندے کی خواہش ہے کہ مہنگائی کم ہونی چاہیے لیکن جو چیز وہ خود بیچ رہا ہے اس کا ڈبل منافع لینے میں اُسے کوئی عار نہیں۔اِس ملک میں ناجائز منافع خوری ختم ہوجائے تو حیران کن طور پر مہنگائی کم ہوسکتی ہے۔آپ سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل بھی خریدیں تو ڈیلر نے لکھ کر لگایا ہوتاہے کہ کمیشن اتنا، ٹرانسفر فیس اتنی اور مٹھائی کے پیسے الگ۔بندہ پوچھے مٹھائی کے پیسے موٹرسائیکل خریدنے والا کیوں دے، تم کیوں نہیں؟نہ ڈاکٹروں وکیلوں کی فیس ایک جیسی، نہ ریڑھی پر بکنے والے پھلوں سبزیوں کے ریٹ ایک جیسے نہ کرائے کے گھروں کا کوئی فکس ریٹ۔جہاں جس کاداؤ چل گیا سو چل گیا۔میرے علاقے میں ایک صاحب ہیں جو اچھی خاصی دکان ہونے کے باوجود آدھی سڑک پر قابض ہوکر باربی کیو لگاتے ہیں۔ موصوف کی پورے لاہور میں چھ برانچیں ہیں۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں اُنہیں دکان تک محدود کیا گیاتو بھرائی ہوئی آواز میں بتا رہے تھے کہ ہم جیسا غریب بیچارہ کہاں جائے۔یہ جو غریبوں کے زیادہ ہمدرد بنتے ہیں آپ کا کیاخیال ہے کسی کو اپنی دکان کے آگے مفت پھٹہ لگانے دیتے ہیں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اصل میں تو اِن کی روٹی روزی پر لات پڑی ہے کہ پھٹہ لگانے کے جو ایکسٹرا پیسے آرہے تھے وہ بند ہوگئے ہیں، غریبوں کا اصل خون تو یہ چوس رہے تھے۔میں نے پچھلے دنوں تجاوزات کے نتیجے میں اٹھائے گئے کچھ لوگوں کو ایک بہترین حل نکالتے دیکھا۔ ایک صاحب برگر لگاتے تھے، ایک سوڈا واٹر بیچتے تھے، ایک دال چاول لگاتے تھے اور ایک کاچائے کا کھوکھا تھا۔ ان تینوں نے مل کرایک دکان کرائے پر لی ہے اور تینوں کا کام نہ صرف بہترین چل رہا ہے بلکہ بتا رہے تھے کہ جتنے پیسے کسی دکاندار کے سامنے بیٹھنے کے دینے پڑتے تھے اُس سے کم کرائے کی مدمیں دینا پڑتے ہیں۔