• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ ایران تو ایک طرف ،اس دنیا کے عام انسانوں میں بھی عدل نہ ہونے کے برابر ہے ۔ سسرال اور میکے میں گھریلو خواتین بھی ایک دوسرے کا خون پی جانا چاہتی ہیں ۔ یہ جو حکمران ہیں ، یہ ہم جیسے ہی لوگ ہیں ، بس انکے ہاتھ میں اختیارات آگئے ہیں ۔ باقی انسانی فطرت وہی ہے ۔کوٹ ،پینٹ اورٹائی پہنے انسان اقوامِ متحدہ میں قتل و غارت کی وکالت کرتے پھرتے ہیں ۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے : مذاکرات نے ایران کو بچا لیا۔ سفید جھوٹ۔ ایران کو اس کی جنگی صلاحیت نے بچایاوگرنہ ایران کا حال عراق اور لیبیا جیسا کرنے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ سب جانتے ہیں کہ امریکہ خود ایران میں بری طرح پھنس چکا تھا ۔ ایران بے تحاشا بربادی سے دوچار ہوا لیکن خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیل کو اس نے اڑا کر رکھ دیا تھا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ایران کی جنگی صلاحیت برقرار رہی ۔ اسرائیل میں ہونے والی خوفناک تباہی کی ایک فیصد وڈیوز بھی سامنے نہیں آ سکیں۔

جنگ کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے بلف کھیلا۔ کہا : ایران پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے ۔ آج رات ایک تہذیب ختم ہو جائے گی ۔ واضح طور پر یہ ایٹمی حملے کی دھمکی تھی حالانکہ ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ایران میں اگرچھوٹے ٹیکٹیکل ایٹم بم گرائے جاتے تو پھر یوکرین میں بھی ایسا ہی ہوتا۔ شکست خوردہ ہونے کے بعد پاکستان کے ذریعے مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔

سب جانتے ہیں کہ ایران جنگ سے پہلے ہی سمجھوتے پہ تیار تھا۔ دونوں مرتبہ جب مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھ رہے تھے ، امریکہ نے حملہ کر دیا ۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ صدر ٹرمپ کو اسرائیلی قیادت بلیک میل کر رہی ہے ۔ پچھلے چار امریکی صدور سے اسرائیل نے ایران پر حملے کی فرمائش کی ۔ سب نے انکار کر دیا ۔ڈونلڈ ٹرمپ کیوں نہ کر سکے ؟ ایپیسٹین فائلز پر امریکہ میں بڑا ہنگامہ برپا رہا۔ ٹرمپ کے ایپسٹین سے گہرے مراسم استوار تھے ۔ اس کے باوجود ایپسٹین فائلز میں صدر ٹرمپ کی ایک بھی تصویر کیوں سامنے نہیں آئی ۔یہ ایک ڈیل تھی ۔

یہ ایک سفید جھوٹ ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قریب تھا ۔ یہ ایک سفید جھوٹ ہے کہ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ لاحق تھا ۔ یہ ایک سفید جھوٹ ہے کہ ایران اسرائیل پہ حملہ کرنے والا تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ ایسا کرنے کی صورت میں اس کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی اور بج بھی گئی ۔ محدود ترین وسائل میں مگر جیسی جنگ ایران نے لڑی ، حالیہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایرانی جنگی ماڈل آنیوالی دہائیوں میں جنگی تعلیم گاہوں میں پڑھایا جائے گا۔ ایک جنرل شہید ہوتا تو دوسرا جھنڈا اٹھا لیتا۔ جنگ سے پہلے چار دہائیوں تک معاشی طور پر ایران کا گلا گھونٹا گیا۔ یورپ اس کارِ خیر میں امریکہ کے ساتھ بھرپور طور پر شریک تھا ۔

ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نیٹو سے الگ ہو رہا ہے ۔ ادھر روس کی صورت میں یورپ کو اپنی تاریخ کا عظیم ترین جنگی چیلنج درپیش ہے ۔ خود روس بھی شدید نقصانات سے دوچار ہے لیکن جنگ لڑنے اور لڑتے چلے جانے کو پوری طرح تیار۔ یورپی البتہ مرنے کیلئے تیار نہیں ۔ پوری دنیا میں انسان دیوانوں کی طرح جنگیں لڑتا پھر رہا ہے ۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ۔ 80 لاکھ سال سے انسان اور اس کے آبائو اجداد جنگ لڑتے چلے آرہے ہیں ۔ شاعری تو اس نے ابھی کل شروع کی۔

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے

صدرٹرمپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ کچھ چیزیں جو ماضی کا حصہ ہو گئی تھیں، انہوں نے ایک بار پھر ان کا احیا کر دیا ۔ جیسا کہ حملہ کر کے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لینا ۔ باراک اوباما کتنا مہذب انسان دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دور میں لیبیا کی حکومت گرا دی گئی ۔ آج تک وہاں خون بہہ رہا ہے ۔ یہ جو انسان پینٹ کوٹ پہن کر، ٹائی لگا کر اقوام ِ متحدہ میں انسانی حقوق کے لیکچر دیتا پھرتا ہے ، یہ سب نمائشی اور عارضی ہے ۔ ایک دن آئے گا ، جب دوبارہ انسان منڈیوں میں بیچے جائیں گے ۔

فاسلز کا علم بتاتا ہے ، 80 لاکھ سال قبل پہلے انسانوں کی دنیا میں آمد سے لے کر آج تک ، انسان ہمیشہ باہم دست و گریباں رہا ۔ یہ بات بھی درست ہے کہ انسان کو ئی ایک نہیں تھا ۔ کم از کم 21 قسم کے انسان فاسلز کے ریکارڈ میں نقش ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک بھرپور جنگجو تھا ۔ کمزوروں کو تواپنی نسل بڑھانے کا حق بھی حاصل نہیں تھا ۔یہی وجہ تھی کہ جب فرشتوں کو پتہ چلا کہ ان 21میں سے ایک زمین پہ خدا نائب بننے والا ہے تو وہ ہکا بکا رہ گئے ۔ خدا کے حضور انہوں نے التجا بھی یہی کی کہ انسان تو خون بہاتا ہے اور ہم تسبیح پڑھتے ہیں۔ خدا لیکن وہ جانتاہے جو فرشتے اور انسان نہیں جانتے ۔

صدر ٹرمپ پاکستانی حکام کی تعریف میں رطب اللسان کیوں رہتے ہیں ؟ اس لیے کہ پاکستان خوشی سے پھول کر کپا ہو جائے اور آرام سے بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتا رہے۔ ایران ختم ہو جاتا تو پاکستان کا نمبر لگ جانا تھا ۔ ترکی کا نمبر بھی لگ کر رہنا ہے۔ جس جس مسلمان ملک کے پاس ایک مضبوط فوج اورمیزائل پروگرام ہوگا ، عیسائی اور یہودی اسے ختم کر کے چھوڑیں گے ۔ قرآن کہتاہے ، انہیں دوست نہ بنائو۔ آج بھی انٹرنیٹ پر تصاویر موجود ہیں ۔ صدام حسین اور معمر قذافی کو یہ لوگ میڈل دیا کرتے تھے ۔ دوست نہیں ، یہ زیادہ سے زیادہ برادرانِ یوسف بن سکتے ہیں۔

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی

بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے

فی الحال تو ایرانی جنگی قوت نے پاکستان کا نمبر ٹال دیا ہے ۔وقت آیا تو امریکی پہچانے نہ جائیں گے ۔

کس سے پیمانِ وفا باندھ رہی ہے بلبل

کل نہ پہچان سکے گی گلِ تر کی صورت

تازہ ترین