ممبئی (جنگ نیوز) آشا بھوسلے 92 سال کی عمر میں چل بسیں، موسیقی کا ایک درخشاں عہد ختم ہوگیا، آٹھ دہائیوں پر محیط شاندار کیریئر میں 12 ہزار سے زائد گانے گائے۔ دنیا بھر میں مداحوں اور فنکاروں نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق بھارت کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے نے ممبئی کے اسپتال میں آخری سانسیں لیں، جس کے بعد دنیا بھر میں ان کے مداحوں اور فنکاروں کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ سینے کے انفیکشن کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھیں اور ان کی آخری رسومات پیر کے روز ادا کی جائیں گی۔ آشا بھوسلے نے آٹھ دہائیوں پر محیط کیریئر میں 12 ہزار سے زائد گانے گائے اور انہیں دنیا کے سب سے زیادہ ریکارڈ ہونے والے فنکاروں میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ وہ دو گریمی ایوارڈز کے لیے نامزد بھی ہوئیں اور بھارت کے اعلیٰ اعزازات دادا صاحب پھالکے اور پدم وبھوشن سے بھی نوازا گیا۔ وہ اپنی ہمہ جہت آواز کے باعث ہندی، مراٹھی، بنگالی، تامل سمیت کئی زبانوں میں گاتی رہیں اور مختلف انداز کی موسیقی میں مہارت رکھتی تھیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر رہنماؤں نے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز نے کروڑوں دلوں کو چھوا، جبکہ اداکار شاہ رخ خان سمیت متعدد فنکاروں نے کہا کہ ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔ آشا بھوسلے، جو معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں، نے بچپن سے ہی موسیقی کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ بھارتی فلمی صنعت کی ایک نمایاں ترین آواز بن گئیں۔