انقرہ، ترکیہ (ڈاکٹر فرقان حمید)ترکیہ کا سرکاری موقف ہے کہ صدر اردوان کا اسرائیل پر حملے سے متعلق بیان من گھڑت ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ اور ترکیہ کے اصولی اور متوازن مؤقف کو مسخ کرنا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کے بعض پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والا یہ بیان کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ ’’اگر ایران یا لبنان پر کوئی حملہ ہوا تو اسے ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا‘‘، سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔سرکاری مؤقف کے مطابق اس نوعیت کے بیانات کو دانستہ طور پر گھڑ کر پھیلایا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف عوام کو گمراہ کیا جائے بلکہ ترکیہ کے اصولی اور متوازن مؤقف کو بھی مسخ کیا جا سکے۔ واضح کیا گیا ہے کہ ترکیہ کی ریاست نے ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ اور حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائی ہے۔ترکیہ، صدر کی قیادت میں، خطے میں جاری حالیہ کشیدگی اور تنازعات کے دوران بھی اعتدال، دانشمندی اور سفارتی توازن کی علامت بنا رہا ہے۔