پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان کا نازک جنگ بندی کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
عرب چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات خطے میں امن کی جانب اہم پیشرفت ہیں، جہاں بات چیت کو ہی واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا گیا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ جنگ بندی نے فریقین کو مہلت دی تاکہ وہ اپنے مؤقف کا جائزہ لے کر آئندہ مذاکرات کے لیے حکمتِ عملی تیار کر سکیں، مذاکرات کا عمل وقت طلب ہوتا ہے اور کسی ایک نشست میں پائیدار حل ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت بشمول فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور آصف علی زرداری نے پس پردہ بھرپور سفارتی کوششیں کیں، تمام ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی نے مذاکرات کو ممکن بنایا اور قومی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ فریقین نے ایک دوسرے کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کی، جو کسی بھی کامیاب مذاکرات کے لیے بنیادی قدم ہوتا ہے، ماضی کے تنازعات اور میڈیا بیانیے کی وجہ سے فوری حل کی توقعات حقیقت پسندانہ نہیں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کر کے عالمی سطح پر اپنے سفارتی کردار اور اعتماد کو مضبوط کیا، فریقین کے درمیان براہِ راست اعتماد نہ ہونے کے باوجود اسلام آباد کو مذاکرات کے لیے منتخب کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ ابتدائی تعطل اور بعض خلاف ورزیوں کے باوجود مذاکراتی عمل کو مثبت آغاز قرار دیا گیا، امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تسلسل کے ساتھ بات چیت اور لچکدار حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز جیسے ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں تصادم کے بجائے باہمی اور حل طلب مذاکرات کا طویل سلسلہ ناگزیر ہے۔