متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحۂ گل پلازا میں 100 سے زائد شہری جاں بحق ہوئے تھے، ہمارے مطالبے پر انکوائری کرائی گئی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی نے عدالتی تحقیقات سے متعلق وزیرِ اعظم کو خط لکھا تھا، خط لکھنے کے بعد سندھ حکومت نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
فاروق ستار نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف عجلت میں ایف آئی آر درج کرائی گئی، 4 فروری کو سانحۂ گل پلازا پر انکوائری کمیشن بن گیا، سانحے کی انکوائری میں شمولیت کے لیے ایم کیو ایم نے درخواست جمع کروائی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو انکوائری کمیشن نے سننے سے انکار کیا، سانحۂ گل پلازا میں انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانا چاہیے تھا، ہم نے کمیشن کی انکوائری سے شہری کے طور پر معاونت کی درخواست کی۔
فاروق ستار نے کہا کہ بہت کم لوگ رضاکارانہ طور پر کمیشن میں پیش ہوئے، انکوائری کمیشن نے 8 اپریل کو حکومت کو رپورٹ جمع کروا دی، آگ بجھانے میں کیوں تاخیر ہوئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ کو پبلک کرنے کی ضرورت تھی، کمیشن کی رپورٹ بند لفافے میں وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بھیج دی گئی، یہ سانحہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ لاپروائی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے رپورٹ کو کابینہ میں پیش کیا اور پبلک نہیں کیا، رپورٹ وزیرِ داخلہ ضیاء لنجار کے حوالے کر دی گئی کہ وہ اس پر عملدرآمد کریں۔