• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ نے یہ اندازہ لگانا ہوکہ کسی شادی شدہ جوڑے کا مستقبل کیا ہوگا تو ذرا اُن کی حرکات دیکھا کریں۔ ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھانا، بات بات پر ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ چپکنا، کسی محفل میں حد سے زیادہ ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔یہ ساری علامات عموماً خاموش طوفان کی ہوتی ہیں۔ان حرکتوں میں محبت کم اور دکھاوا زیادہ ہوتا ہے۔ مشہور شخصیات کی شادیوں پر غور کیجئے۔ ایسا ہی کچھ منظر دیکھنے کو ملا تھالیکن بعد میں کیا ہوا؟۔ نارمل جوڑے جو بظاہر ایک دوسرے سے بہت زیادہ گفتگو نہیں کرتے، لڑتے جھگڑتے بھی ہیں، ناراض بھی ہوتے ہیں، مان بھی جاتے ہیں،ہر وقت ایک دوسرے سے نتھی نہیں رہتے ان کی شادیاں زیادہ کامیاب نظر آتی ہیں۔چند ماہ پہلے ایک سوشل میڈیا کی ڈرامہ باز’ڈاکٹر صاحبہ‘ کی شادی ہوئی تھی جنہوں نے اپنے شوہر اور سسرال کی تعریفوں میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے تھے، چند دنوں بعد ہی ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے دُکھ بیان کر رہی تھیں۔حال ہی میں ایک ٹی وی چینل کے مارننگ شو کی اینکر کے شوہر نے آن ایئر شو کے دوران محترمہ کو اپنے سر پر اٹھا لیا۔ تصاویر اور وڈیوز یقیناً آپ دیکھ چکے ہوں گے۔یہ لوگ زبردستی ثابت کرتے ہیں کہ ہماری محبت کو دیکھو اور کہو کہ یہ تو بے مثال جوڑا ہے۔اِن کو دیکھنے والے سوچتے ہیں کہ یقیناً شوہرروزانہ ہاتھ میں گٹار پکڑ کر بیوی کیلئے گانے گاتا ہوگا۔ بیوی ناشتے کی ٹیبل پر پھول سجاتی ہوگی۔دونوں بس مزے مزے کے کھانے کھاتے ہوں گےاور بات بات پر قہقہے لگاتے ہوں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نہیں۔قرائن بتاتے ہیں کہ اندر کھاتے اکثر بات اُلٹ چل رہی ہوتی ہے۔

بہرحال یہ میرا موضوع نہیں۔میں تو حیران ہوں کہ شوہر کو کیا ضرورت پڑگئی تھی بیوی کو اٹھانے کی۔یاتو انہیں گھر میں وقت نہیں ملتا یا وہاں ایسی حرکت کرنے کو دل نہیں کرتا۔میاں بیوی کسی شو میں بیٹھے ہوں تو کم ازکم یہ احساس تو ہونا چاہیے کہ یہ بیڈ روم نہیں۔یہ دونوں گھر سے اکٹھے آئے ہوں گے۔شو ہر صاحب شو کے دوران اسٹوڈیو میں ہی ایک طرف کسی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہوں گے کہ جب آواز لگے گی تو سامنے جائیں گے، پھر اچانک ایسی وارفتگی طاری کرکے آپے سے باہر ہونا سمجھ سے باہر ہے۔

٭ ٭ ٭

آج کل سوشل میڈیا پر اکثر کسی خوبصورت خاتون کی تصویر نظر آتی ہے اور ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ میں بیوہ یا طلاق یافتہ ہوں۔ذاتی بنگلہ اور گاڑی ہے چھ لاکھ انکم ہے او رمجھے کسی ایسے جیون ساتھی کی تلاش ہے جو میراخیال رکھ سکے۔ میں ایسی تصاویر کے نیچے کمنٹس ضرور پڑھتاہوں کیونکہ اس سے اچھی تفریح کوئی نہیں ہوتی۔ اندھے کو بھی نظر آرہا ہوتاہے کہ سب فراڈ ہے لیکن کمنٹس پڑھ کر روح تازہ ہوجاتی ہے۔ ایک ایسی ہی تصویر ابھی نظروں سے گزری۔ نیچے جو کمنٹس آئے وہ ذرا ملاحظہ ہوں۔

’میری عمر چالیس سال ہے، بیوی مرچکی ہے میں آپ کو سہارا دینے کیلئے تیار ہوں اِس فون نمبر پر رابطہ کریں ...مجھے پتا ہے تم جھوٹ بول رہی ہو، سچی ہو تو اِن باکس میں آؤ، شادی نہ کروں تو نام بدل دینا...میں نے اپنی امی سے بات کرلی ہے وہ بھی راضی ہیں میسج بھیجا ہے پڑھ لینا...میں پانچ سال سے سچے پیار کی تلاش میں تھا، آپ کو دیکھتے ہی میری تلاش ختم ہوگئی ، انشاء اللہ میں آپ کو زندگی کی ہر خوشی دوں گا، اپنے فیصلے سے ضرور آگاہ کریں...میں نے بھی زندگی میں بہت دکھ دیکھے ہیں، بیوی فوت ہوچکی ہے، کیا ہم ایک دوسرے کا سہارا بن سکتے ہیں؟دوستویہ دھوکا ہے، دو نمبری ہے، فراڈ ہے میں نے اسے تین دفعہ میسج کیا لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا،ہم کوکوئی بنگلہ یا گاڑی نہیں چاہئے بس ایک محبت کرنیوالا ساتھی چاہیے اگر تم کو قبول ہو تو ہم کو بولو،اگر تم سر پر دوپٹہ لینے کاوعدہ کرے تو ہم شادی کیلئے ہاں کر سکتاہے.....

٭ ٭ ٭

سسپنس اور تھرل سے بھرپور فلم چل رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مذاکرات شروع ہوتے ہی پٹرول کی قیمت میں 12روپے مزید کمی ہوگئی۔ وہ سب جوکسی ناگہانی صورتحال میں پٹرول ڈلوانےکیلئے بے تاب تھے سب جھاگ کی طرح بیٹھ گئے کہ اب تو پٹرول واپس اپنی پرانی قیمت پر آنے ہی والا ہے۔ دو دن بعد ڈیل نہ ہونے کی خبریں پڑھ کر پھر دل بیٹھنا شروع ہوگیا۔اُدھر ٹرمپ نے پوری دنیا کا تیل روکنے کی دھمکی دے کر رہی سہی کسر نکال دی اور عوام کی چوکنی نگاہیں پھر پٹرول پمپس پر جمنا شروع ہوگئی ہیں۔میں جب بھی ٹرمپ کو دیکھتاہوں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ اُس ملک کا صدر ہے جسے اپنی جمہوریت پر ناز ہے۔ایک ایسا ملک جسے سپرپاور کہا جاتاہے، جہاں سائنس کی اعلیٰ ترین ایجادات ہوتی ہیں۔ جہاں تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں کی کرنسی سب سے طاقتور ہے، جہاں بظاہر شعور کی فراوانی ہے وہاں کے عوام نے حکمرانی کا تاج کس کے سر پر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسا حکمران جسے سفارتی زبان کی تمیز ہے نہ اپنے غصے پر کنٹرول۔جس کی زبان سے دوست محفوظ ہیں نہ دشمن۔گلی محلے کے لفنٹر بدمعاش بھی ایسی زبان نہیں استعمال کرتے جو موصوف دھڑلے سے کرجاتے ہیں۔ایسے لگتا ہے بھائی صاحب کے منہ پر کوئی چیز بندھی ہوئی ہے جومسلسل اپنا آپ ثابت کر رہی ہے۔ایک مچھلی نے طاقت کے نشے میں پوری دنیا کا تالاب گدلا کردیا ہے پھربھی اس کا بلڈپریشر کم نہیں ہورہا۔پس ثابت ہوا کہ جمہوریت بھی ڈکٹیٹر پیدا کر سکتی ہے۔ہمارے ہاں اس مزاج کا بندہ اگر کسی شادی کی تقریب میں چلا جائے تو رشتے دار اِسے دیکھتے ہی آپس میں چہ میگوئیاں شروع کر دیتے ہیں کہ ’اوآگئی جے کھچ‘۔

تازہ ترین