• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیفری ایپسٹین + عمران خان + اور ریاست مدینہ

مہذب اور غیر مہذب دنیا میں کسی شخص خصوصاً "راہبر و راہنما" کے اس حد تک گرنے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جہاں "غیرفطری برائیوں کی تسکین کے لئے" تمام اقدار، اخلاقیات اور شرافت کو روند کر حیوانیت کو فخریہ شعار بنا لیا جائے-Epstein File کی تحقیقاتی رپورٹ میں کئے جانے والے انکشافات سے دنیا بھر کی عیاش طبع "اشرافیہ" کی صفوں میں بھونچال آ گیا اور اس کے مندرجات میں نامزد ان شخصیات میں کھلبلی مچ گئی جو بلا واسطہ یا بالواسطہ اس گند کا حصہ تھے۔ دنیا بھر کا سوشل میڈیا اور گوگل ایسے "اعلیٰ شخصیات" کے ناموں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے اپنی مرضی سے یہ کالک اپنے منہ پر ملی جن کی شناخت ایپسٹین فائل میں موجود ہے ۔ان اعلیٰ شخصیات میں "ریاست مدینہ" قائم کرنے کے دعویدار عمران خان کا نام کسی حقیقی عالم دین کی بجائے، جیفری ایپسٹین کے ساتھ جڑا ہے۔ حیرت اس بات کی ہے ایک تصویر میں جیفری ایپسٹین اور عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی بھی موجود ہیں، اس کا مطلب ہے کہ یہ ملاقات عمران خان کے دور اقتدار میں ہوئی تھی۔ایپسٹین فائل میں موجود تحقیقاتی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان اور جیفری ایپسٹین کے درمیان پندرہ تفصیلی ملاقاتیں ریکارڈ پر موجود ہیں تاہم ان ملاقاتوں میں کی جانے والی گفتگو کےموضوعات نہیں بتائے گئے۔یہ بھی واضع نہیں کہ عمران خان اپنے دور اقتدار میں بھی جیفری ایپسٹین کے بدنام زمانہ جزیرے پر گئے تھے یا نہیں، لیکن ان کا جیفری ایپسٹین سے گہرا تعلق عمران خان کی "پاکیزگی" پر سیاہ دھبہ ہے۔ان حقائق کی بنیاد پر اور عمران خان کے "رجحانات" کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانۂ دارالامان، افشاں لطیف کی جانب سے عمران خان کے خلاف لگائے جانے والے سنگین الزامات پر یقین نہیں کیا جا سکتا؟ افشاں کی جانب سے الزامات کا آغاز 2019 میں اس وقت ہوا جب عمران خان کا اقتدار پورے جوبن پر تھا اور وہ اقتدار سے بھرپور "لطف اندوز" ہو رہے تھے۔ لیکن عمران خان یا خاتون اول نے ان الزامات کی کبھی پرواہ کی اور نہ کبھی تردید کی ۔ ہر شخص اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ کاشانہ دارالامان یتیم اور بے آسرا بچیوں کی حفاظت اور تعلیم و تربیت کے لئے سرکاری سطح پر قائم کیا گیا تھا۔لیکن عمران خان نے کاشانہ دارالامان اور ایپسٹن کے جزیرے کے درمیان تفریق اور دارالامان کی تعظیم کو ختم کردیا۔سوال یہ ہے کہ ان تمام "خوبیوں" کے باوجود کہاں ہیں وہ "انصاف کے قاتل" جنہوں نے عمران خان جیسی "شخصیت" کو "صادق و امین" قرار دیا تھا؟ آج شائد وہ منصف اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔ایپسٹین فائل کی دستاویزات کا ایک اہم حصہ تفصیلی ایڈریس بک بھی ہے جو 2015 میں منظرِ عام پر آئی، جس میں دنیا کی 1,700 سے زائد بااثر شخصیات کے رابطے موجود تھے جسے حکومتی سطح پر بھی خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن امریکی صدر کو قانونی مسودہ پر دستخط کرنا پڑے۔ اس قانون کے تحت لاکھوں دستاویزات جاری کی گئیں، جن میں 30 جنوری 2026 کو جاری ہونے والی وہ تین ملین فائلیں بھی شامل ہیں جن میں تصاویر اور تحقیقی رپورٹس موجود تھیں۔ان فائلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین کے تعلقات سیاست دانوں، کاروباری شخصیات اور شاہی خاندانوں (جیسے بل کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ اور پرنس اینڈریو) تک پھیلے ہوئے تھے انہی فہرستوں میں "ریاست مدینہ" قائم کرنے کے داعی عمران خان کا نام بھی "روشن" ہوا۔ان دستاویزات میں متاثرہ خواتین اور لڑکیوں کے بیانات بھی شامل ہیں، جن کی مدد سے اس وسیع نیٹ ورک کو سمجھنے اور انصاف کی راہ ہموار کرنے میں مدد ملی ہے۔ان دستاویزات میں سینکڑوں ایسے افراد کے نام شامل ہیں جو کسی نہ کسی طرح ایپسٹین کے رابطے میں رہے، اس کے نجی جزیرے پر گئے، یا اس کے ساتھ سفر کیا۔ان میں متاثرہ خواتین اور ایپسٹین کے ملازمین کے بیانات بھی درج ہیں۔ یہ پورا معاملہ عالمی سطح پر ایک سنگین اخلاقی تنبیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جیفری ایپسٹین کی شخصیت کی تشریح الفاظ میں ممکن نہیں کیونکہ اس کا معاملہ محض ایک انفرادی جرم نہیں تھا، بلکہ یہ طاقت کے ناجائز استعمال اور انسانیت سوز رویوں کی ایک افسوسناک داستان ہے جس نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔یہی رویہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان دشمن قوتوں اسرائیل اور بھارت کی اطاعت قبول کرتے ان کی پاکستان دشمن سوچ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان کے دھڑے میں شامل ہو گئے، عمران خان کے پاکستان کے خلاف معاندانہ خیالات اور منفی رویہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ پاکستان مخالف دھڑے میں کھڑے ہیں۔ ٹرپل آئی )اسرائیل، انڈیا اور عمران خان( کا گٹھ جوڑ پاکستان کو تباہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتے۔

تازہ ترین