کراچی(اسٹاف رپورٹر) انجمن اساتذہ عبدالحق کیمپس وفاقی اردو یونیورسٹی کے ہنگامی اجلاس میں وفاقی اردو یونیورسٹی کی جانب سے جاری ہونے والے اساتذہ کی اسامیوں کے نئے اشتہار کو امتیازی اور متنازع قراردیتے ہوئے اسے منظور نظر افراد کو نوازنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ 2022 کے اشتہار کے مطابق فوری طور پر سیلیکشن بورڈ کا انعقاد کرکے سینئر اساتذہ کی ترقی کو مکمل کیا جائے۔ انجمن اساتذہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی میں اساتذہ کی خالی نشستوں پر نیا اور مکمل اشتہار جاری کیا جائے۔یونیورسٹی میں تعلیمی اور تحقیقی عمل مکمل طور پر جمود کا شکارہے اور اساتذہ مالی بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ اساتذہ نے 2013 اور 2017 کے سینیٹ سے منظور شدہ سیلیکشن بورڈ کوغیر ضروری طور پر متنازعہ بنانے کے عمل کی بھی مذمت کی اور اس حوالے پروفیسرڈاکٹر تنویر خالد، سعید اللہ والا اور شکیل الرحمان پر مشتمل سینیٹ کمیٹی کی کارروائی پر فوری عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ وائس چانسلر کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں۔ انجمن اساتذہ کے اجلاس میں وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورستی کی دو سالہ کارکردگی کو مایوس کن قراردیتے ہوئے صدر پاکستان اور اردو یونیورسٹی کے چانسلر آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرکے وائس چانسلر کی کارکردگی پرڈاکٹررضا چوہان کی سربراہی میں بننے والی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق کارروائی مکمل کی جائے۔ وائس چانسلر کے دور میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے مالی اور انتظامی بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن بروقت ادا نہیں کی جارہی ہیں۔