• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیرِ خزانہ کی واشنگٹن میں اہم ملاقاتیں، دو طرفہ تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب---فائل فوٹو
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب---فائل فوٹو

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے دورۂ امریکا کے دوران واشنگٹن میں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، جس میں عالمی معاشی چیلنجز اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا، ترقی پزیر ممالک میں خوراک اور توانائی کے تحفظ پر بھی گفتگو ہوئی۔

ملاقات میں عالمی حالات کے معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی، وزیرِ خزانہ نے باروز پلیٹ فارم کے اجراء پر تعاون کا شکریہ ادا کیا۔

وزیرِ خزانہ واشنگٹن میں فرینکلن ٹیمپلٹن کی اعلیٰ قیادت سے  بھی ملے، ملاقات میں نج کاری اور کیپٹل مارکیٹس پر تبادلۂ خیال کیا گیا، وزیرِ خزانہ اورنگزیب نے وفد کو حکومت کے جاری نج کاری پروگرام پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ 29 سرکاری ملکیتی اداروں کو نج کاری کمیشن کے حوالے کیا جا چکا ہے، اسلام آباد، کراچی اور سیالکوٹ ایئر پورٹس کی آؤٹ سورسنگ کی جا رہی ہے، پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی باضابطہ طور پر قائم کی جا چکی ہے، بائنینس اور دیگر ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔

وزیرِ خزانہ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نج کاری پر بھی روشنی ڈالی، کیپٹل مارکیٹس کے حوالے سے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام پر بات چیت کی، لیڈ منیجرز کے انتخاب کے لیے آئندہ ریکویسٹ فار پروپوزلز کے بارے میں آگاہ کیا، پاکستان کی عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کے منصوبے کا بھی بتایا۔

انہوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر ماساتو کاندا سے ملاقات کی جس کے دوران پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیرِ خزانہ نے کنٹری پارٹنر شپ اسٹریٹیجی کو اہم سنگِ میل قرار دیا، پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون کا خیر مقدم کیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے جائزوں میں مثبت پیش رفت کی امید ہے، سپلائی شاک سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں، اسٹیٹ بینک کے ساتھ معاشی اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کھاد سپلائی اور زرعی پیداوار پر بینک صدر کے خدشات پر وزیرِ خزانہ نے نوٹس لیا، ملاقات میں مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، انہوں نے وزیرِ اعظم کی جانب سے صدر اے ڈی بی کو دورۂ پاکستان کی دعوت دی۔

 واشنگٹن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے فِچ ریٹنگز کے حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی کریڈٹ پروفائل پر فِچ کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، فِچ کی جانب سے پاکستان کی بی نیگیٹیو ریٹنگ برقرار رکھنے پر وزیرِ خزانہ نے خیر مقدم کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرامز پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، پاکستان کی معاشی اصلاحات پر عالمی اداروں کا اعتماد برقرار ہے، مالی سال 2026ء کے لیے بیرونی فنانسنگ کے انتظامات مکمل کر لیے گئے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں فعال موجودگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانڈا بانڈز، یورو بانڈز اور سکوک کے ذریعے فنڈنگ حکمتِ عملی جاری ہے، ای ایس جی سے منسلک بانڈز کے اجراء پر بھی حکومت کا فوکس ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید