گزشتہ برس بائیس اپریل کوپہلگام حملے سے لے کر اس سال اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملے اور اس میں ایران و امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی تک، جس میں مکمل کامیابی اب چند گھنٹوں کی بات نظر آرہی ہے، ایک برس کی مدت میں پے در پے رونما ہونے والے واقعات کے باعث عالمی منظر نامے پر پاکستان جس شان سے ابھرا ہے، اور دنیا میں اس کی قدر ومنزلت میں جس تیزرفتاری سے اضافہ ہورہا ہے، یہ امر واضح ہے کہ واقعات کا یہ سلسلہ کسی انسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں ۔ نریندر مودی پہلگام کا ڈراما نہ رچاتے تو مئی کی چار روزہ جنگ نہ ہوتی ۔جنگ نہ ہوتی توافواج پاکستان کے وہ جوہر نہ کھلتے جنہوں نے نہ صرف بھارت کو تاریخی ذلت و رسوائی سے دوچار کیا بلکہ پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکابھی بجادیا۔
پاکستان کے خلاف قطعی بلا جواز طور پر شروع کی جانے والی جارحیت پر جو ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر اسلئے کوئی مداخلت نہ کرنے کے اعلانات کر رہے تھے کہ یوں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی پٹائی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا، بھارت کی انتہائی رسوا کن شکست کے باعث چوتھے ہی دن فوری جنگ بند کرانے کیلئے حرکت میں آگئے۔ پاک فوج کی جنگی صلاحیت اور اس کے سربراہ کی قائدانہ اہلیت کے حیرت انگیز مظاہروں نے چار دن پہلے تک پاکستان کی طرف نگاہ التفات سے گریزاں امریکی صدر کو بظاہر پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کا ایسا گرویدہ بنادیا کہ وہ ہر محفل میںپاکستان کی شان میں رطب اللسان جبکہ بھارت کی ہجو گوئی میں مصروف نظر آنے لگے اور یوں بھارتی قیادت سے ان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا۔
اسی نوعیت کا واقعہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ ستمبر میں اسرائیل نے خلیج میں امریکہ کے بڑے اتحادی ملک قطر پر میزائل برساکرعرب دنیا میں یہ تشویش پیدا کردی کہ دفاع کے معاملے میںامریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے اور روز افزوں قربتوں کا سبب بنا حالانکہ پہلگام ڈرامے کے روز یعنی بائیس اپریل کو مودی سعودی عرب کے تیسرے دورے پر تھے اور اس سازشی کارروائی کے فوراً بعد دورہ مختصر کرکے بھارت واپس آئے تھے تاکہ قرائن کے مطابق اس پیشگی طے شدہ جعلسازی کو حقیقت باور کرانا آسان ہوجائے اور اس کا الزام اسلام آبادپر لگا کر پاکستان کو دنیا میں اچھوت بنایا جاسکے لیکن اس ناٹک سے دنیا کو گمراہ نہیں کیا جاسکا بلکہ مودی سرکار کی عیاری و مکاری پوری عالمی برادری پر کھل گئی۔
اسی طرح گزشتہ جون کی آخری تاریخوں میں امریکہ نے ایران سے کامیاب ہوتے مذاکرات اچانک ختم کرکے فوجی کارروائی شروع کردی تو پاکستان نے ایران کی ایسی پرخلوص اور غیر معمولی حمایت اور معاونت کی کہ ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کے نعرے گونجنے لگے جبکہ اس سے پہلے تک ایران پاکستان کی نسبت بھارت کے بہت قریب سمجھا جاتا تھا ، چاہ بہار کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے دونوں ملک گوادر کی کامیابی کا راستہ روکنے میں شریک تصور کیے جاتے تھے۔
پھر یہ بھی دیکھئے کہ ابھی اواخر فروری میں امریکہ ایران مذاکرات کے آخری مرحلے میں صدر ٹرمپ نے بظاہر نیتن یاہو کی فرمائش پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر اس دعوے کے ساتھ حملہ کیا کہ دو چار دن میں جنگ جیت کرتہران میں امریکہ اور اسرائیل کی پسند کی حکومت قائم کردی جائے گی۔ تاہم پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اپنے عرب دوستوں اورایران کے درمیان کشیدگی کی طویل تاریخ نیزڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تمام تر مدح سرائی کے باوجود واشنگٹن کی اس اسرائیل نواز ظالمانہ کارروائی میں ساتھ دینے یا خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے ایران کی عملی حمایت کا فیصلہ کیا ۔ حق و انصاف پر مبنی اس حکمت عملی نے پاکستان کیلئے سفارت کاری برائے امن کا ایسا راستہ کھولا جس نے پوری عالمی برادری میں اسے ایسی غیر معمولی اہمیت عطا کردی ہے جو آج دنیا کے کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں۔
پاکستان ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے مقابلے میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور دوسری طرف عرب ممالک اور ایران کے درمیان جنگ کے قوی امکانات کے سامنے بند باندھ کر عالم اسلام کو باہمی جنگ میں الجھا کر گریٹر اسرائیل کاراستہ کامیابی سے روک چکا ہے جبکہ بھارتی وزیر اعظم مودی ایران امریکہ مذاکرات کی ناکامی پر نیتن یاہو کو گریٹر اسرائیل کے قیام میں بھارت کی حمایت کا یقین دلانے اور پاکستان کے خلاف تل ابیب کی ملی بھگت سے مشترکہ منصوبے عمل میں لانے کیلئے اسرائیل کے دورے پر جاپہنچے۔ان کے اس اقدام نے بھارت سے دوستانہ روابط رکھنے والے ایران کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کی بھی یہ خوش فہمی دور کردی کہ مودی سرکار مسلم دنیا سے مخلص ہوسکتی ہے جبکہ پاکستان آج ایران و عرب سمیت پوری مسلم دنیا ہی کے نہیں امریکہ، چین، روس ، یورپی ممالک اور ادارہ اقوام متحدہ سب کے اعتبار کا حامل ہے ۔ایران و امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی اور تعلقات کی بحالی کیلئے اس کی کوششوں کو سب ہی قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے اور ان کی کامیابی کے متمنی ہیں۔
پاکستان کو دنیا میں قیام امن کی امیدوں کا مرکز بنادینے والے اس سلسلہ واقعات کی صورت گری، جس نے ہماری قیادت کو اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا، سے یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہے کہ یہ سب محض اُس رب ذوالجلال کی مشیت کے تحت ہورہا ہے جو خیرالماکرین یعنی سب سے بہتر مدبر و کارساز ہے۔ کیا عجب کہ اُس نے اپنے نام پر بننے والے اس ملک کو دنیا سے ظلم و جور کے خاتمے اور عالمی امن و استحکام کے ضامن نظام عدل کے قیام میں پوری انسانی برادری کی رہنمائی کا منصب عطا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہو اور شاعر مشرق کا یہ گمان حقیقت میں بدلنے والا ہو کہ:
جہانِ نو ہورہا ہے پیدا، وہ عالم پیر مررہا ہے
جسے فرنگی مقامروں نے بنادیا ہے قمار خانہ
ہوا ہے گو تندوتیز لیکن چراغ اپنا جلارہا ہے
وہ مردِ ددرویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ