پاکستان نے گذشتہ ہفتے اپنی عالمی ادائیگیاں وقت پر کیں اور بروقت وصولیوں سے زرمبادلہ ذخائر پر زیادہ اثر بھی نہیں ہونے دیا۔
پاکستان نے تقریباً ڈیرھ ارب کے یورو بانڈ اور میچور ہوئے دو ارب ڈالر ڈپازٹس کی ادائیگی کی، 50 کروڑ کے یورو بانڈ بیچے، سعودی عرب کا 2 ارب ڈالر کا ڈپازٹ وصول کیا۔
ملک کا عالمی محض یہ لین دین چھ ارب ڈالر تو ہے، ہمارا بیرونی قرض ایک ارب ڈالر کم ہے، ہمارے ڈپازٹس وہی ہیں، بس ڈپازٹس کا ٹائٹل یو اےای تھا سعودی عرب ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک سے رمضان سے قبل ایک نششت میں صحافی باتیں کر رہے تھے۔ ان دنوں یو ای اے کے ڈپازٹس رول اوور ہونے کی خبریں تھیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک البتہ مطمئن تھے۔ اپنی تیاریاں بتائیں اور مسکراتے ہوئے کہ مالی سال ختم ہونے تک دو عیدیں بھی ہیں۔
مشرق وسطیٰ حالات سمجھاتے ہیں کہ قربانی ضرورت سے زیادہ ہوگی، ریاست نے اپنی افرادی قوت کو یہ اضافی اسکل دی ہوتی تو مہنگائی کے مارے بھی کچھ موسمی کمالیتے، قربانی کے سیزن کی ابتدائی رپورٹ ہے کہ ایکسپورٹس اور افغانستان بارڈر بند ہے۔
اس لیے سپلائی زیادہ ہے۔ کسان اور بیوپاری اپنا مال نکالنے کی جلدی کریں گے۔ البتہ مشرق وسطیٰ کی اضافی طلب سے معاملہ بیلنس رہنے کے اندازے بھی ہیں۔