گزشتہ ایک ہفتے سے ایک انشورنس ایجنٹ صاحب میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ہر دفعہ وہ مجھے ڈیڑھ گھنٹے کا لیکچر دیتے ہیں جس میں مجھے مرنے کے فوائد بتاتے ہیں۔اُنہیں یقین ہے کہ میں اپنی فیملی کے مستقبل کے بارے میں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہوں، مجھے اپنے بیوی بچوں کا کوئی خیال نہیں اور میں نے انہیں بے یارومددگار چھوڑ رکھا ہے۔ یہ بھائی صاحب جب بھی آتے ہیں پریمیم، پرسنٹیج اور عجیب و غریب ریاضیاتی، معاشیاتی وجناتی الفاظ استعمال کرکے آخر میں کیلکولیٹر پر دو کروڑ کی فگر نکال کرفخر سے میرے سامنے رکھ دیتے ہیں کہ اب بول۔جتنا میں اُن کے الٹ پھیر کو سمجھا ہوں یہی اندازہ لگایا ہے کہ اگر میں بیس سال کے اندر پچیس لاکھ جمع کرانے کے قابل ہوں تو میرے مرنے کے بعد میرے لواحقین کو دو کروڑ مل جائیں گے اور اگر خدانخواستہ میں بچ گیا تو اِس بھاری رقم کا خود بھی دیدار کر سکوں گا۔
میں نے اُنہیں پیشکش کی کہ آپ پچیس لاکھ بیس سال میں لینے کی بجائے ابھی مجھ سے لے لیں اور مجھے دو کروڑ دے کر بات ختم کریں لیکن پتا نہیں کیوں وہ اِس پر نہیں آتے۔چائے پیتے ہیں، بسکٹ کھاتے ہیں اوربڑے وثوق سے مجھے آگاہ کرتے جاتے ہیں کہ ’مرنے کے بعد کیا ہوگا‘۔سچ پوچھیں تو مجھے اُن کی شکل میں موت کا فرشتہ نظر آنے لگا ہے۔
موت کی ایسی ایسی شکلیں دکھاتے ہیں روح کانپ جاتی ہے۔کہنے لگے ’کیا یہ ممکن نہیں کہ کسی دن گوشت کھاتے ہوئے ہڈی آپ کے حلق میں پھنس جائے اور دوسرا سانس نہ لے سکیں؟‘۔میں نے سہم کر کہا ’بھائی جی میں تو گوشت کھاتا ہی نہیں، سبزی اور دال خور ہوں‘۔ گھور کر بولے’موت آنی ہوگی توکھیراکھاتے ہوئے بھی آجائے گی‘۔میں نے تیزی سے پلیٹ میں پڑے کھیرے سے ہاتھ کھینچ لیا۔انہوں نے مجھے انشورنس پرقائل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن میرے مسلسل انکار پر وہ کچھ مایوس ہوئے اور گہری سانس لے کر بولے’چلیں اپنے کچھ دوستوں کے ہی ریفرنس دے دیں‘۔
٭ ٭ ٭
ایک درویش کسی جگہ سے گزر رہا تھا اسے پیاس لگی۔سامنے ایک بدو کنویں سے پانی بھر رہا تھا۔درویش نے اس سے پینے کیلئےپانی مانگا۔بدو نے کٹورا بھر کے دے دیا۔درویش نے پانی پیا اور بدو کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا’کیا میں تمہیں تین ایسی باتیں بتاؤں جن پرعمل کرکے تم ہمیشہ خوش رہ سکتے ہو؟‘
بدونے اطمینان سے جواب دیا ’نہیں‘۔ خوشی دو طرح سے حاصل کی جاسکتی ہے یا اسے ڈھونڈا جائے یا اسے Create کرلیا جائے۔ ہمارے ہاں پہلا طریقہ زیادہ رائج ہے۔ لوگ خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا، دوست، رشتہ دار جہاں سے بھی خوشی ملتی ہے وہاں تھوڑی دیر کیلئے رک جاتے ہیں لیکن بہت جلد اُکتا بھی جاتے ہیں اور پھر سے کسی نئی خوشی کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ خوشی Create کرنے والوں کو اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا پڑتا۔وہ پھانسی کے پھندے پر بھی مسکراہٹ کشید کرنا جانتے ہیں۔ ہم سب کسی نہ کسی ایسے مسئلے میں ضرور پھنسے ہوئے ہیں جو ہمارے لیے روگ بن چکا ہے۔
ہر گھر کے، ہر فرد کے مسائل مختلف ہیں۔ہر بندہ اِن سے نکلنے کی تدبیرتو کر رہا ہے لیکن اس عمل کے دوران اکثر خود ایک مسئلہ بن جاتاہے۔یہی کام نہیں ہونے دینا۔ خود کو پرسکون رکھنے کیلئے سب سے بہترین ٹانک مسکراہٹ ہے۔ قہقہہ تاک کر لگایا جائے تو غموں کے دِل میں جاکر پیوست ہوتاہے۔
یہیں سے مسائل کا حل ملتا ہے۔ نہ بھی ملے تو اِنہیں جھیلنے کا حوصلہ ضرور مل جاتا ہے۔ہر کوئی ہنسناچاہتا ہے، قہقہے لگانا چاہتاہے لیکن کچھ اپنی ظاہری سنجیدگی کے باعث مجبور ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ وہ جتنے مدبر نظر آئیں گے اُتنے ہی رعب دار لگیں گے۔اِن دونوں اقسام کے لوگ بھی قہقہے لگاتے ہیں لیکن تنہائی میں۔اِن کی تنہائی ان کی محفل سے زیادہ خوشگوار ہوتی ہے۔جولوگ ہنس نہیں سکتے وہ رونے کی نعمت سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
آ جکل افسانوں کی ایک کتاب پڑھ رہا ہوں اور سرپیٹ رہا ہوں۔یہ کتاب جدید دور کے ایک مصنف نے لکھی ہے۔ ساری کتاب ِمصنف کے خود ساختہ فلسفیانہ جملوں سے بھری ہوئی ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ اسے ’افسانے‘ کہنے کی کیاضرور ت تھی اوربھی کئی نام رکھے جاسکتے تھے مثلاً’سوچنے والی باتیں، اچھی باتیں، دردبھری باتیں‘ وغیرہ وغیرہ۔حرام ہے جو کسی افسانے کا کوئی سر پیر نظر آئے۔ کہانی ڈھونڈتا ہوں تو طنز یا درد میں ڈوبی لائنوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔جو لوگ بیانیہ افسانہ نہیں لکھ سکتے انہیں علامت اور تجرید کے تجربات بھی نہیں کرنے چاہئیں۔افسانہ تو قاری کو ساتھ ساتھ لے کر چلتاہے، کہانی قاری کی انگلی پکڑ کر دریا پار کرواتی ہے۔سچ پوچھیں تو آج کے دور میں جن افسانہ نگاروں کے ہاں دل میں اترجانے والی کہانی ملتی ہے اُن میں سجاد جہانیہ کا نام سرفہرست ہے۔ سجاد جہانیہ میرے ملتان کے دور کے دوست ہیں۔کیا کمال کی تحریر لکھتے ہیں۔ الفاظ میں ایسی روانی کہ قاری اردگرد سے بے خبر ہوجائے۔ ان کی یہ تین کتابیں اگر ہوسکے تو ڈاکامار کے بھی حاصل کرلیں ’کہانی پوچھی ہے، ٹاہلی والا لیٹر باکس اورادھوری کہانیاں‘۔اِن کہانیوں میں آپ کو ماضی حال مستقبل کی الٹی تصویر ملے گی۔ کہانی کو بند ِقبا کی طرح کیسے کھولا جاتاہے یہ سجاد جہانیہ کا کمال ہے۔اچھا شعر اور اچھی کہانی تحیر پیدا کرتی ہے،سوچ کو مہمیز کرتی ہے،چونکاتی ہےمگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ۔یہ جو میں اذیت ناک کتاب پڑھ رہا ہوں اس کی بے ربطی کو فلیپ نگاروں نے افسانہ نگار کے قلم کا کمال قرار دیا ہے۔ایک نے تو لکھا کہ یہ کتاب قاری کو بہترین ذہنی ورزش کی طرف مائل کرتی ہے۔بالکل ٹھیک لکھا۔کل سے میں اتنی ذہنی ورزش کر چکا ہوں کہ میرے دماغ کے اندر ڈولے بن گئے ہیں۔