• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیکھنے والوں نے کیا کیا نہیں دیکھا ہو گا؟ دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ قائداعظم نے بلوچستان کو محبوب ترین صوبہ قرار دیا انہوں نے فرمایا بلوچستان بہادر اور حریت پسند لوگوں کی سر زمین ہے انکا دل بلوچستان کی محبت میں اس قدر رقصاں رہا کہ شدید علالت کے دوران انہوں نے زندگی کے آخری ایام اپنے محبوب بلوچستان میں بتائے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہوگا کہ 1920ء کی دہائی ہی سے وہ بلوچستان کے حقوق کی خاطر سر گرم ہوگئے 1929ء میں پیش کئے گئے چودہ نکات میں بھی انہوں نے بلوچستان کیلئے امید افزاصدائیں بلند کیں، بلوچستان کو صوبائی ا ختیارات دلوانے کی خاطر 1932ء میں انہو ں نے مر کزی اسمبلی میں تحریک پیش کروائی جسے اگرچہ رد کر دیا گیا مگر آنیوالی سحر کیساتھ ایک نیا آسمان انہیں سلام کر رہات ھا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہو گا 1943ء میں کوئٹہ میں منعقدہ مسلم لیگ کے اجلاس میں بلوچوں نے اپنے محسن قائد کی راہوں میں دل بچھا دیئے اور سبی جنکشن پر قائد اعظم کااس قدر فقید المثال استقبال کیا کہ انہیں 21توپوں کی سلامی دی جو اس زمانے میں صرف وائسرائے ہند کو ہی دی جاتی تھی ، قائداعظم نے اسی سال مسلم فیڈریشن کی بنیاد ڈالی جس نے وطن عزیزکے قیام کی خاطر سردھڑ کی بازی لگادی وہ اپنی لاڈلی بہن فاطمہ جناح کے ہمراہ 1945 میں بلو چستان تشریف لائے اور وہاں پانچ روز قیام کیا وہ جس پلیٹ فارم پر پہنچتے بلوچوں کی وفا اور محبت و عقیدت اوجِ کمال کو چھونے لگتی۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہو گاجب قائد اعظم سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد محمد عیسیٰ کے سبزہ زار پہنچے تووہاں بلو چی نوجوانوں کی کثیر تعداد نے ان کا عا لیشان استقبال کیا اور ایک بلوچی نوجوان فتح محمد نے قائداعظم کے سا منے ایک خاکہ پیش کیا جس میں پاکستان کا نقشہ مر تب کیا گیا تھا اور مشرقی و مغربی پاکستان کو ایک شاہراہ ملا رہی تھی جس کو نام شاہراہ قائد اعظم دیا گیا تھا اس نقشے کو دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئے اور فرمایا جس پاکستان کا میں مطالبہ کر رہا ہوں ہندو اورکانگریس اس کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں اوربلوچی نوجوانوں نے اس میں شاہراہ قائد اعظم کا اضافہ کر دیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہو گا کہ قائداعظم کی رحلت کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی پاکستان اندھیروں کی نذر ہوگیا اور بلو چستان میں کیا سے کیا ہوتا رہا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا ہو گا کہ 1973ء میں ذوالفقار علی بھٹو نےBPLF کی حکومت کو ختم کرکے اس آگ کو ہوا دی جو آج تک دہک رہی ہے جسکی وجہ بلوچستان سے عراق ایمبیسی میں ہتھیاروں کی تر سیل بتائی گئی چنانچہ BPLF کو ختم کر کے سردار بگٹی کو گورنر لگادیا گیا یہیں سے سرکشی کا کھیل شروع ہوا ناراض بلوچ پہاڑوں پر چڑھ گئے جن کی سرکو بی کا ہدف جنرل ٹکاخان کو ہدف سونپا گیا تقریبا ً ایک لاکھ فو ج بلوچستان میں تعینات کی گئی بعد ازاں1977میں جب مارشل لاء لگا اور جنرل ضیاء الحق کی حکو مت آئی تو انہوں نے جنرل عبدالرحیم کو ناراض بلوچوں سے مفاہمت کیلئے بھیجا عطاء اللّٰہ مینگل اور خیربخش مری کو وطن واپس بلایا گیا،بلوچوں کو ایک ایمنسٹی کے ذریعے امید نو دلائی گئی چنانچہ پہاڑوں پر جانے والے لوگ واپس آگئے انہی لوگوں نے پاکستان کا نعرہ لگایا اوربعدازاں وہ بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ تک پہنچے ۔حالیہ دنوں میں آل پاکستان کیمسٹ ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے چیئرمین پروفیسر اسحاق میو کی سرپرستی میں اس ناچیزکو دی نیشنل جرنلسٹ ایوارڈ سے نوازنے کیلئے ایک شاندار تقریب کاانعقاد کیاجسکی صدارت سابق وفاقی وزیر و ممبر قومی اسمبلی اعجاز الحق نے کی او رمہمانِ خصوصی کے فرائض پاکستان کے نامور صحافی سہیل وڑائچ نے اداکیے ۔

اعجاز الحق نے اپنی تقریر کے دوران جس گہرے دکھ کا باربار اظہارکیا وہ بلوچستان کے بگڑتے ہوے حالات تھے اور لاہور میں ہونے والی عاصمہ جہانگیر کی برسی کی تقریب میں سردار اختر مینگل کے ترکش سے نکلے ہوئے زہرآلودہ تیر ادھر تم ادھرہم نے وطن عظیم کی گھائل روح پر 58 برسوں پہلے لگنے والے گہرے گھاؤ چھید ڈالے۔ اخترمینگل کی حب الوطنی کے اعلیٰ ذوق اوران کے اس زہریلے نعرے پر تالیاں بجانے والوں پر صرف ماتم نہیں بلکہ مرثیہ پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔ اختر مینگل صاحب تاریخ کا وہ خونیں باب ضرور دیکھیں کہ اس دھرتی کے حصول کے لیے لہوکی ندیوں میں ڈبکیاں لینے والوں میں کثیر تعداد پنجابیوں کی تھی حالیہ دنوں میں بلوچستان سے موت کی سیج پر آنے والے 5000 پنجابیوں کی لاشیں، کیا یہ ظلم اتفاقیہ تھا اس گہرے درد پرہم نے ہونٹ سی لئے کسی بلوچی کو بددعا تک نہیں دی۔ میں راجپوت قبیلے سے ہوں تاریخ شاہد ہے پاکستان کے لیے کھیلی گئی خون کی ہولی میں گر دنیں کٹوانے والو ں میں بڑی تعداد میرے قبیلے کے افراد کی تھی مگر ہم نے تو کبھی کسی کے رونے نہیں روئے ،ہم خاموشی سے اس صبح نو کے انتظار میں ہیں جو ضرور جلوہ گرہوگی ۔پہاڑوں پر چڑھنا مسلح گروہوں کو تشکیل دے کر اس افواج کے خلاف بارودسلگاناجوطاغوتی طاقتوں کے نشانے پر ہے کہاں کی وطن پرستی ہے ؟بلوچستان میں غربت کی شرح47 فیصد ہے اور 69 فیصد بچے اسکول میں داخل نہیں ہوپاتے جس کا ہمیں ادراک ہے مگر کیا اس کا ذمہ دار آپ کا وڈیراشاہی نظام نہیں ؟ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں وفاق کی طرف سے جاری کردہ رقم کابڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، صحت اور تعلیم کے انفراسٹرکچر کو کس نے تباہ کیا؟ لسانی اور صوبائی تعصب کے بارود میں آگ کس نے سلگائی؟ مسلح گروہوں کی تشکیل کہاں سے ہوئی؟ ہماری ضد اور بے ڈھب انا نے وطنِ عزیزکے بخیے ادھیڑڈالے۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ ذاتی اناؤں بے جانفرتوں اورکدورتوں کوپس پشت ڈال کر جس روزہم ایک ہو گئے بالیقیں اس روز دھرتی کے مکینوں پر ہن برسے گا لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم سندھی،بلوچی،پشتون اورپنجابی ہونے پر پاکستانی ہونے کومقدم جانیں گے۔

تازہ ترین