• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی فوج میں بھرتی کی عمر 42 سال تک بڑھانے کی وجہ سامنے آ گئی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی فوج نے بھرتی کے قوانین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 35 سے بڑھا کر 42 سال کر دی ہے، یہ نیا قانون آج سے نافذ العمل ہو گیا ہے اور اس کا اطلاق باقاعدہ فوج، ریزرو اور نیشنل گارڈ پر ہو گا۔

امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد بھرتی کے لیے اہل افراد کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ گزشتہ برسوں میں فوج کو بھرتی کے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، اگرچہ 2024ء اور 2025ء میں اہداف پورے کر لیے گئے تھے لیکن 2022ء اور 2023ء میں فوج بالترتیب 25 فیصد اور 23 فیصد کمی کا شکار رہی۔

نئے قوانین کے تحت معمولی نوعیت کے منشیات سے متعلق جرائم پر بھرتی کے لیے رعایت لینے کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے جس سے مزید افراد کو موقع ملے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں فوج میں شامل ہونے کا رجحان کم ہو رہا ہے جس کی وجوہات میں زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کا خوف، ذہنی دباؤ، خاندان سے دوری اور دیگر پیشہ ورانہ مواقع شامل ہیں۔

اس کے علاوہ موٹاپا، منشیات کا استعمال اور ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق نئے بھرتی ہونے والوں کی اوسط عمر بڑھ کر 22.7 سال ہو گئی ہے جبکہ پہلے یہ 21 سال کے قریب تھی۔

فوج نے اس فیصلے کو کسی حالیہ جنگی صورتِحال سے جوڑنے کی تردید کی ہے تاہم سوشل میڈیا پر اس نئے قانون کے نفاذ کے وقت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

امریکی فوج میں اس وقت تقریباً 1.32 ملین فعال اہلکار موجود ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد بری فوج کی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید