میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ آج کے بعد میں جنگ کے موضوع پر بالکل نہیں لکھو ں گا۔ کل گاڑی کے ٹائروں کی ہوا چیک کروانی تھی دکاندار نے مجھے دیکھتے ہی منہ بنایا اور ایک سوال کیا’آپ کو بخار ہو تو آپ کس کے پاس جاتے ہیں؟‘ میں نے کہا ’ڈاکٹر کے پاس‘۔ یہ سن کر اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی’کسی بریانی والے کے پاس کیوں نہیں جاتے؟‘۔
میں نے گڑبڑا کر کہا’کیونکہ بریانی والا تو ڈاکٹر نہیں ہوتا‘۔ اس پر اُس کی باچھیں کھل گئیں ، چہک کر بولا’تو آپ کو بھی جنگی موضوعات پر کالم نہیں لکھنے چاہئیں بلکہ بات بھی نہیں کرنی چاہیے،آپ کو ن سا کوئی دفاعی تجزیہ کار ہیں‘۔ اس کے جملے میں وزن تھا اس لیے مجھے بھی احساس ہوا کہ بات تو ٹھیک کررہا ہے۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ آج کے بعدمیں کا لم لکھتے ہوئے خاص طور پر خیال رکھوں گا کہ دفاعی موضوعات پر کچھ نہ لکھوں۔ اس نے فخر سے اِردگرد بیٹھے دیگر لوگوں کی طرف دیکھا اور باآواز بلند بولا۔
امریکہ نہیں چاہتا کہ ایران مستقبل میں اسرائیل کیلئے کوئی پر ابلم بنے اس لیے اس نے کوشش تو بڑی کی کہ ایران کو ختم کردے لیکن ایران اس کے گلے کی ہڈی بن گیالہٰذا مجبوراً اب امریکہ کو مذاکرات کی طرف آنا پڑ گیا ہے یہ جنگ بند ہوبھی گئی تو کسی بھی وقت دوبارہ چھڑ سکتی ہے کیونکہ جب تک ٹرمپ امریکہ کا صدر ہے تب تک کوئی امریکہ پر اعتبار نہیں کرے گا اور د یکھ لیجئے گا مڈ ٹرم الیکشن میں ٹرمپ کی بینڈ بج جائے گی۔‘یہ کہہ کر اس نے گردن اکڑا کر میری طرف دیکھا۔ میں نے اس کی معاملہ شناسی پر داد دی اور دفاعی موضوعات پر مزید کچھ سوالات کیے جس کا اس نے بھرپور اور تسلی بخش جواب دیا۔
٭ ٭ ٭
ایک دور تھا جب ایم اے اردو کرنے والا لگ بھگ ہر طالبعلم شاعرادیب ہوتا تھا یا بن جاتا تھا۔ کچھ ایم اے صرف نمبروں کے لیے مشہور تھے مثلاً ایم اے پنجابی، ایم اے اکنامکس، ایم اے ہسٹری وغیرہ۔ ان کے بارے میں سب کا دعویٰ تھا کہ یہ ڈگری حاصل کرنے کا بہترین اور آسان ذریعہ ہیں۔ تب سب سے بڑی ڈگری ایم اے ہونا ہی سمجھی جاتی تھی اور جو اس سے بھی آگے جانا چاہتے تھے وہ ایک اور ایم اے کر لیتے تھے۔آپ 90کی دہائی کے کسی بہت زیادہ پڑھے لکھے بندے سے ملیں تو اس نے ٹرپل ایم اے کیا ہوگا۔ بچپن میں مجھے لگتا تھا کہ ڈبل ایم اے کا مطلب ہے کہ ایک ایم اے کرنے کے بعد دوبارہ کچی میں داخلہ لے کر سولہ جماعتوں تک پڑھنا۔
بعد میں پتا چلا کہ ایک ایم اے کے بعد راستہ ہموار ہوجاتاہے اور اگلا ایم اے سمجھو جیب میں پڑا ہے۔اب دنیا ایم فل کرتی ہے، پی ایچ ڈی کرتی ہے اور نام کے ساتھ ڈاکٹر لگ جاتاہے۔اس کا معاشرے کو کوئی فائدہ ہونہ ہو خود ’ڈاکٹر‘ کو بہت فائدہ ہوتاہے۔ اچھی نوکری مل جاتی ہے اور ڈاکٹر کا سابقہ لگانے سے رعب بھی پڑتا ہے۔آپ موجودہ دور کے پی ایچ ڈیز سے تھوڑی دیرکیلئے گفتگو کر کے دیکھیں تو 90فیصد اپنے ہی لکھے ہوئے مقالے سے نابلد ہوتے ہیں۔ان کی ریسرچ کسی اور کی ریسرچ کا نچوڑ ہوتی ہے لیکن ان کا مقالہ دیکھیں تو دہشت طاری ہوجاتی ہے اور بندہ سوچنے پر مجبور ہوجاتاہے کہ ایسی ضخیم ریسرچ کرنے والا کتنا ذہین ہوگا۔یونیورسٹیاں بھری پڑی ہیں ایسے فطین ’ڈاکٹرز‘ سے جنہیں صرف اس بات پر فخر ہے کہ اُن کے ہاتھوں کتنے طالبعلم پاس ہوئے۔
یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طالبعلم بھی ایسے ہیں کہ شوق ایکٹنگ کا ہوتاہے، داخلہ آئی ٹی میں لیتے ہیں اور بعدمیں والد صاحب کی اسپیئر پارٹس کی دکان سنبھال لیتے ہیں۔
یونیورسٹیوں میں بیسیوں ڈپارٹمنٹس ہوتے ہیں لیکن ذرا پوچھ کے تو دیکھیں کہ کیا اِن ڈپارٹمنٹس میں پڑھنے والے طلباء متعلقہ شعبے کا شوق بھی رکھتے ہیں یا انہیں صرف ڈگری چاہیے۔جو چند ایک دانے اچھے نکلتے ہیں وہ بھی یونیورسٹی کی تعلیم سے نہیں پریکٹیکل سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
تابش ہاشمی بہت اچھے آرٹسٹ ہیں اور مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔گزشتہ دنوں انہوں نے ایران امریکہ ثالثی پر پاکستان کے کردار پر جملہ کسا جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہم محلے کے اُن لفنٹروں کی طرح ہیں جن کی جیبیں خالی ہوتی ہیں لیکن وہ محلے کے لوگوں میں صلح کرواتے پھرتے ہیں۔بصد معذرت! ہمیں کیوں لگتاہے کہ ہمارے علاوہ دنیا کا ہر ملک اطمینان، سکون اور بہترین زندگی انجوائے کر رہاہے۔
مسائل ہر ملک میں اورہمیشہ رہتے ہیں اور انہیں حل کرنے کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ مسائل کی نوعیت ہرجگہ مختلف ہوتی ہے۔ رہی بات ثالثی کی تو اس کیلئے یہ کوئی شرط نہیں ہوتی کہ مالداربندہ ہی ثالثی کرائے۔ثالث بننے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ آپ کے تعلقات دونوں فریقین کے ساتھ اچھے ہوں۔پاکستان کوئی جدی پشتی ثالث نہیں۔ اس ثالثی میں ہر ملک کا مفاد وابستہ ہے۔کیا ہم نہیں چاہتے کہ تیل سستا ہو، لوڈشیڈنگ ختم ہو، ایل این جی پرانی قیمتوں پر واپس آئے؟ اس کیلئےاگر دو ملکوں کے درمیان صلح ہو جائے تو کیا یہ کوشش نہیں کرنی چاہئے؟سڑک پردو گاڑی والوں کی لڑائی ہوجائے تو پوری روڈ بلاک ہوجاتی ہے۔ایسے میں کچھ لوگ سامنے آتے ہیں جو بہرحال دونوں فریقین کو سمجھا بجھا کر راستہ کلیئر کرتے ہیں تاکہ خود بھی اپنی گاڑی نکال سکیں۔یہ لفنٹربھی ہوں تو اُس وقت لفنٹر نہیں ہوتے بلکہ اپنا اور دوسروں کا خیال کر رہے ہوتے ہیں۔
اگر کسی نے ہمیں عزت کے قابل سمجھا ہے توہمیں خود بھی اپنی عزت کرنی چاہیے۔جملے بازیوں کیلئے اور بہت سے موضوعات ہیں جن پر تھوڑی سی محنت کی جائے تو اچھا جملہ نکل سکتا ہے۔ہمارا مسئلہ پاکستان نہیں ہماری پارٹیاں ہیں۔ یہی کام ہماری پسندیدہ پارٹی کے دور میں ہورہا ہوتا تو واہ واہ کا شور سننے والا ہوتا۔ اٹھا کر دیکھ لیجئے پچھلے بیس برسوں کی تاریخ۔