جہالت کا علاج موجود ہے مگر انسان کے ’ڈ نگر پن‘ کا کوئی علاج نہیں۔ جب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ڈنکے بجنا شروع ہوئے ہیں، تب سے ’شریکوں‘ کو آگ لگی ہوئی ہے اور اِن میں اپنے پیٹی بند بھائی بھی شامل ہیں۔ انہیں یہ بات کیسے ہضم ہو کہ سرکار کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کرے؟ یہ اُن کے بیانیے کی شکست ہوگی۔ اِسلئے اب انہوں نے فائل پر ایک نیا اعتراض لگایا ہے۔ خارجہ پالیسی پر تو چونکہ انڈیا بھی انگاروں پر لوٹ رہا ہے اِسلئے انہوں نے خارجہ پالیسی کو چھوڑ کر توجہ گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ پر کر دی ہے۔ چٹکلے بنائے جا رہے ہیں کہ پٹرول کی جگہ خارجہ پالیسی موٹرسائیکل میں بھر کر چلائیں، بجلی کی جگہ خارجہ پالیسی کا پنکھا ہلائیں، وغیرہ۔ جس طرح خارجہ پالیسی میں پاکستان کے دس میں سے دس نمبر ہیں اُسی طرح اِس طنز کے بھی پورے نمبر ہیں مگر انہیں پورے نمبر دینے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اِن کا رانجھا راضی نہیں کیا جا سکتا۔ آج اگر ملک میں سونا بھی دریافت ہو جائے اور عوام میں مفت تقسیم کر دیا جائے تو بھی یہ طبقہ مطمئن نہیں ہوگا، یہ لوگ اُس میں سے بھی کوئی نہ کوئی ’پخ‘ نکال کر کہیں گے کہ فلاں بندے کو سونے کا راڈ دیا گیا ہے جبکہ مجھے اینٹ ملی ہے، یہ دھاندلی ہے۔ یہ لکھتے ہوئے یونہی اچانک مجھے خیال آیا ہے کہ اگر ملک میں سچ مچ تیل نکل آئے تو کیا ہوگا؟
آپ کو ریمنڈ ڈیوس تو یاد ہوگا جس نے 2011 میں لاہور میں دو نوجوانوں کو قتل کیا تھا۔ گو کہ اُس پر مقدمہ چلایا گیا تھا مگر مقتولین کے ورثا نے ریمنڈ ڈیوس کو معاف کر دیا تھا اور دیّت میں دس دس کروڑ روپے کی رقم حاصل کی تھی جو آج کے حساب سے 65 کروڑ سے زیادہ بنتے ہیں۔ یہ رقم دونوں خاندانوں میں برابر تقسیم کی گئی۔ اگر اِس رقم کو دانشمندی سے استعمال کیا جاتا تو آج مقتولین کے گھر والے عیاشی کی زندگی گزار رہے ہوتے مگر اُنکے ورثا نے آپس میں ہی لڑ جھگڑ کر سب کچھ برباد کر ڈالا، کوئی نہیں جانتا کہ آج وہ سب کہاں ہیں، کس حال میں ہیں۔ انگریزی میں اِس کیلئے Sudden Wealth Syndrome یعنی ناگہانی دولت کا عارضہ کی اصطلاح ا ستعمال کی جاتی ہے۔ اِسکی بہترین مثال وہ لوگ ہیں جو لاٹری جیتنے کے باوجود کنگال ہو جاتے ہیں۔ 1988 ءمیں ولیم پوسٹ نامی ایک شخص کی 16 ملین ڈالر کی لاٹری نکلی مگر انعام جیتنے کے محض ایک سال کے اندر ہی وہ دس لاکھ ڈالر کا مقروض ہو گیا۔ اُس نے عالیشان محلات اور کشتیوں (خیال رہے یہ لفظ کاف سے ہے گاف سے نہیں) پر بے دریغ پیسہ اڑایا اور بالآخر وہ دیوالیہ ہو گیا۔ قرض کی وصولی کیلئے آنیوالے ایک شخص پر فائرنگ کرنے کے جرم میں اسے جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ 2006 میں اپنی وفات سے قبل، اُس نے اپنی زندگی کے آخری سال نہایت کسمپرسی میں 450ڈالر ماہانہ کے سوشل سکیورٹی معذوری الاؤنس اور راشن پر گزارے۔ ایسی اَن گِنت مثالیں اور بھی مل جائیں گی۔
یہ مثالیں قوموں پر بھی منطبق ہوتی ہیں۔ افریقی ممالک کا یہی رونا ہے۔ اربوں ڈالر کی امداد اِن ممالک کو دی گئی مگر غربت ختم نہیں ہوئی کیونکہ یہ پیسہ جس قسم کے فرسودہ نظام میں ڈالا گیا اُس کا نتیجہ صفر ہی نکلنا تھا۔ افریقی ممالک کو ادارے اور نظام بنانے کی ضرورت تھی۔ کھوکھلے نظام میں اگر پیسہ ڈالا جائے تو وہ برہنہ طاقت بن جاتا ہے اور طا قت کسی کو جوابدہ نہیں ہوتی، عوام کو تو بالکل نہیں۔ اسی لیے افریقی ممالک کی امدادعوام کیلئے اُلٹا عذاب بن گئی۔ اس کے برعکس دو عظیم جنگوں کی بربادی کے باوجود یورپ نے تیزی سے ترقی کی کیونکہ وہاں نظام موجود تھا، عدالتیں کام کر رہی تھیں، قانون کی حکمرانی کا رواج تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کو جب ڈالر ملے تو اُس کی تعمیر نو تیزی سے ہوئی، یہ بنیادی فرق ہے افریقہ اور یورپ میں۔ اِدھر ہمارا مسئلہ بھی فرسودہ نظام کا ہے، ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ جس طرح غریب آدمی کیلئے پیسہ ہی ہر مسئلے کا حال ہے بِعَینہ غریب ملک کے مسائل کا حل بھی ڈالروں میں پوشیدہ ہے۔ اسی لیے آج جب ہماری خارجہ پالیسی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے تو ہم جھٹ سے سوال پوچھتے ہیں کہ اِس ثالثی کے نتیجے میں ہمیں کتنے ارب ڈالر ملیں گے۔ حالانکہ آج اگر ہمیں تیس ارب ڈالر بھی مل جائیں تو ہمارا مسئلہ ختم نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے وہ نظام ہی نہیں تشکیل دیا جو اُن ڈالروں کا درست استعمال کرکے ملک کو معاشی گرداب سے نکال سکے۔ اور نظام لوگوں میں مفت راشن، انکم سپورٹ کارڈ، پٹرول یا رمضان پیکیج تقسیم کرنے کا نام نہیں، اُلٹا اِس قسم کی پالیسیاں لوگوں میں حکومت پر انحصار کرنے کی عادت ڈالتی ہیں اور انہیں ہر وقت اِس بات کا انتظار رہتا ہے کہ کب حکومت یا مخیر شخص یا رفاحی ادارے اُن کیلئے مفت اشیا فراہم کریں گے۔ بے شک انتہائی غریب شخص کو سب سے پہلے روٹی ہی دینی چاہیے لیکن یہ روٹی اسے خود بخود مل جائے گی اگر معیشت کا پہیہ چلنے لگے گا اور اِس کیلئے ضرورت ہے ایک ٹھوس نظام کی جس میں قانون کی حکمرانی ہو، عدالتیں صحیح معنوں میں مجبور، لاچار اور بے کس شہریوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور حکمران عوام کو جوابدہ ہوں۔ یہ سب کیسے ہوگا، یورپ میں کیسے ہوا، ہم کب اِس قابل ہوں گے....اِس موضوع پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔
قطع نظر اِن حقائق سے، یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہم نے خارجہ پالیسی کا پرچہ امتیازی نمبروں سے پاس کیا ہے۔ جس بھارت نے گزشتہ چالیس برسوں میں کروڑوں ڈالر پاکستان کو بدنام کرنے میں خرچ کیے، وہ بھارت اِس وقت اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ پاکستان نے دو ہفتوں میں اُسکی چالیس سال کی محنت خاک میں ملا دی ہے۔ جو عزت پاکستان نے کمائی ہے، قومیں اِس کیلئے پیسے لٹانے کیلئے تیار رہتی ہیں۔ اب اگر ہماری قوم میں سے کوئی اِس کامیابی کا تمسخر اڑاتا ہے تو نرم سے نرم الفاظ میں بھی اسے بے غیرت کہا جائے گا۔ رہی بات معیشت کی تو اُس کا پرچہ ہم نے علیحدہ سے حل کرنا ہے، اُس کا خارجہ پالیسی سے براہ راست تعلق نہیں۔ ہاں، ہماری ساکھ بہتر ہوئی ہے، اُس کا فائدہ ہوگا مگر غربت کے منحوس گھن چکر سے نکلنےکیلئے ہمیں اُسی طرح کوئی تعویذ، دھاگا یا دَم کروانا ہوگا جیسے ہم نے خارجہ پالیسی میں کروایا ہے۔ لیکن فقط دَم بھی کافی نہیں۔ ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ اُس کے بچہ نہیں ہوتا، کوئی تعویذ دے دیں۔ پیر صاحب نے تعویذ بھی دیا اور دَم بھی کر دیا مگر ساتھ ہی کہا کہ بی بی صرف تعویذ دھاگے پہ ہی قناعت نہ کرنا، خود بھی کچھ ہل جل کرنا۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔