• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ لکھے گی کہ یہود و نصارہ کی امت مسلمہ کے خلاف جنگ میں کون فتحیاب ہوا اور رب العزت نے کس کے نصیب میں عزت اور کس کے لئے ذلت و رسوائی لکھی۔سول ملٹری لیڈرشپ کے Combination نے تاریخ کو نئی جہت دی اور فتوحات کے کئی ابواب کا اضافہ کیا جو اسلامی امہ کے لئے باعث فخر، امن پسند ممالک کے لئے باعث راحت و تسکین بنے اور پاکستان کو بدترین تنزلی کے اندھروں سے نکال کر خود انحصاری، ترقی، خوشحالی اور عزت کے دروازے کھولنے کے اسباب اور وسائل پیدا کئے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی ایران-امریکہ جنگ کے بعد امن کے مستقل قیام کے لئے پاکستان ایک غیر متوقع مگر مرکزی ثالث کے طور پر سامنے آیا، جس نے جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔رب العزت نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام دینے اور عسکری طاقت منوانے اور عزت و آبرو سے مالا مال کیا۔ پاکستان کو اپنے مثبت رویے اور بہتر فارن پالیسی کی بنیاد پر ایران-امریکہ جنگی بحران میں غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا جو انڈیا، اسرائیل کے سوائے پوری دنیا کے لئے قابل قبول ہے۔ ایک وہ ہے جو قرآن حکیم سے راستہ پوچھتا ہے اور رب عظیم کی اطلاعت کرتا ہے اور اسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے اور کامرانی کی منزل پاتا ہے اور ایک وہ تھا جو قومی حمیت، وقار اور شرم و حیا کو روندتے ہوئے بھارت اور اسرائیل کی گود میں بیٹھ کر فوج کے خلاف ہرزہ سرائی، فوجی تنصیبات پر حملوں، پاکستان کے لئے جانیں قربان کرنے والوں کی توہین و تذلیل کرنے اور ماں کا درجہ رکھنے والے پاکستان کو گالیاں دینے اور ملک کو دنیا میں بدنام دہشتگرد ملک ثابت کرنے کے لئے دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کا مشن پورا کرنے کی کوششوں میںرہا لیکن شرمسار ہوا۔رب العزت کے قبضۂ قدرت میں عروج و زوال اور عزت اور ذلت ہے- اپنے رب سے رہنمائی حاصل کرنے اور قرآن کریم سے مشاورت کرنے والے کے لئے فتح و کامرانی کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ملک کا دشمن ہزیمت، شکست اور شرمندگی کے ساتھ قدموں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کی فوج کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والوں میں اسرائیل اورانڈیا کے علاوہ جیفری ایپسٹین کے ’’ہم خصلت دوست‘‘ عمران خان ہیں۔جبکہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے والے غازی کا نام نغموں اور قصیدوں کی صورت میں آج ایران کے بچے کے لبوں پر ہے۔ایک نغمہ جو ایرانی عوام میں انتہائی مقبول ہے اس کے اردو ترجمہ ان کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ تہران کے دروازے آپ کے لیے کھلے ہیں- رستم کی سر زمین آپ کے قدموں پر پھول نچھاور کرتی ہے-آپ کی آواز دوستی کی سرحدوں تک پہنچ رہی ہے-اے بہادر رہنما یہ نغمہ آپ کے لیے ہے-برادر ملک تم امن کے سفیر بن کے آئے- اتحاد کے آسمان پر تم نے خدا کی روشنی کو پھیلا دیا-تم نے اپنی تلوار سے تقسیم کی دیواریں گرا ڈالیں-تم نے دوستی کے باغ میں نئے پھول کھلا دیے-خوش آمدید تہران، اے میرے کمانڈر، میرے ساتھی- تم اس دھرتی کا سپہ سالار ہو جو مجھے عزیز ہے-اس سرحد کی حفاظت کے لیے تم ہمیشہ میرے ساتھ ہو-اے بہادر بھائی، میرے وقتوں کی امید-ہماری ڈور مضبوط ہے، ایمان کی لہروں سے جڑی ہوئی-ایک طرف لاہور کی شان، دوسری طرف تہران کی عظمت-ہم ایک ہی راستہ کے مسافر ہیں، طوفانوں سے گزرتے ہوئے-ہم ساتھ قدم بڑھاتے ہیں، اپنے عہد کو نبھانے کی راہ میں-خوش آمدید تہران، اے میرے کمانڈر، میرے ساتھی-تم اس دھرتی کا سپہ سالار ہو جو مجھے عزیز ہے-اس سرحد کے تحفظ کے لئے تم ہمیشہ شانہ بشانہ ہو-اے بہادر بھائی، میرے دوستوں کی امید-اقبال کی بلند شاعری ہمارے دلوں میں بستی ہے-دشمن ہماری یکجہتی دیکھ کر اپنے ہی وہم میں لوٹ جاتا ہے-یہ مددگار ہاتھ ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے-نفرت کی زنجیریں ٹوٹ کر بکھر گئی ہیں-اے بہادری کی مثال آپ ہر ایرانی کے دل میں عزت رکھتے ہو-آپ آج بہت خوبصورت پیغام لائے ہیں-وہ پیغام امن اور سلامتی کا ہے-یہ عہد ابدی رہے جب تک وقت بدل جائے-اس گیت میں دھڑکتی دو پاک زمینوں کی محبت ہے-یہ پیار زندہ اور لامحدود ہے- شاہین اور باز ایک ساتھ ہیں-سب سے اونچی چٹان پر ان کا گھونسلہ ہے۔" یہ نغمہ ایران کی گلی گلی میں گونج رہا ہے۔پاکستان کی فوج کے خلاف گندی زبان استعمال کرنے والوں میں اسرائیل اورانڈیا کے علاوہ جیفری ایپسٹین کے’’ہم خصلت دوست‘‘ عمران خان بھی ہیں۔کیا پاکستانی افواج کے خلاف دنیا بھر میں زہریلا پروپیگنڈا کرنے والوں کو شرم محسوس ہو گی جب تاریخ پاکستان افواج نام دنیا کی بہترین جنگجوؤں میں شامل کرے گی جو اپنی عسکری طاقت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔رب عظیم انہیں نظر بد اور’’قوم یوتھ‘‘ سے محفوظ رکھے۔

تازہ ترین