راولپنڈی (عاصم جاوید) شہری سہولیات کیلئے مختص اراضی کی سی ڈی اے کو منتقلی کیلئے نیب اسلام آباد/ راولپنڈی کا اہم قدم، سی ڈی اے اور تحصیلدار کو اہم ہدایات جاری کر دی گئیں۔ ڈی جی نیب وقار احمد چوہان نے سی ڈی اے کو کسی بھی کمیونٹی پلاٹ کی ٹرانسفر ڈیڈ کو بلاوجہ التواء میں نہ رکھنے اور تحصیلدار آئی سی ٹی اویس خان کو انتقالات کی تصدیق، فردات کا جائزہ اور ضروری توثیقی کارروائی فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ مفاد عامہ کیلئے مختص ہزاروں کنال زمین منتقلی کیلئے تیار "چائنا کٹنگ" کی روک تھام کیلئے اقدامات پر اتفاق. ڈی جی نیب نے ہائی رائز منصوبوں کا جائزہ لینے اور امینٹی اراضی سے متعلق بے ضابطگیوں کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔ گذشتہ روز عوامی مفاد، شہری سہولیات کے تحفظ اور قومی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے نیب اسلام آباد/ راولپنڈی میں شہریوں سہولیات کیلئے مختص اراضی کی سی ڈی اے کو منتقلی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان نے کی۔ اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، سی ڈی اے، محکمہ مال اور نجی و کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نمائندگان سمیت نیب کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران عوامی سہولیات کیلئے مختص اراضی کی منتقلی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق عوامی سہولیات کیلئے مختص اراضی اربوں مالیت کا قیمتی قومی اثاثہ ہے جو پارکس، سکولوں، ہسپتالوں، مساجد، قبرستان اور دیگر عوامی سہولیات کیلئے مختص کئے جاتے ہیں۔ ان پلاٹس کی بروقت منتقلی نہ ہونے کے باعث اربوں روپے مالیت کے یہ قومی اثاثے طویل عرصے سے انتظامی پیچیدگیوں کا شکار رہے ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اس اراضی کا بنیادی مقصد رہائشی علاقوں میں پارکس، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے لیکن متعدد ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں یہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بعض سوسائٹیز ایل او پیز کی منظوری کے بعد عوامی سہولت کیلئے مختص اراضی کو غیر قانونی طور پر رہائشی پلاٹس میں تبدیل کر کے یا فائلوں کی صورت میں فروخت کر دیتی ہیں، جس کے باعث شہری سہولیات کی کمی اور مختلف انتظامی و قانونی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اجلاس میں غیر قانونی "چائنا کٹنگ" کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جس کے ذریعے فائلیں تیار کر کے فروخت کی جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں تھرڈ پارٹی انٹرسٹ پیدا ہوتا ہے جس سے پیچیدہ قانونی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اجلاس میں اس عمل کی روک تھام کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اس پورے عمل کا تفصیلی اور جامع جائزہ لیا گیا جبکہ متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کی واضح ہدایات جاری کی گئیں۔ تین بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں منتقلی کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ گلبرگ ریزیڈینشیا، مارگلہ ویو ہاؤسنگ اسکیم اور ٹیلی گراف اینڈ ٹیلی فون ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے نمائندگان نے اجلاس کو بتایا کہ نیب کی ہدایات پر تقریباً سات ہزار کنال زمین کی انتقالی دستاویزات سی ڈی اے سے منظورکروا لئے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ عمل پہلے مرحلے میں ان سوسائٹیوں سے شروع کیا جا رہا ہے جن کی دستاویزات مکمل ہو چکی ہیں جبکہ دوسرے مرحلے میں اسلام آباد کی تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو شامل کیا جائے گا، جن کے ایل او پیز جاری ہو چکے یا زیرِ غور ہیں۔ اس سے اگلے مراحل میں تمام سوسائٹیوں میں فلاحی مقاصد کیلئے مختص زمین کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت کارروائی کو وسعت دی جائے گی۔ ڈی جی نیب وقار احمد چوہان نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ کسی بھی کمیونٹی پلاٹ کی ٹرانسفر ڈیڈ کو بلاوجہ التواء میں نہ رکھا جائے جبکہ تحصیلدار آئی سی ٹی اویس خان کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ انتقالات کی تصدیق، فردات کا جائزہ اور ضروری توثیقی کارروائی فوری طور پر مکمل کریں۔ پہلے سے مکمل شدہ ٹرانسفر ڈیڈز کے ملکیتی اندراج کو یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی الاٹمنٹ یا اراضی کی غیر مجاز منتقلی کا سدباب کیا جا سکے۔ ڈی جی نیب نے مزید ہدایت کی کہ ہائی رائز منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جائے اور اگر ان میں امینٹی اراضی سے متعلق کوئی بے ضابطگیاں موجود ہوں تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی ہدایات پر اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال زمین کی انتقالی دستاو یزا ت پر عملدرآمد آئندہ ہفتے نیب دفتر میں کیا جائے گا۔