• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر ایٹمی حملہ نہیں کروں گا، جنگ بندی میں تہران نے اگر اسلحہ جمع کیا ہوگا تو اڑا دوں گا، ٹرمپ

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکا کا تیسراطیارہ بردارجہاز مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے جبکہ صدرٹرمپ نے امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے خبردارکیاہے کہ امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے لیکن تہران کے لیےوقت وقت تیزی سے نکلا جا رہا ہے‘ایران پر ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے ‘ہم نے اس کے بغیر ہی انہیں تباہ کردیاہے‘ تہران نے شایدجنگ بندی کے وقفے کے دوران تھوڑا بہت اسلحہ جمع کر لیا ہو لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا ہے تو ہم اسے ایک ہی دن میں اڑا دیں گے‘ایرانی قیادت اختلافات کا شکار ہے ‘ ایرانیوں کو پتہ ہی نہیں ان کا لیڈرکون ہے جبکہ اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹزکا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکا کی اجازت کا منتظر ہے‘ ایران کو پتھر کے دور میں بھیج دیں گے‘ادھرایرانی میڈیا نے تہران میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے تاہم اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ان کا ملک فی الحال ایران پر حملے نہیں کر رہا‘ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر کے پیچھے متحد رہنے کا عہد کرتے واضح کیاکہ جارح کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے گاجبکہ ایران کے رہبراعلیٰ مجتبیٰ خامنہ کا کہنا ہے کہ دشمن کی میڈیا مہم ہمارے اتحاد کو نشانہ بنا رہی ہے ‘وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ جنگ کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری جارح قوتوں پر عائد ہوگی‘خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی اصل وجہ امریکی اوراسرائیلی جارحیت ہے۔ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی کا کہنا ہے کہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے جبکہ اعداد و شمار فراہم کرنے والی فرم ورٹیکسا کے مطابق ناکہ بندی کے باوجود13سے 21اپریل کے دوران ایران نے اس علاقے سے 10.7ملین بیرل تیل برآمد کیا۔ ایران نے جمعرات کو آبنائے ہرمز پر اپنی مضبوط گرفت کا مظاہرہ کرنے والی ایک ویڈیو جاری کی جس میں اس کے کمانڈوز کوبحری جہازوں پر چڑھ کر قبضہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے بدھ کوان دونوں جہازوں کو بغیر اجازت آبنائے عبور کرنے کی کوشش پر قبضے میں لیا تھا۔ادھر واشنگٹن نے بھی جمعرات کو بحر ہند میں ایک اور ٹینکر میجسٹک کو روکا ہےجس کے بارے میں دعویٰ کیاجارہاہے وہ ایران سے 20لاکھ بیرل تیل لیکر جارہاتھا۔خلیج میںجنگ کے باعث دبئی‘ دوحا اور ابوظبی سمیت مشرقِ وسطیٰ کے بڑے ہوائی مراکز بند ہونے کی وجہ سےدنیابھر میں پروازیں بدستور متاثر ہیں ۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پر ٹرمپ کا کہنا تھاکہ میرے پاس دنیا کا تمام وقت ہے لیکن ایران کے پاس نہیں ‘وقت نکلا جا رہا ہے!۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ان کے لیڈر اب ہمارے ساتھ نہیں رہے‘ناکہ بندی سخت اور مضبوط ہے اور یہاں سے حالات صرف بدتر ہی ہوں گے۔علا وہ ازیں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدرکا کہناتھاکہ وہ ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے ‘ایران کی بحریہ ‘فضائیہ اورطیارہ شکن نظام ختم ہو چکا ہے ۔ ٹرمپ کا کہنا تھاکہ میں بہترین معاہدہ کرنا چاہتا ہوں ۔ میں ابھی بھی معاہدہ کر سکتا ہوںلیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا‘میں اسے ہمیشہ کے لیےمستقل بنانا چاہتا ہوں۔ٹرمپ کے اس تبصرے کے جواب میں کہ ایرانی قیادت شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، ایران کے صدر‘پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف جسٹس نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک جیسا پیغام پوسٹ کیاجس میں کہاگیاکہ ’’ایک خدا‘ ایک قوم‘ایک لیڈر اور ایک راستہ؛ اور وہ راستہ ہماری جان سے پیارے ایران کی فتح کا راستہ ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر کے پیچھے متحد رہنے کا عہدکرتے واضح کیاکہ جارح کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے گا۔ان کا مزیدکہنا تھاکہ یہاں کوئی سخت گیر یا اعتدال پسند نہیں ہے‘ ہم سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔قبل ازیں ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی تمام کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے‘ کوئی بھی جہاز امریکی بحریہ کی منظوری کے بغیر نہ وہاں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ہی باہر جا سکتا ہے‘جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر وقت کی کوئی قید نہیں‘ انہوں نے دھمکی دی کہ آبی گزرگاہ اس وقت تک بند رہے گی جب تک ایران کوئی معاہدہ نہیں کرتا ۔امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کرنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں‘وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ صدرٹرمپ امن تجاویز کے لیے ایران کو کچھ حد تک نرمی دینے کی پیشکش کر رہے ہیں اور انہوں نے یہ طے نہیں کیا کہ ایران کب تک امن کی تجویز پیش کرے۔ ایک اور پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے بحری جہاز جو تعداد میں 159 ہیں ،پہلے ہی سمندر میں غرق ہو چکے ہیں اور اس کارروائی میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ علاوہ ازیں برطانوی نشریاتی ادارے کو ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدرکا کہنا تھاکہ تہران معاہدے کیلئے بے تاب ہے ‘اس لیے میں جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں یا جو کچھ بھی کر رہا ہوں، اس کے نتائج بظاہر بہت اچھے آ رہے ہیں۔نیٹو کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکا کو ان کی بالکل ضرورت نہیں تھی لیکن انہیں وہاں ہونا چاہیے تھا۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ جنگ میں شامل ہوتے ہیں یا نہیں۔امریکا ہمیشہ سے برطانیہ اور نیٹو کے حق میں رہا ہے‘ٹرمپ نے برطانیہ پر تنقید کی کہ اس نے کم از کم معمولی کوشش اور بہتر الفاظ استعمال نہیں کیے۔ برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں نے ہماری انتظامیہ کو بتایا ہے کہ جنگ میں شامل نہ ہونے کا برطانیہ کا فیصلہ انتہائی برا تھا ۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ ان کا تعلق بحال ہو سکتا ہے اگر وہ نارتھ سی کو کھول دیں اور ان کی امیگریشن پالیسیاں مضبوط ہو جائیں تاہم اگر انہوں نے ایسانہ کیا تو مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس کوئی موقع ہے۔

اہم خبریں سے مزید