قرآن میں اگر آ پ بنی اسرائیل کی داستان پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے ۔ جن لوگوں پہ من و سلویٰ اترتا ہو ، جنہیں سمندر نے پھٹ کر راستہ دیا ہو ، حضرت موسیٰ ؑ جیسا جلیل القدر پیغمبر جن کے درمیان موجود ہو، وہ بچھڑے پہ کیسے ایمان لے آئے ۔ اس کے بعد مگر آپ آج کی اسرائیلی قوم اور ڈونلڈٹرمپ کی حرکتوں کا جائزہ لیں تو یقین آنے لگتا ہے۔جبلتیں کیسے انسان کو دیوانہ کرتی ہیں ؟دنیاکی اعلیٰ یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے لوگ غزہ میں کئی سال سے بمباری کر رہے ہیں ۔ ڈونلڈٹرمپ ایک ارب پتی ، کامیاب کاروباری ہے ، جسے امریکی عوام نے بقید ِ ہوش و حواس اپنا صدر منتخب کیا ۔ دیوانگی کی حالت میں وہ فیصلے صادرکر رہا ہے ۔دنیا اس وقت تیسری عالمگیر جنگ کے دہانے پہ کھڑی ہے ۔ آبنائے ہرمز بند ہے ۔ تیل کی قیمتیں بلند ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ عالمی معیشت داؤ پر لگی ہے ۔ ڈونلڈٹرمپ اور نیتن یاہو مگر اپنی ضد پر ڈٹے ہیں ۔ یہ ہوتی ہے جبلت۔
ایرانیوں کا خیال یہ ہے کہ مذاکرات ایک ڈھونگ ہیں ، امریکہ جنگ کی تیاری کر ررہا ہے ۔آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری ہے ۔ ایرانی جہاز پکڑے جا رہے ہیں ۔ پاکستان نے کوشش تو بہت کی لیکن اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ہمارے لیے سنگین مسائل پید اہو جائیں گے ۔ عالمی سطح پر تیل ، ایل این جی اور کھادکی قیمتیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ تیل کی قیمت اگر 150 ڈالر فی بیرل تک چلی گئی تو پاکستان جیسی معیشتوں کا کیا بنے گا؟ ایرانی جنگ کیلئے تیار ہیں ۔ وہ نہ صرف آبنائے ہرمز سے جہاز نہیں گزرنے دیں گے بلکہ بحیرہ احمرمیں باب المندب بھی بند کر دیں گے ۔ پاکستان اگر ڈیل نہ کرا سکاتو کیا امریکہ پاکستان کے ساتھ گرم جوش تعلقات برقرار رکھے گا یا وہی سلوک کرے گا، جو افغان جنگوں کے خاتمے کے بعد کیا تھا۔
ٹرمپ مسلسل متضاد بیانات دے رہا ہے۔ امریکی فوجی قیادت بھی اپنے صدر سے ناخوش ہے ۔ٹرمپ کبھی کہتے ہیں کہ معاہدہ بس ہونے کو ہے اور اوبامہ سے بہتر معاہدہ ۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہماری شرائط نہ مانیں تو ہم ایران کو اڑا کے رکھ دیں گے۔ایران نے کہا ہے کہ اگر ہم تیل نہیں بیچ سکتے تو مشرقِ وسطیٰ کے باقی ممالک بھی نہیں بیچیں گے ۔ ایرانی چین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس کے مشورے سے فیصلے کر رہے ہیں ۔ یہ سارا بحران کھڑا ہی نہ ہوتا اگر امریکہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد ناکہ بندی ختم کر دیتا۔
دنیا میں امریکی ہیبت تمام ہو رہی ہے ۔ قطر نے تو امریکی اڈے سمیٹنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ جرمنی نے ایرانی ناکہ بندی پر سخت نکتہ چینی کی۔ فرانس ، سپین ، اٹلی اور دوسرے یورپی ممالک امریکہ سے اپنا راستہ الگ کر رہے ہیں ۔ امریکی عوام میں ٹرمپ کی حمایت صرف 37فیصد رہ گئی ہے ۔ نومبر کے امریکی الیکشن قریب ہیں ۔ مصالحت اور فتح ٹرمپ کی ضرورت ہے ۔
اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو دنیا میں بڑی تباہی ہوگی ۔چین اور روس ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ رہیں گے ۔ چینی اپنا غصہ ظاہر تونہیں کر رہے لیکن وہ امریکہ کا مشرقِ وسطیٰ پہ غلبہ برداشت نہیں کر سکتے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔ سعودی عرب جس طرف جائے گا ،بحرین اور کویت اسکےساتھ جائیں گے ۔ عرب ممالک بہت شش و پنج میں ہیں ۔اب تک انہوں نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔ امریکہ چاہتاہے کہ وہ جنگ میں شریک ہو جائیں ۔ دوسری طرف ایران ، روس اور چین کا اتحاد تشکیل پا رہا ہے ۔ امریکہ ایران میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ دنیا بھر کی رائے عامہ اس کے خلاف ہے۔ بیلا روس کے صدر نے کہا: امریکہ نے سارے عالمِ اسلام کو اپنا مخالف بنا لیا ۔
انڈیا میں مودی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ ششی تھرور سمیت بیشتر مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اگرصلح کروا رہا ہےتو ہمیں اس پر اعتراض کیوںہے ؟ انڈیا بہت بری طرح پھنس چکا ہے ۔ روس مسلسل ایرانیوں سے کہہ رہاہے کہ صلح کے فریب میں نہ آئیں ۔ امریکی اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہے ہیں ۔وہ آپ پر حملہ کر دیں گے ۔ ٹرمپ کی حالت ایک ہار ے ہوئے جواری کی سی ہے ، جس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کرے ۔ کبھی کہتاہے ،امن ہو جائیگا۔ کبھی دھمکیاں دیتاہے۔ کبھی کہتاہے،بڑا شاندار سمجھوتہ ہو جائیگا۔ کبھی کہتاہے ایران تباہ ہو جائیگا ۔ادھراسرائیل لبنان کو تباہ و برباد کر رہا ہے ۔ایک اسرائیلی فوجی نے حضرت عیسیٰؑ کا مجسمہ گرا دیا ۔ لبنان میں ایک عیسائی گاؤں تباہ کر دیا گیا۔ عیسائیوں میں رد عمل بڑھ رہا ہے ۔ خود ٹرمپ نے بھی پوپ لیوکے خلاف ایک غیر ضروری محاذ کھولا ۔کب تک ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران جنگ لڑتا رہے گا۔ عوامی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ ایک جواری کی نفسیات سے دوچار ہے ۔ فتح مل نہیں سکتی اور فتح کے بغیر الیکشن جیتا جا نہیں سکتا۔
دنیا اس وقت ٹرمپ اور نیتن یاہوکے رحم و کرم پر ہے۔ عرب ممالک امریکہ کو اڈے دے کر مصیبت میں پھنس گئے ۔ عالمِ اسلام میں یہ احساس ابھر رہاہے کہ اپنا اور حجازِ مقدس کے تحفظ کا کوئی ٹھوس بندوبست کر نا چاہئے۔
یہ حال ہے اس دنیا کا ۔ یہ حال ہے جبلتوں کے عقل پہ غلبے کا ۔ انسان کو اس دنیا میں بستے ہوئے تین لاکھ سال گزر چکے ۔ یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ایٹمی میزائلوں سے لیس ایک دوسرے کو تباہ کر دینا چاہتے ہیں ۔ جبلتیں اس طرح انسان کو دیوانہ کرتی ہیں ۔ شیطان بھی اسی طرح اپنی جبلتوں کے ہاتھوں گمراہ ہو اتھا اور سجدے سے اس نے انکار کر دیا تھا۔ باقی صر ف تفصیلات ہیں ۔