اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی تازہ ترین وارننگ کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جس نے آبنائے ہرمز کے گرد تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے، مہنگائی کے نئے خدشات اور حصص کی منڈیوں (ایکویٹی مارکیٹس) میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام کو جنم دیا ہے،حالیہ پیش رفت کے دوران ایرانی کشتیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو حراست میں لینے اور امریکہ کی طرف سے ایرانی تیل کی ترسیل سے وابستہ ٹینکرز کو قبضے میں لینے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ برینٹ کروڈ (خام تیل) کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے اور انٹرا ڈے اتار چڑھاؤ کے دوران قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد اب یہ 100 سے 103 ڈالر کی حد میں ٹریڈ ہو رہا ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے نے فی بیرل تقریباً 10 سے 20 ڈالر کا ’’جیو پولیٹیکل رسک پریمیم‘‘ شامل کر دیا ہے، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی ترسیل میں ممکنہ تعطل کے خوف کی عکاسی کرتا ہے؛ واضح رہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کے نتیجے میں ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں، دونوں میں مہنگائی کے نئے خدشات جنم لینے لگے ہیں۔ امریکہ میں افراط زر کی شرح فروری کے تقریباً 2.4 فیصد کے مقابلے میں مارچ 2026 میں پہلے ہی 3.3 فیصد تک پہنچ چکی تھی، جبکہ توانائی کے بحران کے ابتدائی مرحلے کے دوران پیٹرول کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر سے اوپر رہیں تو اس سے مہنگائی کی شرح بلند رہ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے فیصلے میں تاخیر کا خدشہ ہے۔ یورپ میں افراط زر کے رجحانات نسبتاً معتدل ہیں لیکن وہاں بھی قیمتوں میں سابقہ گراوٹ کا سلسلہ اب الٹ رہا ہے۔ مثال کے طور پر، فرانس میں مہنگائی کی شرح سال کے آغاز میں 1 فیصد سے کم رہنے کے بعد اب بڑھ کر تقریباً 1.7 فیصد ہو گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا حالیہ اضافہ ہے۔ پورے یوروزون میں، کئی مہینوں کے سکون کے بعد توانائی کی قیمتیں ایک بار پھر مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہیں۔ سرکاری تخمینوں اور مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں افراط زر کا رجحان دوبارہ اوپر کی جانب مائل ہے، جہاں کنزیومر پرائس انڈیکس فروری کے تقریباً 3.0 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2026میں 3.3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان میں، مارچ 2026 میں مہنگائی کی شرح تقریباً 7.3 فیصد تک جا پہنچی ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مہنگائی 12 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ درآمدات پر زیادہ انحصار کی وجہ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر خوراک اور لاجسٹکس (ترسیل) کی لاگت میں منتقل ہو جاتا ہے، جس سے ملکی معیشت عالمی منڈی میں تیل کی نقل و حرکت کے لیے خاصی حساس ہو گئی ہے۔ دوسری جانب بھارت میں، افراطِ زر گزشتہ ماہ کے تقریباً 3.2 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 3.4فیصد ہو گیا ہے، جہاں ایندھن سے جڑی نقل و حمل اور سپلائی چین کی لاگت میں اضافے نے اس میں حصہ ڈالا، تاہم حکومتی سبسڈیز نے مجموعی اثرات کو محدود رکھنے میں مدد دی ہے۔